سوال:
السلام علیکم
میرے سامنے طلاق سے متعلق ایک صورتِ حال پیش آئی ہے جس کے بارے میں مجھے شرعی رہنمائی درکار ہے۔
ایک شخص نے شدید غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دی۔ اس وقت بیوی وہاں موجود نہیں تھی، صرف اس کا بھائی اور اس کا بیٹا موجود تھے۔
اس شخص کے پاس پہلے ہی صرف ایک طلاق باقی تھی، مگر اس نے غصے کی حالت میں طلاق کے الفاظ کئی مرتبہ ادا کیے۔
اس بارے میں میرے سوالات یہ ہیں:
کیا اس صورت میں شرعاً طلاق واقع ہو گئی ہے؟
اگر طلاق واقع ہو گئی ہے اور یہ آخری طلاق تھی، تو اس کا کیا حکم ہوگا؟
طلاق کے بعد شوہر اور بیوی کے کیا حقوق اور ذمہ داریاں ہوں گی؟
شرعی اعتبار سے اس معاملے کو درست طریقے سے نمٹانے کے لیے کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟
جزاکم اللہ خیراً
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
غصے کی حالت میں طلاق دینے کا مسئلہ اہم اور نازک ہے۔ شریعت میں غصے کی مختلف کیفیات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ذیل میں آپ کے سوالات کے جوابات پیش کیے جاتے ہیں۔
غصے کی حالت میں طلاق کا حکم
عام طور پر غصے کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے، بشرطیکہ غصہ اتنا شدید نہ ہو کہ عقل و ہوش ختم ہو جائے۔ اگر غصہ انتہائی درجے کا ہو اور انسان کو اپنی بات کا علم نہ ہو، تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔ تاہم، عام غصہ جس میں انسان اپنے الفاظ سے واقف ہو، اس میں طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
ایک سے زیادہ طلاق کا حکم
اگر کسی شخص نے ایک مجلس میں ایک سے زیادہ طلاقیں دی ہیں، تو جمہور فقہاء کے نزدیک تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اور نکاح ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم، بعض فقہاء (خاص طور پر حنفی مسلک میں) ایک مجلس میں تین طلاقوں کو تین شمار کرتے ہیں اور نکاح ختم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اگر یہ آخری (تیسری) طلاق تھی، تو نکاح ختم ہو گیا ہے اور بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے۔
طلاق کے بعد حقوق و ذمہ داریاں
طلاق کے بعد شوہر پر عدت کے اخراجات (نان و نفقہ) ادا کرنا واجب ہے۔ عدت کی مدت تین ماہواری یا حمل کی صورت میں وضع حمل ہے۔ اس دوران بیوی شوہر کے گھر میں رہے گی اور شوہر اسے نفقہ دے گا۔ عدت کے بعد بیوی اپنی مرضی سے دوسری جگہ جا سکتی ہے۔ اگر طلاق رجعی ہو (یعنی پہلی یا دوسری طلاق) تو شوہر عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے، لیکن تیسری طلاق کے بعد رجوع ممکن نہیں۔
شرعی اقدامات
اس معاملے کو درست طریقے سے نمٹانے کے لیے درج ذیل اقدامات کریں:
- کسی مستند عالم یا مفتی سے رجوع کریں تاکہ صورت حال کی مکمل تفصیل بتا کر شرعی حکم معلوم کریں۔
- اگر طلاق واقع ہو گئی ہے تو عدت کے احکام پر عمل کریں۔
- اگر تیسری طلاق ہے تو دونوں فریقین کے لیے حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح جائز نہیں۔
- معاملے کو عدالت میں لے جانے سے پہلے شرعی مشورہ ضرور لیں۔
یاد رکھیں کہ طلاق کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے، لہٰذا جلد از جلد کسی عالم سے رجوع کریں۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 229-230
- صحیح بخاری، کتاب الطلاق
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الطلاق
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ