سوال:
موضوع: کفر
سوال (اردو ترجمہ):
السلام علیکم — میں نے اللہ کے بارے میں کچھ بے ادبی آمیز الفاظ بول دیے مگر نیت یہ تھی کہ فوراً اُن الفاظ کے ساتھ “نہیں” لگا دوں تاکہ اُن کا انکار کردوں، یعنی میری نیت اللہ کی بے حرمتی یا توہین کرنے کی نہیں تھی۔ البتہ جس انداز اور لہجے میں میں نے وہ کفر کے الفاظ کہے — غصّے میں اور اس طرح کہ جب میں نے بعد میں “نہیں” کہا تو وہ اس کے ساتھ جُڑتا ہوا نہیں محسوس ہوا۔
مجھے وسواسِ شیطانی (waswasa) یا OCD بھی ہے۔ میں ہوش و شعور میں تھا جب یہ الفاظ کہے، مگر اب مجھے شدید تشویش ہے کہ کیا یہ شرک ہے یا فقہِ حنفی کے مطابق محض ایک بڑا گناہ ہے؟ میں بالکل نہیں جانتا کہ کیا کروں — میں شدید ڈپریشن کا شکار ہوں، کھانے پینے اور نماز میں دقت ہو رہی ہے اور کبھی کبھی زندگی ہی ختم کرنے کا خیال آتا ہے۔ براہِ کرم جلد اور مفصّل طور پر رہنمائی فرمائیں۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے جو صورتِ حال بیان کی ہے، اس میں آپ کی نیت اللہ کی توہین کی نہیں تھی بلکہ آپ نے الفاظ کو "نہیں” کے ساتھ رد کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ تاہم، لہجے اور انداز کی وجہ سے آپ کو شک ہے کہ آیا یہ کفر شمار ہوگا یا نہیں۔ نیز آپ وسوسے (OCD) میں مبتلا ہیں، جس کی وجہ سے آپ کو شدید پریشانی ہے۔
فقہ حنفی میں کفر کے الفاظ کا حکم
فقہ حنفی میں کسی بھی شخص پر کفر کا حکم لگانے کے لیے دو شرطیں ضروری ہیں:
- قصد و ارادہ: اس شخص نے جان بوجھ کر اور ارادتاً کفر کا لفظ بولا ہو۔
- رضا و پسندیدگی: اس نے اس کفر کو دل سے قبول کیا ہو یا اس پر راضی ہو۔
اگر کوئی شخص غصے میں یا بے اختیار کوئی لفظ کہہ دے، یا اس کا دل اس پر راضی نہ ہو، تو اسے کافر نہیں کہا جائے گا۔
آپ کی صورتِ حال کا تجزیہ
آپ نے واضح کیا ہے کہ آپ کی نیت توہین کی نہیں تھی، بلکہ آپ نے "نہیں” لگا کر ان الفاظ کی نفی کرنا چاہی تھی۔ اگرچہ لہجے کی وجہ سے یہ جڑا ہوا محسوس نہیں ہوا، لیکن آپ کا ارادہ صاف تھا۔ نیز آپ وسوسے میں مبتلا ہیں، جس کی وجہ سے آپ کو اپنے اعمال پر شک ہوتا ہے۔
ایسی صورت میں، فقہ حنفی کے مطابق آپ پر کفر کا حکم نہیں لگے گا، کیونکہ آپ نے دل سے اسے قبول نہیں کیا اور آپ کی نیت اس کی نفی کی تھی۔
وسوسے اور ڈپریشن سے نمٹنے کے لیے عملی ہدایات
- وسوسوں کو نظر انداز کریں: شیطان آپ کو ڈپریشن اور مایوسی میں ڈالنا چاہتا ہے۔ جب بھی ایسا خیال آئے، فوراً "أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ” پڑھیں اور اس خیال کو چھوڑ دیں۔
- نماز اور توبہ جاری رکھیں: نماز نہ چھوڑیں، کیونکہ یہ آپ کو سکون دے گی۔ سچی توبہ کریں اور آئندہ ایسے الفاظ سے بچنے کا عزم کریں۔
- ماہر نفسیات سے رجوع کریں: ڈپریشن اور OCD کا علاج ممکن ہے۔ کسی معالج سے مشورہ کریں۔
- علماء سے رابطہ کریں: اپنے علاقے کے کسی مستند عالم سے ذاتی طور پر مل کر اپنی پریشانی بتائیں۔
نتیجہ
آپ کی بیان کردہ صورتِ حال میں، آپ پر کفر کا حکم نہیں لگے گا، ان شاء اللہ۔ تاہم، یہ ایک سنگین گناہ ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔ اللہ سے توبہ کریں اور آئندہ زبان کی حفاظت کریں۔ اگر آپ کو مزید شک ہو تو کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
حوالہ جات
- الفتاویٰ الہندیہ، کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین، ج 2، ص 276
- رد المحتار علی الدر المختار، کتاب السیر، باب المرتد، ج 4، ص 224
- فتاویٰ شامی، کتاب السیر، باب المرتد، ج 4، ص 224
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ