Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

لاپتہ شوہر والی عورت کا مسئلہ اور شرعی حل

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

A woman's husband has been missing for a long time (approximately two years). And she knows nothing about him, nor does she know his family, nor anyone else. And this man's house, property, etc., nothing is with her, through which she could sustain herself. In such circumstances, she has fallen in love with another man, and he has also fallen in love with her. So what should she do now? Should she wander around alone without any means or is there any solution? Until now, her living was in an institution where she used to teach, but now they also do not want to give her accommodation.


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

اللہ تعالیٰ نے نکاح کو ایک مضبوط عہد بنایا ہے، لیکن جب شوہر لاپتہ ہو جائے اور بیوی تنہا مشکلات کا شکار ہو، تو شرعی طور پر اس کے لیے راہ نکالی گئی ہے۔ آپ کے سوال میں بتائے گئے حالات میں عورت کے لیے کچھ شرعی احکام ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔

لاپتہ شوہر کا شرعی حکم

شوہر کے لاپتہ ہونے کی صورت میں بیوی فوری طور پر دوسری شادی نہیں کر سکتی۔ اسے عدالت یا قاضی کے پاس جانا چاہیے تاکہ وہ شوہر کی تلاش کا حکم دے۔ اگر شوہر کا کوئی پتہ نہ چلے اور اس کی زندگی یا موت کی کوئی خبر نہ ہو، تو قاضی اسے مفقود الخبر قرار دے سکتا ہے۔

عدت اور طلاق کا حکم

اگر شوہر کی موت ثابت نہ ہو، تو بیوی اس وقت تک دوسری شادی نہیں کر سکتی جب تک کہ قاضی اسے طلاق یا فسخ نکاح کا حکم نہ دے دے۔ عام طور پر چار سال کی تلاش کے بعد قاضی طلاق کا حکم دے سکتا ہے، لیکن یہ مدت مختلف فقہی مذاہب میں مختلف ہے۔

محبت کے جذبات کا شرعی حکم

محبت کے جذبات کا پیدا ہونا فطری ہے، لیکن جب تک نکاح ختم نہ ہو، کسی دوسرے مرد سے تعلقات رکھنا یا شادی کرنا جائز نہیں۔ اس لیے عورت کو چاہیے کہ وہ صبر کرے اور اللہ سے مدد مانگے۔

عملی حل

  • قاضی یا مفتی سے رجوع کریں تاکہ شوہر کی تلاش کا باقاعدہ انتظام کیا جا سکے۔
  • اگر شوہر کا کوئی پتہ نہ چلے، تو قاضی چار سال کے بعد طلاق کا حکم دے سکتا ہے۔
  • اس عرصے میں عورت کو اپنی زندگی بسر کرنے کے لیے کسی سرکاری یا فلاحی ادارے سے مدد لینی چاہیے۔
  • اگر وہ پڑھاتی تھی، تو دوسرے اداروں میں نوکری تلاش کرے یا کسی رشتہ دار کے پاس رہائش اختیار کرے۔

نتیجہ

عورت کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ صبر کرے اور شرعی راستہ اختیار کرے۔ جب تک نکاح ختم نہ ہو، دوسری شادی جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورہ الطلاق، آیت 2-3
  • صحیح البخاری: کتاب الطلاق
  • فتاویٰ ہندیہ: کتاب الطلاق، باب المفقود

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.