سوال:
یہ ایک اہم سوال ہے جو جواب نہ ملنے کی وجہ سے مجھے شدید پریشانی میں مبتلا کر رہا ہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میں آپ کی خدمت میں نام نہاد **فَنڈڈ اکاؤنٹس (Funded Accounts)** کے بارے میں ایک شرعی مسئلہ پیش کرنا چاہتا ہوں، خصوصاً **FundedNext** کمپنی کے حوالے سے، اور آپ سے اس کا شرعی حکم واضح کرنے کی درخواست ہے۔
میں نے کمپنی کے سپورٹ سے رابطہ کیا، تو انہوں نے درج ذیل وضاحت کی:
* تمام اکاؤنٹس ہر مرحلے میں **فرضی / سیمولیٹڈ (Demo / Simulated)** ہوتے ہیں، چاہے وہ فنڈنگ سے پہلے ہوں یا بعد میں۔
* کسی بھی مرحلے پر حقیقی مارکیٹ میں کوئی ٹریڈ نافذ نہیں کی جاتی۔
* کسی بینک، بروکر یا لیکویڈیٹی فراہم کرنے والے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
* کوئی حقیقی معاہدات (جیسے CFDs یا Futures) موجود نہیں ہوتے، بلکہ تمام ٹریڈنگ مکمل طور پر فرضی ہوتی ہے۔
* میری ٹریڈز کو کسی دوسرے اکاؤنٹ میں کاپی نہیں کیا جاتا اور نہ ہی میری حکمتِ عملی کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
* جو رقم دی جاتی ہے وہ حقیقی مارکیٹ سے حاصل ہونے والا منافع نہیں بلکہ ایک **ٹیسٹ اور کارکردگی کے جائزے** کو کامیابی سے مکمل کرنے پر دی جانے والی **انعامی رقم (Reward)** ہوتی ہے۔
اس وضاحت کی بنیاد پر، محض تصوّر کے اعتبار سے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ:
* یہاں **ربا** موجود نہیں، کیونکہ نہ کوئی قرض ہے اور نہ حقیقی مال۔
* حقیقی مال میں **غرر** بھی نہیں، کیونکہ کوئی واقعی خرید و فروخت نہیں ہو رہی، سب کچھ فرضی ہے۔
* **گناہ میں معاونت** بھی نہیں، کیونکہ یہ ٹریڈنگ حقیقی مالی منڈی میں استعمال نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا مارکیٹ پر کوئی اثر پڑتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے:
* کیا شرعی نقطۂ نظر سے یہ فہم درست ہے؟
* کیا اس قسم کا معاملہ شرعاً جائز ہے، یا اس میں کوئی ایسے شرعی قباحتیں یا مخفی علّتیں ہیں جن کی طرف میری توجہ نہیں گئی؟
جزاکم اللہ خیراً،
اللہ آپ کے علم میں برکت عطا فرمائے اور آپ کے ذریعے نفع پہنچائے۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے FundedNext جیسی کمپنیوں کے فنڈڈ اکاؤنٹس کے بارے میں جو تفصیلات فراہم کی ہیں، ان کی روشنی میں یہ معاملہ درج ذیل شرعی اصولوں کے تحت جائز ہو سکتا ہے، بشرطیکہ کمپنی کی فراہم کردہ معلومات درست اور حقیقت پر مبنی ہوں۔ تاہم، حتمی فتویٰ کسی مستند مفتی سے رجوع کر کے حاصل کریں۔
بنیادی شرعی اصول
اسلامی معاملات میں جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ معاہدہ ربا، غرر (دھوکہ)، جوا، اور ناجائز چیزوں میں معاونت سے پاک ہو۔ آپ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق:
- ربا کا فقدان: چونکہ کوئی حقیقی قرض یا مال نہیں ہے، اس لیے ربا کا امکان نہیں۔
- غرر کا فقدان: چونکہ تمام لین دین فرضی ہے اور حقیقی خرید و فروخت نہیں ہوتی، اس لیے حقیقی مال میں غرر نہیں۔
- جوے سے بچاؤ: اگر انعام صرف مہارت اور کارکردگی کی بنیاد پر دیا جاتا ہے، نہ کہ خالص قسمت پر، تو یہ جوا نہیں بلکہ ایک جائز انعامی مقابلہ ہو سکتا ہے۔
- ناجائز کاموں میں معاونت: چونکہ یہ فرضی ٹریڈنگ حقیقی مارکیٹ کو متاثر نہیں کرتی، اس لیے اس میں ناجائز کاموں میں معاونت کا امکان کم ہے۔
ممکنہ شرعی قباحتیں
تاہم، درج ذیل نکات پر غور کرنا ضروری ہے:
1. معاہدے کی نوعیت
یہ معاہدہ دراصل ایک انعامی مقابلہ (Reward-based Competition) ہے، جہاں کمپنی اپنے مقرر کردہ معیارات پر پورا اترنے والے کو انعام دیتی ہے۔ یہ اس وقت جائز ہے جب:
- انعام کا تعین پہلے سے واضح ہو۔
- مقابلہ کسی بھی قسم کے دھوکے یا فریب سے پاک ہو۔
- شرکت کی فیس (اگر کوئی ہو) معقول اور غیر غرری ہو۔
2. فیس کا مسئلہ
اگر کمپنی اکاؤنٹ کھولنے یا چیلنج میں شامل ہونے کے لیے فیس لیتی ہے، تو یہ فیس اس وقت جائز ہے جب وہ مقابلے کے انتظامی اخراجات کے لیے ہو، نہ کہ جوئے کی رقم کی طرح۔ اگر فیس بہت زیادہ ہو یا اس کا تعلق انعام سے براہ راست نہ ہو، تو یہ غرر کا سبب بن سکتی ہے۔
3. حقیقت سے مطابقت
یہ ضروری ہے کہ کمپنی کی فراہم کردہ معلومات حقیقت سے مطابقت رکھتی ہوں۔ اگر بعد میں پتہ چلے کہ کوئی حقیقی ٹریڈنگ ہو رہی ہے یا صارفین کے پیسے کسی اور طرح استعمال ہو رہے ہیں، تو حکم بدل سکتا ہے۔
خلاصہ
بشرطیکہ کمپنی کی فراہم کردہ تفصیلات درست ہوں اور معاہدہ غرر، ربا، اور جوئے سے پاک ہو، اس قسم کا معاملہ شرعاً جائز ہو سکتا ہے۔ تاہم، چونکہ اس میں کچھ پیچیدہ پہلو ہیں، اس لیے کسی مستند مفتی سے ذاتی طور پر رجوع کر کے حتمی فتویٰ حاصل کرنا بہتر ہوگا۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورة البقرة، آیت 275 (ربا کی حرمت)
- حدیث: "لا ضرر ولا ضرار” (سنن ابن ماجہ، کتاب الأحکام)
- فتاویٰ شامی، کتاب البیوع، باب الربا
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ