سوال:
موضوع: ولی کی اجازت کے بغیر نکاح
سوال (اردو ترجمہ):
حضرت! میں نے ایک لڑکی سے نکاح کیا… وہ اپنے گھر پر تھی اور گھر پر رہتے ہوئے اُس نے فون کال پر میرے ایک دوست کو اپنا ولی بنا دیا۔ پھر اسی ’’ولی‘‘ نے دو گواہوں کی موجودگی میں ہمارا نکاح پڑھایا۔
کیا یہ نکاح ہوا یا نہیں؟
لڑکی کے اصل ولی نے اجازت نہیں دی؛ ہم دونوں نے صرف گناہ سے بچنے کی نیت سے نکاح کیا۔
کفو (برابری) کے بارے میں کچھ معلومات:
لڑکی کے والدین مالی اعتبار سے مجھ سے بہت زیادہ مضبوط ہیں۔
اُس کے والد کا بڑا بزنس ہے، میرے والد پچھلے پانچ چھ سال سے بے روزگار ہیں۔
گھر صرف میری والدہ کی کمائی (8000 روپے) سے چلتا ہے۔
دینی اعتبار سے بھی اُس کے والدین زیادہ دیندار ہیں، جبکہ میرے گھر میں دین کی زیادہ پابندی نہیں ہے۔
ہم دونوں نے صرف گناہ سے بچنے کے لیے نکاح کیا ہے۔
ہم دونوں اسٹوڈنٹ ہیں اور میں ابھی کماتا نہیں ہوں۔
کیا یہ نکاح منعقد ہوگیا؟
یا پھر جب میں پڑھائی مکمل کرکے نوکری کرلوں، تو والد (ولی) کی اجازت سے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا؟
میں حنفی فقہ کا پیروکار ہوں، اور میں نے سنا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح حنفی فقہ میں صرف اسی وقت ہوتا ہے جب کفو برابر ہو۔
میں نے اپنی اور اُس کے خاندان کی مالی و دینی حالت بھی بتا دی ہے…
کیا ہم دونوں کفو میں ہیں؟
براہِ کرم فوراً جواب دیں، یہ بہت ہی اہم مسئلہ ہے۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے جو صورتِ حال بیان کی ہے، اس میں نکاح کے منعقد ہونے کے لیے کچھ شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔ حنفی فقہ میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کے بارے میں تفصیل ہے، جسے ہم ذیل میں واضح کریں گے۔
حنفی فقہ میں ولی کا حکم
حنفی مسلک کے مطابق، عاقلہ بالغہ لڑکی اپنا نکاح خود کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے کفو (برابری) کی شرط ضروری ہے۔ اگر لڑکی کسی غیر کفو سے نکاح کرے تو ولی کو اعتراض کا حق حاصل ہے۔
آپ کے نکاح کا جائزہ
آپ نے بتایا کہ لڑکی نے اپنے دوست کو ولی بنایا اور اس نے دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح پڑھایا۔ حنفی فقہ میں نکاح کے لیے دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے، اور اگر گواہ موجود ہوں تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ البتہ، لڑکی کے اصل ولی (والد) کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔
کفو (برابری) کا مسئلہ
آپ نے مالی اور دینی اعتبار سے دونوں خاندانوں کا فرق بتایا ہے۔ حنفی فقہ میں کفو کا تعلق عموماً نسب، دین، پیشہ اور آزادی سے ہوتا ہے، نہ کہ صرف دولت سے۔ اگر آپ دونوں مسلمان ہیں اور آپ میں کوئی ایسی خرابی نہیں جو نکاح کو فاسد کرے، تو کفو کا اعتبار صرف ولی کے اعتراض کی صورت میں آتا ہے۔
نتیجہ
آپ کے نکاح کے بارے میں حتمی فیصلہ کسی مستند مفتی سے کرانا ضروری ہے۔ تاہم، عمومی طور پر حنفی فقہ میں اگر لڑکی بالغہ اور عاقلہ ہے، اور اس نے دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا ہے، تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے، لیکن ولی کو اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے۔ اگر ولی اعتراض کرے تو عدالت یا مفتی اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے نکاح کو باقاعدہ طور پر لڑکی کے والد کی اجازت سے دوبارہ پڑھوائیں، تاکہ بعد میں کسی قسم کا تنازع نہ ہو۔
حوالہ جات
- الہدایہ، کتاب النکاح
- فتاوی ہندیہ، جلد 1، کتاب النکاح
- رد المحتار، جلد 3، کتاب النکاح
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ