سوال:
وعلیکم السلام۔ میری قریبی دوست کے لیے ایک سوال ہے۔ جب وہ 9 یا 10 سال (تیسری یا چوتھی جماعت) کا تھا، یا 18± سال کی عمر میں، وہ اپنی ماں کے ساتھ سوتا تھا۔ خراب معاشرے کی وجہ سے اس نے اسکول وغیرہ میں جنسی تعلقات کے بارے میں سیکھا، تو ایک رات جب وہ اپنی ماں کے ساتھ سو رہا تھا، اس نے اپنی ماں کے مباشرت کے عضو کو شہوت کے ساتھ چھوا جبکہ اس کی ماں سو رہی تھی۔ حال ہی میں انہوں نے 'حرمتِ مصاہرت' کے بارے میں سنا، تو وہ اس سوچ سے بہت افسردہ ہیں کہ اس کے والدین کی شادی ٹوٹ گئی ہے۔ اس نے پہلے ہی اس پر توبہ کر لی تھی، لیکن وسوسوں کی وجہ سے وہ اپنے کام یا نماز پر توجہ نہیں دے پا رہا۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کے دوست کا معاملہ بہت حساس ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ اس نے توبہ کر لی ہے، لہٰذا اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ذیل میں اس مسئلے کی وضاحت پیش کی جاتی ہے۔
حرمت مصاہرت کا حکم
حرمت مصاہرت کا تعلق اس صورت میں ثابت ہوتا ہے جب کوئی شخص اپنی ساس، سوتیلی ماں، یا بیوی کی ماں سے شادی کرے، یا اس کے ساتھ زنا کرے۔ لیکن یہاں صورت حال مختلف ہے: ایک بچہ (9-10 سال) یا نوجوان (18 سال) نے اپنی ماں کے ساتھ سوتے ہوئے اس کے مباشرت کے عضو کو شہوت سے چھوا۔
جمہور فقہاء کے مطابق، حرمت مصاہرت صرف اس وقت ثابت ہوتی ہے جب کوئی شخص اپنی ماں یا بیوی کی ماں سے زنا کرے، یا اس کے ساتھ مباشرت (جماع) کرے۔ محض شہوت سے چھونا یا بوسہ لینا حرمت مصاہرت کو ثابت نہیں کرتا، جب تک کہ اس سے جماع نہ ہو۔
لہٰذا، آپ کے دوست کے والدین کی شادی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اور ان کی شادی برقرار ہے۔
توبہ اور وسوسوں کا علاج
آپ کے دوست نے توبہ کر لی ہے، جو بہت اچھی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے۔ اسے چاہیے کہ وسوسوں کو نظر انداز کرے اور اپنی نماز اور کام پر توجہ دے۔ وسوسے شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں، لہٰذا ان پر دھیان نہ دے۔
حدیث میں ہے: "إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ” (بخاری و مسلم) یعنی اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں آنے والے وسوسوں کو معاف کر دیا جب تک وہ اس پر عمل نہ کریں یا نہ بولیں۔
اسے چاہیے کہ استغفار کرتا رہے اور اللہ سے دعا کرے کہ اسے وسوسوں سے نجات دے۔
نتیجہ
آپ کے دوست کے والدین کی شادی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اسے چاہیے کہ توبہ پر قائم رہے اور وسوسوں کو نظر انداز کرے۔ اگر پھر بھی پریشانی ہو تو کسی مستند عالم سے رجوع کرے۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ النساء، آیت 23 (حرمت مصاہرت کے بارے میں)
- صحیح البخاری، حدیث نمبر: 6664 (وسوسوں کے بارے میں)
- صحیح مسلم، حدیث نمبر: 127 (وسوسوں کے بارے میں)
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب النکاح، باب المحرمات
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ