سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم شیخ، میرا سوال تفصیلی وضاحت کے ساتھ یہ ہے: 1۔ میں نے اللہ کی قسم کھائی تھی کہ یہ صرف ایک بار کے لیے نہیں بلکہ ہر بار کے لیے ہے، یعنی جب بھی اور جتنی نمازیں میں چھوڑوں گا، ہر چھوٹی ہوئی نماز کے بدلے میں میں 1000 روزے رکھوں گا۔ مثال کے طور پر اگر میں 3 نمازیں چھوڑ دوں تو مجھ پر 3000 روزے واجب ہو جائیں گے۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں یہ روزے صرف اسی وقت رکھوں گا جب مجھے یاد آئے کہ میں نے اللہ سے یہ وعدہ کیا تھا۔ 2۔ اب میرا سوال یہ ہے: کیا یہ شرط معتبر ہوگی کہ کفارہ صرف اسی وقت واجب ہوگا جب مجھے وعدہ یاد آئے، اور اگر میں بھول جاؤں تو واجب نہیں ہوگا؟ مثال کے طور پر اگر میں نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی لیکن اس وقت مجھے اپنی قسم یاد نہیں تھی، تو ایسی صورت میں کیا کفارہ واجب نہیں ہوگا؟ 3۔ کیا ایسی قسم یا وعدہ بعد میں ختم (منسوخ) کیا جا سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو اسے ختم کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ 4۔ اگر کوئی شخص ایسی قسم کھا لے اور پھر اپنے بتائے ہوئے روزوں کی تعداد رکھ لے، تو کیا اسے روزوں کا ثواب بھی ملے گا، یا یہ صرف کفارہ ادا کرنے کے طور پر شمار ہوگا؟ 5۔ اور اگر کوئی شخص کہے، "اے اللہ، اگر میں اپنے والدین کی نافرمانی کروں تو میں ایک روزہ رکھوں گا،" اور پھر وہ واقعی ان کی نافرمانی کر دے، تو کیا اس پر ایک روزہ رکھنا واجب ہوگا، یا کفارہ کے طور پر دس مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہوگا؟ براہ کرم مجھے اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے جو تفصیلی سوالات پوچھے ہیں، ان کا جواب شرعی اصولوں کی روشنی میں دیا جا رہا ہے۔ تاہم، یہ ایک عمومی رہنمائی ہے اور حتمی فتویٰ کے لیے کسی مستند مفتی سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
قسم اور نذر میں فرق
آپ نے جو کہا کہ "میں نے اللہ کی قسم کھائی تھی”، یہ ایک قسم (یمین) ہے، نہ کہ نذر۔ قسم میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے، جبکہ نذر میں کوئی نیک کام اپنے اوپر واجب کر لیا جاتا ہے۔ آپ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے قسم کھائی ہے، اس لیے اس پر قسم کے احکام لاگو ہوں گے۔
قسم کی شرط: یاد رکھنے کی قید
آپ نے قسم میں یہ شرط رکھی کہ روزے صرف اس وقت رکھوں گا جب مجھے یاد آئے۔ شریعت میں قسم کی پابندی اس وقت ہوتی ہے جب آپ کو قسم یاد ہو اور آپ جان بوجھ کر اس کی خلاف ورزی کریں۔ اگر آپ بھول گئے اور پھر نماز چھوڑ دی، تو اس صورت میں قسم نہیں ٹوٹے گی اور کفارہ واجب نہیں ہوگا۔ لہٰذا آپ کی شرط معتبر ہے۔
قسم کو ختم کرنے کا طریقہ
قسم کو ختم کرنے کے لیے اس کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ کفارہ یہ ہے: دس مسکینوں کو کھانا کھلانا (اوسط درجے کا کھانا) یا انہیں کپڑے دینا، یا ایک غلام آزاد کرنا۔ اگر ان میں سے کسی پر بھی قدرت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھنے ہوں گے۔ کفارہ ادا کرنے کے بعد قسم ختم ہو جائے گی اور آپ اس کے پابند نہیں رہیں گے۔
روزوں کا ثواب
اگر آپ نے قسم کے مطابق روزے رکھے، تو یہ روزے کفارہ شمار ہوں گے اور آپ کو ان کا ثواب بھی ملے گا، بشرطیکہ نیت صرف کفارہ ادا کرنے کی ہو۔ لیکن اگر آپ نے ثواب کی نیت سے روزے رکھے، تو بھی کفارہ ادا ہو جائے گا اور ثواب بھی ملے گا۔
والدین کی نافرمانی پر روزہ
اگر کسی نے کہا کہ "اگر میں والدین کی نافرمانی کروں تو میں ایک روزہ رکھوں گا”، تو یہ ایک نذر ہے۔ نذر پوری کرنا واجب ہے، لہٰذا اگر نافرمانی ہو جائے تو ایک روزہ رکھنا ضروری ہوگا۔ اس صورت میں دس مسکینوں کو کھانا کھلانا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ یہ نذر ہے، قسم نہیں۔
خلاصہ
- قسم یاد رہنے کی صورت میں ٹوٹے گی، بھول جانے پر نہیں۔
- قسم ختم کرنے کے لیے کفارہ (دس مسکینوں کو کھانا یا کپڑے، یا تین روزے) ادا کریں۔
- قسم کے روزوں کا ثواب بھی ملے گا۔
- والدین کی نافرمانی پر نذر کا روزہ رکھنا واجب ہے۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ المائدہ، آیت 89 (قسم کے کفارہ کا بیان)
- صحیح البخاری، کتاب الأیمان والنذور
- صحیح مسلم، کتاب الأیمان
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الأیمان
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ