سوال:
السلام علیکم۔ میرے قریبی دوست کے لیے ایک سوال ہے۔ جب وہ 9 یا 10 سال (تیسری یا چوتھی جماعت) کا تھا، یا 18± سال کی عمر میں، وہ اپنی ماں کے ساتھ سوتا تھا۔ خراب معاشرے کی وجہ سے اس نے اسکول وغیرہ میں جنسی تعلقات کے بارے میں سیکھا، تو ایک رات جب وہ اپنی ماں کے ساتھ سو رہا تھا، اس نے اپنی ماں کے مباشرت کے عضو کو شہوت کے ساتھ چھوا جبکہ اس کی ماں سو رہی تھی۔ حال ہی میں انہوں نے ‘حرمتِ مصاہرت’ کے بارے میں سنا، تو وہ اس سوچ سے بہت افسردہ ہیں کہ اس کے والدین کی شادی ٹوٹ گئی ہے۔ اس نے پہلے ہی اس پر توبہ کر لی تھی، لیکن وسوسوں کی وجہ سے وہ اپنے کام یا نماز پر توجہ نہیں دے پا رہا۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
واضح رہے کہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہونےکے لیے چند شرائط ہیں جن کا کا پایا جانا ضروری ہے،اگر ان میں سے ایک شرط بھی نہ پائی گئی تو حرمت ثابت نہیں ہوگی،وہ شرائط مندرجہ ذیل ہیں:
- مس بغیر حائل کے ہو یعنی درمیان میں کوئی کپڑا وغیرہ نہ ہو، یا درمیان میں حائل کپڑا وغیرہ اس قدر باریک ہو کہ اس سے جسم کی حرارت پہنچتی ہو
- وہ بال جو سر سے نیچے لٹکے ہوئے ہوئے ہیں ان کو چھونے سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی، بلکہ صرف ان بالوں کو چھونے سے حرمت ثابت ہوگی جو سر سے ملے ہوئے ہیں۔
- چھوتے وقت جانبین میں یا کسی ایک میں شہوت پیدا ہو،مرد کے لیے شہوت کا معیار یہ ہے کہ اس کے آلہ تناسل میں انتشار پیدا ہوجائے اور اگر آلہ تناسل پہلے سے منتشر ہو تو اس میں اضافہ ہوجائے اور بیمار اور بوڑھے مرد جن کو انتشار نہیں ہوتا ان کےلئے اور عورتوں کے لیے شہوت کا معیار یہ ہے کہ دل میں ہیجان کی کیفیت پیدا ہو اور دل کو لذت حاصل ہو،اور دل کا ہیجان پہلے سے ہوتو اس میں اضافہ ہوجائے۔
- شہوت چھونے کے ساتھ ملی ہوئی ہو، اگر چھوتے وقت شہوت پیدا نہ ہو، اور پھر بعد میں شہوت پیدا ہوتو اس کا اعتبار نہیں ہے، اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔
- شہوت تھمنے سے پہلے انزال نہ ہوگیا ہو، اگر انزال ہوگیا تو حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔
- عورت کی عمر کم از کم نو سال اور مرد کی عمر کم ازکم بارہ سال ہو۔
- اگر چھونے والی عورت ہے اور وہ شہوت کا دعوی کرے یا چھونے والا مرد ہے اور وہ شہوت کا دعوی کرےتو شوہر کو اس خبر کے سچے ہونے کا غالب گمان ہو اور وہ اس کی تصدیق بھی کرے، اس لیے اس دعوی سے شوہر کا حق باطل ہوتاہے، اس لیے صرف دعوی کافی نہیں، بلکہ شوہر کو ظنِ غالب حاصل ہونا یا شرعی گواہوں کا ہونا ضروری ھے.
لہذا صورت مسئولہ دیکھا جائے کہ کیا یہ تمام شرائط پائی گئیں تھیں یا نہیں۔ سوال میں عمر بھی واضح نہیں اور چھونے کی نوعیت بھی غیر واضح ہے۔ لیکن جہاں تک آپ کے سوال سے سمجھ آتا ہے تو اس کے مطابق:
1. یہ چھونا بغیر حائل کے نہیں تھا بلکہ یہ اس کی ماں کو پتہ نہیں چلا ایسے میں یہ مس ہوا ہے۔ لہٰذا اگر ایسا ہی ہے تو شرط نہیں پائی گئی اور حرمت واقع نہیں ہوگی۔
2. یا یہ واقعہ کے وقت لڑکے کی عمر کے 12 سال پورے ہونے سے پہلے کا ہے تو بھی شرط معدوم ہےاور حرمت کا حکم نہیں لگے گا۔
3. یا مکمل تفصیلی صورت حال کا یقینی علم نہ ہو یعنی یاد ہی نہ ہو کہ اس وقت کیا ہوا تھا اور تمام شرائط حرمت پائی گئیں تھیں یا نہیں تو اس میں شبہ ہے، اور قاعدہ ہے کہ: «اليقين لا يزول بالشك» یعنی یقین شک کی وجہ سے زائل نہیں ہو تا۔ لہذا اس صورت میں بھی والدین کا نکاح بدستور صحیح اور قائم ہے اور حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی۔
البتہ مذکورہ فعل اپنی ذات میں ناجائز اور گناہ تھا، اگرچہ حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوئی ہو۔ اس لیے اس پر توبہ و استغفار لازم ہے، اور چونکہ سائل تو بہ کر چکا ہے ، اس لیے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما کر معاف فرمادے گا، بعد ازاں اس بارے میں بار بار سوچنا اور پریشان ہونا درست نہیں، بلکہ اسے وسوسہ قرار دے کر نظر انداز کرنا چاہیے اور اپنے دینی و دنیوی معمولات، خصوصاً عبادات پر توجہ دینی چاہیے۔ اور آئندہ ایسے کسی گناہ سے بچنے کا بےحد اہتمام کرنا چاہیئے۔
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ