Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

ناک سے خون بہنے سے روزہ کا حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

کیا ناک سے خون بہنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اگر خون منہ تک نہیں پہنچا، لیکن خون صرف ناک کے راستے سے حلق میں چلا گیا؟


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

روزہ کی حالت میں ناک سے خون بہنا ایک عام مسئلہ ہے۔ اس کا حکم اس بات پر منحصر ہے کہ خون حلق (گلے) میں کس طرح پہنچا۔

ناک سے خون بہنے کی صورتیں

اگر ناک سے خون بہے اور وہ منہ میں نہ آئے، بلکہ صرف ناک کے راستے سے حلق میں چلا جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں:

1. خون خود بخود حلق میں چلا جائے

اگر خون بغیر کسی ارادے کے خود بخود ناک سے حلق میں چلا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ کیونکہ یہ مجبوری کی حالت ہے اور اس میں روزہ دار کا کوئی قصور نہیں۔

2. خون کو جان بوجھ کر حلق میں اتارا جائے

اگر روزہ دار نے جان بوجھ کر خون کو حلق میں اتارا، مثلاً ناک میں پانی ڈالتے ہوئے خون کو نگل لیا، تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

خلاصہ

اگر ناک سے خون بہے اور وہ بغیر ارادے کے ناک کے راستے حلق میں چلا جائے تو روزہ صحیح ہے۔ لیکن اگر جان بوجھ کر خون کو حلق میں اتارا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی۔

تاہم، یہ ایک عمومی رہنمائی ہے۔ بہتر ہے کہ اپنے علاقے کے کسی مستند مفتی سے تفصیلی مسئلہ پوچھ لیں۔

حوالہ جات

  • الفتاوى الهندية، كتاب الصوم، الباب الرابع: فيما يفسد الصوم وما لا يفسد
  • رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینے اور نس بندی کا حکم

دلوں کا حال جاننے کا عقیدہ

بار بار چوٹ لگنا اور والدین کی توجہ نہ ملنا: اسلامی رہنمائی

ایک 18 سالہ مسلمان کے لیے فقہ الاولویات کی روشنی میں ترجیحات کا تعین

حج کے بعد بھورے مادے کی حالت میں طواف وداع کا حکم

والد کا درگاہ سے لائے گئے پھول موٹر سائیکل پر رکھنا اور بیٹے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینے اور نس بندی کا حکم
جون 22, 2026
Read More »
دلوں کا حال جاننے کا عقیدہ
جون 22, 2026
Read More »
بار بار چوٹ لگنا اور والدین کی توجہ نہ ملنا: اسلامی رہنمائی
جون 22, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.