سوال:
کفر سے متعلق سوال 2:
میں جانتا تھا کہ نامحرم سے بات کرنا گناہ ہے، لیکن میں یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ اگر کوئی شخص نامحرم سے محبت کرے اور اس سے بات کرے تو یہ گناہ نہیں، کیونکہ محبت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ مجھے یہ احساس نہیں تھا کہ اس طرح کا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔ بعض اوقات مجھے یہ تو سمجھ آتا تھا کہ یہ بات غلط ہے، مگر یہ نہیں سمجھتا تھا کہ یہ کفر ہے۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ کفر ہے تو میں ہرگز یہ غلطی نہ کرتا۔
کیا اس صورت میں مجھ پر مؤاخذہ ہوگا؟ اور کیا میری پچھلی عبادات معتبر ہیں؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے جو عقیدہ رکھا کہ نامحرم سے محبت اور بات چیت گناہ نہیں کیونکہ محبت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ عقیدہ درست نہیں تھا۔ لیکن اسے کفر قرار دینے کے لیے کچھ شرائط ہیں۔
عقیدے کی غلطی اور کفر میں فرق
کسی گناہ کو جائز سمجھنا یا اسے گناہ نہ سمجھنا، اگر یہ عقیدہ شریعت کے کسی قطعی حکم کے خلاف ہو تو کفر ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ:
- شخص کو یہ معلوم ہو کہ یہ عقیدہ کفر ہے۔
- وہ جان بوجھ کر اور ضد سے اسے اختیار کرے۔
آپ نے خود لکھا ہے کہ آپ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ عقیدہ کفر ہے، اور اگر معلوم ہوتا تو آپ ایسا نہ کرتے۔ اس صورت میں آپر مؤاخذہ نہیں ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا (البقرہ: 286)۔
پچھلی عبادات کا حکم
جب آپ کو اس عقیدے کے کفر ہونے کا علم نہیں تھا، تو آپ کی پچھلی عبادات معتبر ہیں، بشرطیکہ آپ نے ان عبادات کو صحیح طریقے سے ادا کیا ہو۔ لیکن اب جب آپ کو اس کی حقیقت معلوم ہو گئی ہے، تو آپ کو اس عقیدے سے توبہ کرنی چاہیے اور اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔
توبہ کا طریقہ
توبہ کے لیے تین شرطیں ہیں:
- گناہ سے فوراً رک جائیں۔
- اس پر ندامت ہو۔
- آئندہ نہ کرنے کا عزم کریں۔
آپ اپنے اس غلط عقیدے سے رجوع کریں اور اللہ سے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے ہیں۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 286
- صحیح البخاری: کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لدینہ
- فتاویٰ ہندیہ: کتاب الکراہیہ، باب الردۃ
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ