سوال:
السلام علیکم مفتی صاحب میرا نام شیزان علی ہے اور میں راولپنڈی کا رہائشی ہوں میری بیوی نے ایک جگہ سے فتویٰ لیا کہ عدالتی یکطرفہ خلع حرام ہوتی ہے یا نہیں جو کہ اسے کہا گیا کہ یہ حرام ہے اس کے بعد بھی اس نے عدالت سے خلع لے لی اب خلع ہوۓ 3 مہینے ہو چکے ہیں اب میں اور وہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن میرے گھر والے کہتے ہیں کے عدالتی خلع کے بعد ساتھ رہنا جائز نہیں ہے جب کہ میں نے کبھی طلاق نہیں دی ہے اس نے عدالت سے یکطرفہ خلع لی ہے اب آپ مجھے بتا دیں ہمارا مزید ساتھ رہنا جائز ہے یا نہیں
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کے سوال میں بتایا گیا ہے کہ آپ کی بیوی نے عدالت سے یکطرفہ خلع لے لیا، جبکہ آپ نے طلاق نہیں دی۔ اب دونوں ساتھ رہنا چاہتے ہیں، لیکن گھر والے منع کر رہے ہیں۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے چند اہم نکات پیش ہیں۔
خلع کا شرعی حکم
خلع کا مطلب ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے علیحدگی کے لیے کچھ معاوضہ دے کر نکاح ختم کرائے۔ شرعی طور پر خلع جائز ہے، لیکن اس کے لیے شوہر کی رضامندی ضروری ہے۔ اگر شوہر راضی نہ ہو تو بیوی عدالت میں درخواست دے سکتی ہے، اور عدالت شرعی بنیادوں پر خلع کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
عدالتی یکطرفہ خلع کا حکم
اگر عدالت نے شرعی اصولوں کے مطابق خلع کا فیصلہ دیا ہے تو یہ خلع شرعاً معتبر ہوگا۔ لیکن اگر عدالت نے بغیر شرعی وجہ کے یا شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع کا فیصلہ دیا ہے تو یہ شرعاً قابل قبول نہیں ہوگا۔ آپ کی بیوی نے پہلے فتویٰ لیا تھا کہ عدالتی یکطرفہ خلع حرام ہے، پھر بھی اس نے عدالت سے خلع لے لیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فتویٰ سے واقف تھی، لیکن اس کے باوجود عمل کیا۔
ساتھ رہنے کا حکم
اگر خلع شرعی طور پر صحیح نہیں ہوا تو نکاح برقرار رہے گا اور آپ دونوں کا ساتھ رہنا جائز ہوگا۔ لیکن اگر خلع شرعی طور پر واقع ہو گیا ہے تو پھر نکاح ختم ہو چکا ہے اور ساتھ رہنا جائز نہیں ہوگا۔ اس صورت میں دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا۔
عملی مشورہ
چونکہ یہ معاملہ پیچیدہ ہے اور اس میں تفصیلی شرعی تحقیق کی ضرورت ہے، اس لیے بہتر ہوگا کہ آپ کسی مستند مفتی یا دارالافتاء سے رجوع کریں۔ وہ آپ کے کیس کی مکمل تفصیلات سن کر شرعی حکم بتا سکیں گے۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 229
- صحیح بخاری: کتاب الطلاق، باب الخلع
- فتاویٰ ہندیہ: کتاب الطلاق، باب الخلع
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ