سوال:
کیا ہالووین سپرٹ ویک میں حصہ لینا حرام ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ میرے اسکول کا کلب جس میں میں درخواست دینا چاہتا ہوں اس کے لیے نمائندگی کا حصہ بننا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر، اس ہفتے میں ہمارے پاس پیجامہ ڈے، ہاؤنٹڈ ایسکیپ روم، اور جرسی ڈے ہوگا۔ اور پھر آخر میں ہالووین کاسٹیوم ڈے ہوگا۔ کیا دوسرے پروگراموں میں حصہ لینا ٹھیک ہے لیکن ہالووین کاسٹیوم والے میں نہیں؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
ہالووین ایک غیر اسلامی تہوار ہے جس کی اصل شرکیہ عقائد پر مبنی ہے، اس لیے اس میں کسی بھی طرح کی شرکت یا اس کی حمایت کرنا جائز نہیں۔ تاہم، آپ کے سوال میں ذکر کردہ دیگر دنوں (جیسے پیجامہ ڈے، جرسی ڈے) اگر ان کا ہالووین سے کوئی تعلق نہ ہو اور وہ محض عام تفریحی سرگرمیاں ہوں، تو ان میں شرکت کی گنجائش ہو سکتی ہے، بشرطیکہ ان کا مقصد ہالووین کی ترویج نہ ہو۔
ہالووین کی حرمت
ہالووین کی ابتدا کافر قوموں کے عقائد سے ہوئی ہے، جس میں مردوں کی روحوں اور شیاطین کی پوجا شامل ہے۔ مسلمان کے لیے ایسے تہوار میں شرکت، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو، جائز نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ (جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے)۔ لہٰذا ہالووین کاسٹیوم ڈے میں شرکت قطعاً حرام ہے۔
دیگر دنوں کا حکم
اگر اسکول میں منعقد ہونے والے دیگر دن (جیسے پیجامہ ڈے، جرسی ڈے) کا ہالووین سے کوئی تعلق نہیں اور وہ محض عام سرگرمیاں ہیں، تو ان میں شرکت کرنا اس وقت تک جائز ہو سکتا ہے جب تک ان کا مقصد ہالووین کی ترویج نہ ہو۔ تاہم، اگر یہ تمام دن ہالووین سپرٹ ویک کے نام سے منعقد کیے جا رہے ہیں اور ان کا مقصد ہالووین کو فروغ دینا ہے، تو پھر ان میں شرکت بھی ناجائز ہوگی، کیونکہ اس سے اس تہوار کی حمایت ہوتی ہے۔
کلب میں شمولیت کا مسئلہ
اگر کلب میں شمولیت کے لیے ان سرگرمیوں میں حصہ لینا لازمی ہے، تو آپ کو کسی متبادل راستے کی تلاش کرنی چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو کلب کے منتظمین سے بات کریں اور اپنی مجبوری بتائیں۔ اگر کوئی متبادل نہ ہو تو ایسے کلب میں شامل نہ ہونا بہتر ہے، کیونکہ دین پر قائم رہنا ہر چیز سے مقدم ہے۔
خلاصہ
- ہالووین کاسٹیوم ڈے میں شرکت حرام ہے۔
- دیگر دنوں میں شرکت اس وقت جائز ہے جب ان کا ہالووین سے کوئی تعلق نہ ہو اور وہ محض عام سرگرمیاں ہوں۔
- اگر تمام دن ہالووین سپرٹ ویک کا حصہ ہیں، تو ان میں شرکت سے گریز کریں۔
- کلب میں شمولیت کے لیے دین پر سمجھوتہ نہ کریں۔
بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مستند عالم سے رابطہ کریں تاکہ وہ آپ کے مخصوص حالات کی روشنی میں رہنمائی فراہم کر سکیں۔
حوالہ جات
- سنن أبي داود، حديث رقم: 4031
- فتاویٰ شامی، کتاب الکراہیۃ
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ