Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

وراثت میں مشترکہ گھر کی تقسیم کا مطالبہ اور شرعی احکام

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

موضوع: میراث
سوال (اردو ترجمہ):
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں اور میرے بھائیوں کے پاس ایک گھر ہے جو ہم نے اپنی والدہ سے 2015ء میں وراثت میں پایا تھا۔
پچھلے حالات اور نظام کی وجہ سے ہم نہ گھر بیچ سکتے تھے نہ خرید سکتے تھے، اور ان تمام سالوں میں میرے ایک بھائی اس گھر کا سارا کرایہ خود لیتے رہے۔
آزادی (تحریر) سے دو ماہ قبل ہم نے یہ گھر تین سالہ مدت کے لیے ایک شخص کو دوبارہ کرائے پر دے دیا تھا، اور اب اس مدت کا ایک سال گزر چکا ہے۔
اب میں اپنے بھائیوں سے وراثت تقسیم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ان کے حصے خرید کر گھر مکمل طور پر خود لے لوں، لیکن وہ مختلف بہانوں سے تاخیر کر رہے ہیں۔
ان کے بہانے یہ ہیں:

قیمت ان کو مناسب نہیں لگتی۔ میں نے انہیں کہا کہ جس شخص پر وہ اعتماد کریں اس سے قیمت لگوا لیں، پھر بھی وہ ایسا نہیں کر رہے۔

بعض کہتے ہیں پہلے کرایہ دار کو گھر سے نکالا جائے۔

کچھ کا خیال ہے کہ اس گھر کا “تجارتی مستقبل” ہے، یہ کسی پروجیکٹ میں بدل سکتا ہے، اس لیے وہ کوئی سرمایہ کار (investor) لانا چاہتے ہیں۔

جبکہ میں چاہتا ہوں کہ ابھی فوری طور پر محاصصہ (تقسیمِ وراثت) ہو جائے، چاہے وہ مجھے صرف میرے حصے کی رقم دے دیں، مجھے گھر اپنی موجودہ حالت میں بھی منظور ہے۔
میرے سوالات:

کیا یہ میرا حق ہے کہ میں ابھی وراثت کی تقسیم کا مطالبہ کروں؟

کیا ان کے یہ بہانے شرعاً میرے حصے کو روکنے کا جواز بن سکتے ہیں؟

اگر میں قانونی طور پر عدالت میں جا کر “ازالۂ شیوع” (یعنی مشترکہ ملکیت ختم کر کے تقسیم کروانے) کی کاروائی کروں، تو کیا میں گناہگار ہوں گا؟


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کا وراثت میں ملے گھر کی تقسیم کا مطالبہ شرعاً جائز اور آپ کا حق ہے۔ شریعت میں وراثت کی تقسیم میں تاخیر کرنا یا بغیر کسی شرعی عذر کے کسی وارث کو اس کے حصے سے محروم رکھنا ناجائز ہے۔

کیا آپ کا مطالبہ حق ہے؟

جی ہاں، جب بھی کوئی وارث اپنے حصے کا مطالبہ کرے تو دوسرے ورثاء پر شرعاً لازم ہے کہ وہ اسے اس کا حصہ دیں، بشرطیکہ تقسیم ممکن ہو۔ آپ کا یہ مطالبہ کہ ابھی تقسیم ہو جائے، بالکل درست ہے۔

کیا ان کے بہانے شرعاً معتبر ہیں؟

قیمت کا مناسب نہ ہونا

یہ کوئی شرعی عذر نہیں ہے۔ آپ نے انہیں کسی تیسرے معتبر شخص سے قیمت لگوانے کا مشورہ دیا ہے، اگر وہ اس پر راضی نہیں ہوتے تو آپ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

کرایہ دار کو نکالنے کی شرط

یہ بھی تقسیم میں رکاوٹ نہیں ہے۔ گھر کرایہ دار کے ساتھ بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے، یا کرایہ کی آمدنی کو حصوں کے مطابق تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

تجارتی مستقبل کا بہانہ

یہ بھی تقسیم کو روکنے کا جواز نہیں ہے۔ اگر وہ مستقبل میں منافع کی امید رکھتے ہیں تو وہ آپ کا حصہ خرید سکتے ہیں یا آپ کو اس منافع میں شریک کر سکتے ہیں، لیکن آپ کی رضامندی کے بغیر آپ کے حصے کو روکنا جائز نہیں۔

عدالت میں جانے کا حکم

اگر آپ کے بھائی آپ کا حق دینے سے انکار کر رہے ہیں یا بلاوجہ تاخیر کر رہے ہیں تو آپ کے لیے عدالت میں جانا جائز ہے۔ یہ گناہ نہیں بلکہ اپنے حق کے حصول کا ایک جائز ذریعہ ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ پہلے خاندانی طور پر صلح کی کوشش کریں۔

نتیجہ

آپ کا مطالبہ حق ہے، ان کے بہانے شرعاً قابل قبول نہیں، اور اگر وہ نہ مانیں تو آپ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات

  • القرآن: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} (النساء: 11)
  • حدیث: «لا ضرر ولا ضرار» (سنن ابن ماجہ)
  • فتاویٰ ہندیہ: کتاب الشرکۃ، باب القسمۃ

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.