سوال:
تو میں اور میرے شوہر ناراض تھے اور میں حالتِ طہر میں تھی لیکن اس سائیکل میں ہم نے پہلے جنسی تعلق قائم کیا تھا۔ میں نے اپنے شوہر سے مجھے طلاق دینے کو کہا کیونکہ وہ بہت زیادہ بدسلوکی کرتا تھا اور مجھے مارتا تھا۔ میرے بھائی سسرال والے فون پر تھے اور میرے شوہر نے میرے سامنے مجھے تین بار طلاق دی، کہتے ہوئے کہ میں اپنے پورے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔ وہ اس وقت ناراض تھا لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ انتہائی ناراض تھا یا نہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ انتہائی ناراض تھا۔ کیا ہماری شادی ختم ہو گئی ہے یا ہم قرآن و سنت کے مطابق صلح کر سکتے ہیں؟ کیونکہ ہم صلح کرنا چاہتے ہیں۔ اور توبہ کے لیے تیار ہیں۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے جو صورت حال بیان کی ہے، اس میں شوہر نے غصے کی حالت میں ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی ہیں۔ اس مسئلے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، لیکن جمہور فقہاء کے نزدیک تین طلاقیں ایک ساتھ دینے سے تینوں واقع ہو جاتی ہیں اور نکاح ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم، بعض علماء (خاص طور پر حنفی مسلک میں) غصے کی شدت اور نیت پر غور کرتے ہیں۔
غصے کی حالت میں طلاق کا حکم
حدیث میں ہے: لَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ (یعنی بندش کی حالت میں نہ طلاق ہے نہ آزادی)۔ اس حدیث کی تشریح میں علماء نے کہا ہے کہ اگر غصہ اتنا شدید ہو کہ انسان اپنے قابو میں نہ رہے، تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن اگر غصہ ہو مگر انسان اپنے الفاظ پر قابو رکھتا ہو، تو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
آپ کے معاملے میں کیا حکم ہے؟
آپ کے شوہر نے واضح الفاظ میں تین بار طلاق کہی، اور وہ اپنے ہوش میں تھے (جیسا کہ انہوں نے خود کہا)۔ اس لیے جمہور فقہاء کے مطابق تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں اور نکاح ختم ہو گیا ہے۔ تاہم، اگر وہ واقعی انتہائی غصے میں تھے اور ان کا قابو نہ تھا، تو اس کا فیصلہ کسی مستند مفتی یا عالم سے کرانا ضروری ہے۔
کیا صلح ممکن ہے؟
اگر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں تو شرعی طور پر دوبارہ صلح (رجوع) ممکن نہیں، کیونکہ یہ طلاق مغلظہ (بائن) ہے۔ اس صورت میں حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا۔ حلالہ کا مطلب ہے کہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے، پھر وہ طلاق دے یا فوت ہو جائے، اس کے بعد عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔ لیکن یہ انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے اور اس میں دھوکہ دینا حرام ہے۔
توبہ اور اللہ سے معافی
آپ دونوں کو اپنے گناہوں پر سچی توبہ کرنی چاہیے۔ شوہر کو چاہیے کہ وہ غصے میں طلاق دینے پر نادم ہو اور آئندہ اس سے بچے۔ اگر آپ دونوں سچے دل سے توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والے ہیں۔
نتیجہ
بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مستند مفتی صاحب سے رجوع کریں اور پوری تفصیل بتائیں۔ وہ غصے کی شدت اور دیگر حالات کا جائزہ لے کر شرعی فیصلہ دیں گے۔ اگر طلاق واقع نہ ہوئی ہو تو صلح ممکن ہے، ورنہ حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح جائز نہیں۔
حوالہ جات
- سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 2193 (باب فی الطلاق فی الاغلاق)
- الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطلاق، باب الطلاق فی الاغلاق
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب السادس فی الطلاق فی الاغلاق
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ