سوال:
A woman's husband has been missing for a long time (approximately two years). And she knows nothing about him, nor does she know his family, nor anyone else. And this man's house, property, etc., nothing is with her, through which she could sustain herself. In such circumstances, she has fallen in love with another man, and he has also fallen in love with her. So what should she do now? Should she wander around alone without any means or is there any solution? Until now, her living was in an institution where she used to teach, but now they also do not want to give her accommodation.
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
اللہ تعالیٰ نے نکاح کو ایک مضبوط عہد بنایا ہے، لیکن جب شوہر لاپتہ ہو جائے اور بیوی تنہا مشکلات کا شکار ہو، تو شرعی طور پر اس کے لیے راہ نکالی گئی ہے۔ آپ کے سوال میں بتائے گئے حالات میں عورت کے لیے کچھ شرعی احکام ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔
لاپتہ شوہر کا شرعی حکم
شوہر کے لاپتہ ہونے کی صورت میں بیوی فوری طور پر دوسری شادی نہیں کر سکتی۔ اسے عدالت یا قاضی کے پاس جانا چاہیے تاکہ وہ شوہر کی تلاش کا حکم دے۔ اگر شوہر کا کوئی پتہ نہ چلے اور اس کی زندگی یا موت کی کوئی خبر نہ ہو، تو قاضی اسے مفقود الخبر قرار دے سکتا ہے۔
عدت اور طلاق کا حکم
اگر شوہر کی موت ثابت نہ ہو، تو بیوی اس وقت تک دوسری شادی نہیں کر سکتی جب تک کہ قاضی اسے طلاق یا فسخ نکاح کا حکم نہ دے دے۔ عام طور پر چار سال کی تلاش کے بعد قاضی طلاق کا حکم دے سکتا ہے، لیکن یہ مدت مختلف فقہی مذاہب میں مختلف ہے۔
محبت کے جذبات کا شرعی حکم
محبت کے جذبات کا پیدا ہونا فطری ہے، لیکن جب تک نکاح ختم نہ ہو، کسی دوسرے مرد سے تعلقات رکھنا یا شادی کرنا جائز نہیں۔ اس لیے عورت کو چاہیے کہ وہ صبر کرے اور اللہ سے مدد مانگے۔
عملی حل
- قاضی یا مفتی سے رجوع کریں تاکہ شوہر کی تلاش کا باقاعدہ انتظام کیا جا سکے۔
- اگر شوہر کا کوئی پتہ نہ چلے، تو قاضی چار سال کے بعد طلاق کا حکم دے سکتا ہے۔
- اس عرصے میں عورت کو اپنی زندگی بسر کرنے کے لیے کسی سرکاری یا فلاحی ادارے سے مدد لینی چاہیے۔
- اگر وہ پڑھاتی تھی، تو دوسرے اداروں میں نوکری تلاش کرے یا کسی رشتہ دار کے پاس رہائش اختیار کرے۔
نتیجہ
عورت کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ صبر کرے اور شرعی راستہ اختیار کرے۔ جب تک نکاح ختم نہ ہو، دوسری شادی جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورہ الطلاق، آیت 2-3
- صحیح البخاری: کتاب الطلاق
- فتاویٰ ہندیہ: کتاب الطلاق، باب المفقود
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ