سوال:
کیا ناک سے خون بہنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اگر خون منہ تک نہیں پہنچا، لیکن خون صرف ناک کے راستے سے حلق میں چلا گیا؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
روزہ کی حالت میں ناک سے خون بہنا ایک عام مسئلہ ہے۔ اس کا حکم اس بات پر منحصر ہے کہ خون حلق (گلے) میں کس طرح پہنچا۔
ناک سے خون بہنے کی صورتیں
اگر ناک سے خون بہے اور وہ منہ میں نہ آئے، بلکہ صرف ناک کے راستے سے حلق میں چلا جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں:
1. خون خود بخود حلق میں چلا جائے
اگر خون بغیر کسی ارادے کے خود بخود ناک سے حلق میں چلا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ کیونکہ یہ مجبوری کی حالت ہے اور اس میں روزہ دار کا کوئی قصور نہیں۔
2. خون کو جان بوجھ کر حلق میں اتارا جائے
اگر روزہ دار نے جان بوجھ کر خون کو حلق میں اتارا، مثلاً ناک میں پانی ڈالتے ہوئے خون کو نگل لیا، تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔
خلاصہ
اگر ناک سے خون بہے اور وہ بغیر ارادے کے ناک کے راستے حلق میں چلا جائے تو روزہ صحیح ہے۔ لیکن اگر جان بوجھ کر خون کو حلق میں اتارا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی۔
تاہم، یہ ایک عمومی رہنمائی ہے۔ بہتر ہے کہ اپنے علاقے کے کسی مستند مفتی سے تفصیلی مسئلہ پوچھ لیں۔
حوالہ جات
- الفتاوى الهندية، كتاب الصوم، الباب الرابع: فيما يفسد الصوم وما لا يفسد
- رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ