سوال:
1 دوست کے جرنل میں لیا تھا واپس نہیں کیا، بہت دن ہوگئے تھے کہ وہ کیا سوچے گا میرے بارے میں۔ اسی طرح سے ہی 1 دوست سے میں 1 واٹر کلر سنگل پیس اور سکینڈر چھوٹی وہ لے وہ بھی واپس نہ کی۔ 1 آنٹی سے 50 کی چیز لی تھی انکے پیسے نہ دیے جب یاد آیا تو بہت ٹائم ہو چکا تھا شرم کے مارے کہ کہیں وہ سب کو نہ بول دیں کہ اس نے میرے پیسے نہیں دیے تھے دوکان دار سے کڑے منگوائے تھے اسکے بھی پیسے نہیں دیے تھے 500 اب کیسے واپس کروں شرم آ رہی تھی عزت کا معاملہ ہے گھر کی اپنی 1 کزن سے گلے کا ہار لیا تھا واپس نہ کیا گم ہوگیا وہ تو اسکی بھی آج کے حساب سے قیمت صدقہ کردی 1 چچی کی پونی تھی وہ میں سکول لگا کے گئی تھی ٹیچر نے لے لی بہت سال بعد یہ بات یاد آئی انکو بتانا عجیب لگ رہا کہ یہ سب میرے بارے میں کیا سوچیں گے کہ میں چیزیں کھا جاتی ہوں اور بک فیئر سے بک چوری کی تھی۔ i don’t know کس سیلر کی بک تھی میں نہ جاندی نہ یاد تو میں نے یہ سارے پیسے ان سب کے نام سے صدقہ کردئیے کہ اللہ ان سب کا ثواب ان سب لوگوں کو جائے۔ اور یہ سب بچپن کی باتیں ہیں جب کوئی عقل و شعور بھی نہ تھا یہ سب نادانی میں ہوگیا بغیر جانے کے کہ کیا نتائج ہو سکتے ہیں جان بوجھ کر نہ کیا۔ چوری کی تھی بس جسکی میں نے توبہ کرلی اللہ سے اور مجھے یقین ہے اللہ نے معاف کردیا کیوں کہ جب اپنی غلطی سدھارنے کا موقع دیا ہے۔ یہ سارے پیسے میں نے صدقہ کردئیے ان سب کے نام سے صحیح ہے یہ شرعی طور پر؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے بچپن میں کچھ چیزیں بغیر اجازت لیں، کچھ ادھار لے کر واپس نہیں کیں، اور کچھ رقم ادا نہیں کی۔ اب آپ کو یاد آیا تو آپ نے ان سب لوگوں کے نام سے صدقہ کر دیا ہے۔ یہ جاننا چاہتی ہیں کہ کیا یہ شرعی طور پر درست ہے؟
بنیادی اصول: حقوق العباد کی ادائیگی
شرعی طور پر کسی دوسرے کا مال بغیر اجازت لینا یا ادھار لے کر واپس نہ کرنا حقوق العباد (بندوں کے حقوق) میں سے ہے۔ ان حقوق کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ اصل مالک کو اس کا حق واپس کیا جائے یا اس سے معافی مانگی جائے۔ اگر مالک کا پتہ نہ ہو یا اس تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو اس کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے۔
آپ کے معاملات کا جائزہ
1. دوست کا جرنل، واٹر کلر، سکینڈر
یہ چیزیں آپ نے بغیر اجازت لی تھیں اور واپس نہیں کیں۔ اب اگر وہ چیزیں موجود ہیں تو انہیں واپس کرنا ضروری ہے۔ اگر موجود نہیں ہیں تو ان کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ اگر دوست سے رابطہ ممکن نہ ہو تو اس کی طرف سے اتنی رقم صدقہ کی جائے جو یقینی طور پر اس کے حق کا معقول بدل بنتا ہو۔ اور اگر شرم کی وجہ سے مشکل ہو تو ضروری نہیں کہ آپ اسے بتا کر ہی رقم دیں بلکہ اسے تحفہ اور گفٹ کہہ کر بھی دے سکتی ہیں۔
2. آنٹی سے 50 روپے کی چیز اور دوکان دار سے کڑے
یہ ادھار تھا جو ادا نہیں کیا گیا۔ اب بھی اگر ممکن ہو تو ان لوگوں کو رقم واپس کریں۔ اگر شرم کی وجہ سے مشکل ہو تو کسی اور کے ذریعے بھیج سکتی ہیں۔ اگر ان کا پتہ نہ ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کریں۔
3. کزن کا ہار جو گم ہوگیا
یہ امانت تھی جو ضائع ہوگئی۔ اس کی قیمت ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر کزن سے رابطہ ممکن ہو تو اسے بتائیں اور معافی مانگیں، ورنہ اس کی طرف سے صدقہ کریں۔
4. چچی کی پونی جو ٹیچر نے لے لی
یہ بھی امانت تھی جو آپ کی وجہ سے ضائع ہوئی۔ اگر چچی کو بتانا ممکن ہو تو بتائیں اور معافی مانگیں، یا تحفہ کہہ کر انہیں رقم کسی بہانہ سے دے دیں۔ ورنہ اس کی طرف سے صدقہ کریں۔
5. بک فیئر سے کتاب چوری
یہ چوری تھی۔ اگر سیلر کا پتہ نہیں تو اس کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔
کیا صدقہ کرنا کافی ہے؟
آپ نے ان سب کے نام سے صدقہ کر دیا ہے، یہ اس صورت میں درست ہے جب آپ ان لوگوں تک پہنچنے سے واقعی عاجز ہوں۔ لیکن اگر ان تک پہنچنا ممکن ہے تو صدقہ کافی نہیں ہوگا، بلکہ اصل رقم یا چیز واپس کرنا ضروری ہے۔ شرم یا عزت کا مسئلہ اس معاملے میں معاف کرنے کا جواز نہیں ہے۔
توبہ اور اللہ سے معافی
آپ نے توبہ کر لی ہے، یہ بہت اچھی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے، لیکن حقوق العباد کی ادائیگی کے بغیر توبہ مکمل نہیں ہوتی۔ لہٰذا جہاں تک ممکن ہو، ان لوگوں سے معافی مانگیں اور ان کا حق واپس کریں۔ اگر واقعی ناممکن ہو تو صدقہ کرنا جائز ہے۔
خلاصہ
- اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔
- اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔
- آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
حوالہ جات
- القرآن: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا (النساء: 58)
- حدیث: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ (صحیح البخاری)
- فتاویٰ ہندیہ: کتاب الکفالة، باب فی الضمان
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ