سوال:
السلام علیکم، میں یوٹیوب سے پیسے کمانے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں۔ میں ایسا مواد بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں جو جائز اور مفید ہو اور جس میں موسیقی یا نامناسب تصاویر شامل نہ ہوں۔ یوٹیوب سے آمدنی ویڈیوز پر لگائے گئے اشتہارات کے ذریعے آتی ہے۔ ان میں سے کچھ اشتہارات ایسے مواد پر مشتمل ہو سکتے ہیں جو جائز نہیں ہیں (جیسے موسیقی یا خواتین کا مناسب حجاب نہ کرنا)۔ میرے پاس یہ کنٹرول نہیں ہے کہ کون سے اشتہارات دکھائے جائیں، کیونکہ وہ پلیٹ فارم کے ذریعے خود بخود بنائے جاتے ہیں۔ نیز، یہ یوٹیوب سے کمائی کا بنیادی طریقہ ہے، اور مجھے اس آمدنی کی ضرورت ہے۔ اس صورت حال میں، کیا ایسے اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال سمجھی جاتی ہے، یا کیا ان اشتہارات کی موجودگی کمائی کی جائزیت پر اثر انداز ہوتی ہے؟ جزاکم اللہ خیرا۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
یوٹیوب سے حلال کمائی کا تعلق آپ کے مواد اور اشتہارات دونوں سے ہے۔ اگر آپ کا خود کا مواد جائز اور مفید ہے، لیکن اشتہارات میں ناجائز چیزیں (موسیقی، بے حجاب خواتین وغیرہ) آتی ہیں، تو اس کا حکم درج ذیل ہے۔
بنیادی اصول
کمائی کی حلت کا انحصار اس ذریعہ پر ہے جس سے آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔ اگر آمدنی کا ذریعہ ناجائز ہے تو وہ کمائی حرام ہوگی۔ یوٹیوب اشتہارات میں اگر ناجائز مواد ہے تو اس سے حاصل ہونے والی رقم میں شبہ ہے۔
آپ کا کنٹرول اور ذمہ داری
اگر آپ اشتہارات پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتے اور وہ خود بخود آتے ہیں، تو آپ کی ذمہ داری کم ہو جاتی ہے، لیکن پھر بھی آپ کو کوشش کرنی چاہیے کہ اشتہارات کو فلٹر کریں یا انہیں ہٹانے کے طریقے اپنائیں۔
علماء کے موقف
اکثر علماء کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا مواد حلال ہے اور آپ اشتہارات پر قابو نہیں رکھتے، تو آمدنی حلال ہے، بشرطیکہ آپ اپنی طرف سے پوری کوشش کریں کہ ناجائز اشتہارات نہ آئیں۔ لیکن کچھ علماء اسے ناپسندیدہ یا حرام قرار دیتے ہیں۔
عملی مشورہ
- یوٹیوب کی اشتہار کی ترتیبات میں جائیں اور حساس زمروں کو بلاک کریں۔
- متبادل آمدنی کے ذرائع تلاش کریں جیسے اسپانسرشپ یا براہ راست تعاون۔
- کسی مستند مفتی سے اپنی صورت حال کے مطابق فتویٰ لیں۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورة البقرة 2:275 (حلال و حرام کے اصول)
- حدیث: "إن الحلال بين وإن الحرام بين” (بخاری و مسلم)
- فتاویٰ علماء کرام: یوٹیوب اشتہارات کے بارے میں مختلف آراء
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ