میں اپنے خالق سے محبت کرتی ہوں اور اسلام کے دائرے میں رہنا چاہتی ہوں، ساتھ ہی ایسی زندگی بھی چاہتی ہوں جو نفسیاتی طور پر قابلِ برداشت ہو۔ میری درخواست ہے کہ جواب میں انسانی نفسیات کی طبی حقیقتوں اور دینِ اسلام کی رحمت و شفقت دونوں کو سامنے رکھا جائے۔ جزاکم اللہ خیراً
فقہِ حنفی اور عام اہلِ سنت فقہ کے مطابق عورت کا عورت کے ساتھ شہوانی/جنسی تعلق، جسے فقہی اصطلاح میں سحاق کہا جاتا ہے، ناجائز اور حرام ہے۔ البتہ غیر اختیاری میلان، اندرونی کشش یا وسوسہ بذاتِ خود گناہ نہیں جب تک انسان اسے عمل، دعوت، رومانوی/جنسی تعلق یا ارادی پرورش کی صورت نہ دے۔ شریعت کا حکم عمل پر ہے، محض غیر اختیاری احساس پر نہیں۔ صحیح بخاری 6664 میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت کے دل میں آنے والی باتوں سے درگزر فرمایا جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے یا انہیں عملی/ارادی شکل نہ دی جائے۔
ساتھ ہی، کسی بالغ عورت کو ایسے مرد سے نکاح پر مجبور کرنا جس پر وہ راضی نہ ہو، یا جس کے حقوق ادا کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہو، شرعاً درست نہیں۔ حنفی فتاویٰ میں عاقلہ بالغہ کی رضامندی کے بغیر نکاح کو معتبر نہیں مانا گیا، یا کم از کم اس کی اجازت پر موقوف قرار دیا گیا ہے۔
قرآنِ کریم میں قومِ لوط علیہ السلام کا واقعہ خاص طور پر مردوں کے مردوں کے ساتھ شہوانی عمل کے بارے میں آیا ہے، جیسا کہ
میں اسے “فاحشہ” اور حد سے تجاوز کہا گیا ہے۔ لیکن عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ ۚ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔
صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔
صحیح بخاری میں بھی عورت کو دوسری عورت کے جسم کو اس انداز سے دیکھنے/چھونے سے منع کیا گیا کہ پھر اپنے شوہر کے سامنے اس کا وصف بیان کرے۔ جب عورت کا عورت کے ستر کو دیکھنا اور شہوت انگیز جسمانی قربت منع ہے تو عورت کا عورت سے جنسی تعلق بدرجۂ اولیٰ ممنوع ہوگا۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں ایک کم درجہ کی برائی سے روکنے بڑی برائ
دور حاضر کے علماء و مفتیانِ کرام کے فتاویٰ میں بھ
عورت کے عورت کے ساتھ جنسی تعلق کو صراحتاً حرام قرار دیا گیا ہے اور سحاق النساء زنا بینھنکی حدیثِ پاک بطور دلگئی ہے، یعنی "عورتوں کا (شہوت کے مارے) آپس میں ایک دوسرے کو بھینچنا ان کا آپس کا زنا ہے”
مکتبہ شاملہ میں موسوعۃ الإجماع فی الفقہ الإسلامی کے تحت “السحاق حرام اور “لا حد في السحاق” دونوں مسائل درج ہیں؛ یعنی سحاق (یعنی عورت کے عورت سے جنسی تعلقات) حرام ہے، البتہ اس پر زنا والی مقررہ حد نہیں بلکہ اسلامی ملک کا قاضی بطور عبرت اسے اپنی رائے کے مطابق (تعذیرًا) سزا دے گا۔ اسی طرح فقہ السنۃ میں بھی “السحاق محرم باتفاق العلماء ” نقل ہے، یعنی اہلِ علم کے اتفاق سے سحاق حرام ہے۔
حاصل: قرآن میں عورتوں کے باہمی عمل کا نام لے کر الگ آیت نہیں، مگر قرآن کے عمومی اصول، صحیح احادیث، آثار، فقہی اجماع اور حنفی دارالافتاء کے فتاویٰ کی روشنی میں عورت کا عورت سے شہوانی/جنسی تعلق حرام ہے۔
کیا مسلمان خاتون پارٹنر/ساتھی کے ساتھ رہنا جائز ہے؟
اس میں دو صورتیں الگ الگ سمجھنا ضروری ہیں:
1. اگر “پارٹنر” سے مراد رومانوی یا جنسی تعلق ہے
ایسا تعلق جائز نہیں؛ خواہ دونوں عورتیں مسلمان ہوں، باہمی رضامندی ہو، یا اسے نکاح/پارٹنرشپ کا نام دیا جائے۔ شریعت میں نکاح مرد اور عورت کے درمیان ہوتا ہے، عورت اور عورت کے درمیان نکاح یا جنسی رفاقت شرعاً معتبر نہیں۔ بنوری ٹاؤن کے فتویٰ میں ہم جنس پرستی کو مرد مرد یا عورت عورت کے ذریعے خواہش پوری کرنے کی صورت میں ناجائز اور حرام کہا گیا ہے۔
2. اگر “ساتھی/companion” سے مراد غیر جنسی، غیر رومانوی، محفوظ رہائشی ساتھی ہے
عام حالات میں عورت کا عورت کے ساتھ رہنا، دوستی رکھنا، مدد لینا، سپورٹ سسٹم بنانا یا گھر شیئر کرنا بذاتِ خود ناجائز نہیں؛ لیکن جس شخص کے بارے میں معلوم ہو کہ اس کی طرف شہوانی کشش ہے، اس کے ساتھ تنہائی، رومانوی قربت، لمس، بستر، جذباتی وابستگی، یا وہ ماحول جس سے گناہ کا قوی اندیشہ ہو، اس سے بچنا لازم ہے۔ ایسے گناہ سے بچنے کے لیے خاص طور پر اس شخص سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے جس کے ساتھ ابتلا ہو۔ کسی عورت کے اندر ایسے میلان ہونے سے عام عورتوں کے احکام بدل نہیں جاتے، مگر جنسی یا intimate advance کا جواب دینا ناجائز ہے، اور مدد و سپورٹ کے ساتھ حدود کی حفاظت ضروری ہے۔
حاصل:
- مسلمان خاتون کو “رومانوی/جنسی پارٹنر” بنا کر رہنا جائز نہیں۔
- غیر جنسی، باحیا، محفوظ female roommate یا companion کی صورت اصولاً جائز ہو سکتی ہے، بشرطیکہ شہوت، فتنہ، لمس، خلوتِ شہوانی، عریانی، رومانوی وابستگی اور گناہ کے اسباب سے بچا جائے۔
- جس عورت کی طرف خاص کشش ہو، اس کے ساتھ تنہا رہائش یا “partner-like” تعلق سے اجتناب کیا جائے۔
اگر یہ ہم جنس کی طرف میلان پیدائشی یا حیاتیاتی ہو تو گناہ کیسے؟
اسلام میں ہر غیر اختیاری میلان گناہ نہیں ہوتا۔ گناہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان حرام عمل کرے، حرام کو حلال سمجھے، یا جان بوجھ کر گناہ کے اسباب اختیار کرے۔ صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق دل میں آنے والی باتوں سے درگزر ہے جب تک انسان ان پر عمل نہ کرے یا انہیں زبان/عمل سے اختیار نہ کرے۔ اسی طرح قرآن میں ہے کہ اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔
اس لیے اگر کسی خاتون کو واقعی غیر اختیاری طور پر عورتوں کی طرف کشش محسوس ہوتی ہے، تو محض اس کشش کی وجہ سے وہ گناہ گار، ملعون یا اللہ سے دور نہیں ہو جاتی۔ اس کی پاک دامنی، صبر، نماز، دعا، علاج، احتیاط اور حرام سے بچنے کی جدوجہد اللہ کے ہاں بہت قیمتی ہے۔ same-sex feelings پر عمل نہ کیا جائے (یعنی ان خیالات سے دل ہی دل میں لذت لینا اور اپنی ہم جنس سے تعلق بنالینا، وغیرہ نہ کیا جائے) تو وہ محض خیالات بذاتِ خود گناہ نہیں۔
سائنس یا طبی تشخیص اور شرعی حکم دو الگ دائرے ہیں۔ کوئی میلان “نفسیاتی بیماری” نہ ہو، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس میلان پر ہر عمل شرعاً جائز ہو جائے۔ مثال کے طور پر انسان میں غصہ، حسد، شہوت، انتقام، یا غیر محرم کی طرف کشش بھی فطری/انسانی تجربات ہیں، مگر شریعت انسان کو ان جذبات کو حلال حدود میں رکھنے کا حکم دیتی ہے۔ اس مسئلے میں بھی شریعت میلان پر نہیں بلکہ عمل، تعلق اور حدود شکنی پر حکم لگاتی ہے۔
کیا ہر عورت کا مرد سے شادی لازم ہے؟ اور زبردستی شادی کا حکم
سائلہ پر یہ لازم نہیں کہ وہ کسی مرد سے صرف معاشرتی دباؤ کی وجہ سے شادی کرے، خاص طور پر اگر اسے یقین ہو کہ وہ ازدواجی حقوق ادا نہیں کر سکے گی یا شادی اس کے لیے شدید نفسیاتی نقصان کا باعث ہوگی۔ حنفی فتاویٰ کے مطابق عاقل بالغ لڑکے اور لڑکی کو زبردستی نکاح پر مجبور نہیں کیا جا سکتا؛ فتاویٰ میں صراحت ہے کہ عاقل بالغ لڑکا اور لڑکی اپنی آزادانہ رضامندی سے نکاح کرتے ہیں، انہیں فلاں سے نکاح پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ بنوری ٹاؤن کے فتویٰ میں بھی عاقلہ بالغہ کی رضامندی کے بغیر نکاح نہ ہونے/اجازت پر موقوف ہونے کی تفصیل دی گئی ہے۔
لہٰذا سائلہ کے لیے شرعی راستہ یہ ہے کہ وہ پاک دامنی، نماز، دعا، محفوظ social support، trustworthy therapist، اور کسی حساس، متوازن عالمہ/مفتی صاحبہ یا مستند دارالافتاء سے مسلسل رہنمائی کے ساتھ زندگی گزارے۔ مرد سے شادی صرف اسی صورت میں سوچنی چاہیے جب وہ آزادانہ، دیانت دارانہ اور نفسیاتی طور پر ممکن ہو؛ کسی مرد کو دھوکے میں رکھ کر یا خود کو شدید ذہنی اذیت میں ڈال کر شادی کرنا درست طریقہ نہیں۔
عملی رہنمائی
- اپنے ایمان کو اصل بنیاد بنائے رکھیں؛ آپ کا اللہ سے تعلق آپ کے لیے سب سے بڑی پناہ ہے۔
- محض میلان کو گناہ سمجھ کر خود سے نفرت نہ کریں؛ گناہ سے بچنے کو عبادت اور صبر سمجھیں۔
- کسی خاص خاتون کے ساتھ رومانوی/جنسی قربت، private intimacy، مسلسل emotional dependency اور شہوت انگیز گفتگو سے بچیں۔
- اگر کبھی slip ہو جائے تو ناامید نہ ہوں؛ قرآن کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، اللہ سب گناہ معاف فرما سکتا ہے۔
- کسی اللہ والے بزرگ سے مستقل اپنا اصلاحی تعلق قائم کرکے ان سے مشورہ کرتی رہیں۔
- جنس بدلنا جائز نہیں لیکن اگر کسی کو اپنی جنس میں ہی طبی مشکلات کا سامنا ہو تو اس کا علاج کرنا چاہیئے اور یہ درست ہے۔ لہٰذا اگر ممکن ہوتو اپنے علاج کی کوشش بھی کرتی رہیں۔
اللہ رب العزت آپ کے لئے آسانی و سہولت والا معاملہ فرمائے۔ اور ہمیشہ گناہوں سے پاک صاف اطمینان و سکون والی زندگی عطافرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ