سوال:
موضوع: فقہِ حنفی میں نکاح کے الفاظ یا توجہ میں شبہ کے باوجود نکاح کی صحت
سوال:
موضوع: فقہِ حنفی میں نکاح کے الفاظ یا توجہ میں ممکنہ شبہ کے باوجود نکاح کی صحت کا حکم
نکاح کے وقت نکاح خواں (قاضی/مولوی صاحب) نے یوں کہا:
"میں نے آپ کا نکاح فلاں بنتِ فلاں کے ساتھ مقررہ مہرِ معجّل (حقِ مہر) پر پڑھا۔ آپ کہیں: 'میں نے قبول کیا'۔"
میں نے جواب میں کہا:
"میں نے قبول کیا"۔
اب میرے دل میں دو قسم کے وسوسے پیدا ہوئے ہیں:
پہلا وسوسہ:
نکاح خواں نے مجھ سے سوالیہ انداز میں نہیں کہا تھا کہ “کیا آپ قبول کرتے ہیں؟” بلکہ انہوں نے بیانیہ انداز میں کہا: “آپ کہیں: میں نے قبول کیا۔”
تو کیا ممکن ہے کہ یہ محض تلقین (dictation) تھی، اور میری “میں نے قبول کیا” والی بات حقیقی قبولِ نکاح شمار نہ ہو؟
حالانکہ میں نے پورے دل سے، خوشی اور رضا مندی کے ساتھ “میں نے قبول کیا” کہا تھا، مجھ پر کوئی جبر نہیں تھا۔
دوسرا وسوسہ:
اب یہ خیال آتا ہے کہ شاید میں نے نکاح خواں کا پورا جملہ غور سے نہیں سنا —
ممکن ہے میں نے صرف یہ سنا ہو کہ “آپ کہیں: میں نے قبول کیا”،
اور شاید پورا جملہ “میں نے آپ کا نکاح فلاں بنتِ فلاں کے ساتھ اتنے مہر پر پڑھا” پوری طرح کانوں میں نہ آیا ہو۔
البتہ مجھے مکمل طور پر علم تھا کہ میں کس خاتون سے نکاح کر رہا ہوں، ان کے والد کون ہیں، اور مہر کی رقم و نوعیت کیا ہے۔
👉 سوال:
اگر میں نے نکاح خواں کا پورا جملہ نہ سنا ہو،
یا انہوں نے سوالیہ انداز میں نہیں بلکہ بیانیہ انداز میں کہا ہو،
لیکن میں نے “میں نے قبول کیا” پورے شعور، رضا، اور خوشی کے ساتھ کہا ہو —
تو فقہِ حنفی کے مطابق کیا میرا نکاح صحیح اور معتبر ہے؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
فقہ حنفی میں نکاح کی صحت کے لیے ایجاب (عرض) اور قبول (قبول) کا ہونا ضروری ہے۔ ایجاب وہ الفاظ ہیں جن سے نکاح کا عقد کیا جائے، اور قبول اس کا جواب ہوتا ہے۔ آپ کے سوال میں دو وسوسوں کا ذکر ہے، ہم ان کا جائزہ لیتے ہیں۔
پہلا وسوسہ: بیانیہ انداز اور تلقین کا مسئلہ
نکاح خواں کا یہ کہنا کہ "آپ کہیں: میں نے قبول کیا” دراصل ایجاب کی ایک صورت ہے۔ فقہ حنفی میں ایجاب کے لیے ضروری نہیں کہ وہ سوالیہ انداز میں ہو، بلکہ کوئی بھی ایسا جملہ جس سے نکاح کا ارادہ ظاہر ہو، ایجاب شمار ہوتا ہے۔ نکاح خواں نے واضح طور پر کہا: "میں نے آپ کا نکاح فلاں بنت فلاں کے ساتھ مقررہ مہر پر پڑھا”، یہ ایجاب ہے۔ اس کے بعد آپ کا "میں نے قبول کیا” کہنا قبول ہے۔ تلقین (dictation) کی صورت میں بھی اگر آپ نے پوری رضا مندی سے قبول کیا تو نکاح صحیح ہے، کیونکہ قبول کا تعلق نیت اور رضا سے ہے، نہ کہ الفاظ کی ادائیگی کے طریقے سے۔
دوسرا وسوسہ: ایجاب کا سننے میں شک
اگر آپ نے نکاح خواں کا پورا جملہ نہیں سنا، لیکن آپ کو مکمل علم تھا کہ آپ کس خاتون سے نکاح کر رہے ہیں، ان کے والد کون ہیں، اور مہر کیا ہے، تو یہ علم کافی ہے۔ فقہ حنفی میں نکاح کی صحت کے لیے ایجاب و قبول کا سننا ضروری ہے، لیکن اگر کوئی شخص جزوی طور پر سنے اور اسے پورا علم ہو تو نکاح صحیح ہے۔ البتہ اگر آپ کو ایجاب کے بارے میں کوئی شک ہو تو احتیاطاً نکاح کا اعادہ کر لینا بہتر ہے، لیکن شرعاً آپ کا نکاح صحیح ہے۔
خلاصہ
فقہ حنفی کے مطابق آپ کا نکاح صحیح اور معتبر ہے، کیونکہ آپ نے پوری رضا مندی اور شعور کے ساتھ "میں نے قبول کیا” کہا، اور آپ کو نکاح کے تمام ارکان (دولہا، دلہن، مہر، ولی) کا علم تھا۔ وسوسوں کو نظر انداز کریں اور نکاح کو درست سمجھیں۔
حوالہ جات
- الفتاویٰ الہندیہ، کتاب النکاح، باب الایجاب و القبول
- رد المحتار علی الدر المختار، کتاب النکاح
- فتاویٰ شامی، جلد 3، کتاب النکاح
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ