سوال:
موضوع: میراث
سوال (اردو ترجمہ):
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں اور میرے بھائیوں کے پاس ایک گھر ہے جو ہم نے اپنی والدہ سے 2015ء میں وراثت میں پایا تھا۔
پچھلے حالات اور نظام کی وجہ سے ہم نہ گھر بیچ سکتے تھے نہ خرید سکتے تھے، اور ان تمام سالوں میں میرے ایک بھائی اس گھر کا سارا کرایہ خود لیتے رہے۔
آزادی (تحریر) سے دو ماہ قبل ہم نے یہ گھر تین سالہ مدت کے لیے ایک شخص کو دوبارہ کرائے پر دے دیا تھا، اور اب اس مدت کا ایک سال گزر چکا ہے۔
اب میں اپنے بھائیوں سے وراثت تقسیم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ان کے حصے خرید کر گھر مکمل طور پر خود لے لوں، لیکن وہ مختلف بہانوں سے تاخیر کر رہے ہیں۔
ان کے بہانے یہ ہیں:
قیمت ان کو مناسب نہیں لگتی۔ میں نے انہیں کہا کہ جس شخص پر وہ اعتماد کریں اس سے قیمت لگوا لیں، پھر بھی وہ ایسا نہیں کر رہے۔
بعض کہتے ہیں پہلے کرایہ دار کو گھر سے نکالا جائے۔
کچھ کا خیال ہے کہ اس گھر کا “تجارتی مستقبل” ہے، یہ کسی پروجیکٹ میں بدل سکتا ہے، اس لیے وہ کوئی سرمایہ کار (investor) لانا چاہتے ہیں۔
جبکہ میں چاہتا ہوں کہ ابھی فوری طور پر محاصصہ (تقسیمِ وراثت) ہو جائے، چاہے وہ مجھے صرف میرے حصے کی رقم دے دیں، مجھے گھر اپنی موجودہ حالت میں بھی منظور ہے۔
میرے سوالات:
کیا یہ میرا حق ہے کہ میں ابھی وراثت کی تقسیم کا مطالبہ کروں؟
کیا ان کے یہ بہانے شرعاً میرے حصے کو روکنے کا جواز بن سکتے ہیں؟
اگر میں قانونی طور پر عدالت میں جا کر “ازالۂ شیوع” (یعنی مشترکہ ملکیت ختم کر کے تقسیم کروانے) کی کاروائی کروں، تو کیا میں گناہگار ہوں گا؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کا وراثت میں ملے گھر کی تقسیم کا مطالبہ شرعاً جائز اور آپ کا حق ہے۔ شریعت میں وراثت کی تقسیم میں تاخیر کرنا یا بغیر کسی شرعی عذر کے کسی وارث کو اس کے حصے سے محروم رکھنا ناجائز ہے۔
کیا آپ کا مطالبہ حق ہے؟
جی ہاں، جب بھی کوئی وارث اپنے حصے کا مطالبہ کرے تو دوسرے ورثاء پر شرعاً لازم ہے کہ وہ اسے اس کا حصہ دیں، بشرطیکہ تقسیم ممکن ہو۔ آپ کا یہ مطالبہ کہ ابھی تقسیم ہو جائے، بالکل درست ہے۔
کیا ان کے بہانے شرعاً معتبر ہیں؟
قیمت کا مناسب نہ ہونا
یہ کوئی شرعی عذر نہیں ہے۔ آپ نے انہیں کسی تیسرے معتبر شخص سے قیمت لگوانے کا مشورہ دیا ہے، اگر وہ اس پر راضی نہیں ہوتے تو آپ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔
کرایہ دار کو نکالنے کی شرط
یہ بھی تقسیم میں رکاوٹ نہیں ہے۔ گھر کرایہ دار کے ساتھ بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے، یا کرایہ کی آمدنی کو حصوں کے مطابق تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
تجارتی مستقبل کا بہانہ
یہ بھی تقسیم کو روکنے کا جواز نہیں ہے۔ اگر وہ مستقبل میں منافع کی امید رکھتے ہیں تو وہ آپ کا حصہ خرید سکتے ہیں یا آپ کو اس منافع میں شریک کر سکتے ہیں، لیکن آپ کی رضامندی کے بغیر آپ کے حصے کو روکنا جائز نہیں۔
عدالت میں جانے کا حکم
اگر آپ کے بھائی آپ کا حق دینے سے انکار کر رہے ہیں یا بلاوجہ تاخیر کر رہے ہیں تو آپ کے لیے عدالت میں جانا جائز ہے۔ یہ گناہ نہیں بلکہ اپنے حق کے حصول کا ایک جائز ذریعہ ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ پہلے خاندانی طور پر صلح کی کوشش کریں۔
نتیجہ
آپ کا مطالبہ حق ہے، ان کے بہانے شرعاً قابل قبول نہیں، اور اگر وہ نہ مانیں تو آپ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
- القرآن: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} (النساء: 11)
- حدیث: «لا ضرر ولا ضرار» (سنن ابن ماجہ)
- فتاویٰ ہندیہ: کتاب الشرکۃ، باب القسمۃ
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ