سوال:
میں بچہ حاصل کرنے کے لیے PESA + IVF علاج کے عمل میں ہوں، کیا یہ اسلام میں جائز ہے، ہم نے درخواست کی ہے کہ ڈونر کا راستہ نہ اپنایا جائے کیونکہ یہ حرام ہے، تو علاج شروع ہو گیا ہے اب کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ دوسرا مکس کرتے ہیں اس لیے یہ حرام ہے علاج نہ کرو لیکن مکس کرنے کا کوئی ثبوت یا دلیل نہیں ہے لیکن وہ مجھ سے بحث کرتے ہیں کہ تم لیب میں چیک نہیں کرنے جا رہے کہ آیا یہ تمہارا ہے اس صورت میں ہم ان کی لیب میں جا کر تصدیق نہیں کر سکتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں میری معلومات کے مطابق وہ مکس نہیں کر سکتے کیونکہ انہوں نے واضح طور پر ہمارے کاغذات پر وکیل کے ساتھ دستخط کیے ہیں، کیا آپ مجھے کوئی حل دے سکتے ہیں۔ اگر ہم لیب کے اندر کچھ نہیں دیکھ سکتے تو میں کیا کروں۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے بچہ حاصل کرنے کے لیے PESA + IVF علاج شروع کیا ہے اور ڈونر سے گریز کیا ہے، جو شرعاً درست ہے۔ تاہم، کچھ لوگ آپ کو بتا رہے ہیں کہ لیب میں نطفہ مکس ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے علاج حرام ہو جائے گا۔ آپ کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں، اور لیب نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ اس صورت میں آپ کے لیے شرعی رہنمائی درج ذیل ہے۔
IVF اور PESA کا شرعی حکم
شریعت میں میاں بیوی کے اپنے نطفہ اور بیضہ سے IVF علاج جائز ہے، بشرطیکہ ڈونر (تیسرے فریق) کا استعمال نہ ہو اور عمل دوران نامحرم کے سامنے پردے کا اہتمام ہو۔ آپ نے ڈونر سے منع کیا ہے، جو درست ہے۔
لیب میں اختلاط کا شبہ
اگر لیب نے تحریری طور پر یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ صرف آپ کے نطفہ اور آپ کی بیوی کے بیضہ کا استعمال کریں گے، اور آپ کو ان پر اعتماد ہے، تو محض شک کی بنیاد پر علاج کو حرام نہیں کہا جا سکتا۔ اسلام میں اصل چیزوں کی حلت ہے جب تک حرام کا یقین نہ ہو۔
عملی حل
- لیب سے مزید تحریری یقین دہانی لیں کہ وہ کسی بھی قسم کا اختلاط نہیں کریں گے۔
- اگر ممکن ہو تو کسی اسلامی ملک یا معروف مسلم ڈاکٹر کی نگرانی میں علاج کروائیں۔
- اپنے دل کو مطمئن رکھیں اور بلا ثبوت دوسروں کی باتوں پر عمل نہ کریں۔
نتیجہ
آپ کا علاج جائز ہے جب تک آپ کو یقین ہے کہ لیب معاہدے پر عمل کر رہی ہے۔ اگر بعد میں کوئی ثبوت ملے تو علاج روک دیں۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت ۲۸۶ (لا یکلف اللہ نفساً إلا وسعہا)
- حدیث: "إنما الأعمال بالنیات” (صحیح بخاری)
- فتاویٰ علمائے کرام: IVF علاج میاں بیوی کے اپنے نطفہ سے جائز ہے۔
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ