Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

طلاق کے مبہم جملوں کا شرعی حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

میں اپنے نکاح کے بارے میں شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔

کئی برسوں تک میری اور میری اہلیہ کے درمیان بار بار جھگڑے ہوتے رہے۔ ان جھگڑوں کے دوران مجھ سے بعض اوقات یہ جملے صادر ہوئے:

“یہ سب ختم ہے”

“جو کرنا ہے کرو”

“میں جا رہا ہوں”

“تو طلاق لے لو”

“بس، میں اب ختم کرتا ہوں”

ان مواقع پر عموماً میرا مقصد صرف غصہ ظاہر کرنا، سامنے والے کو ردِعمل پر مجبور کرنا یا ہلکی سی دھمکی دینا ہوتا تھا، لیکن بعض لمحوں میں میں پورے یقین سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت میرا طلاق کا ارادہ بالکل نہیں تھا۔

مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی صریح (واضح) طلاق کے الفاظ کہے ہوں۔

اب مجھے شک اور خوف لاحق ہے کہ کہیں ان بالواسطہ جملوں کی وجہ سے میرا نکاح درست نہ رہا ہو، کیونکہ میں سو فیصد یقین سے اپنی نیت کی تصدیق نہیں کر سکتا۔

براہِ کرم شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں کہ آیا میرا نکاح برقرار ہے یا نہیں؟


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ نے جو جملے غصے کی حالت میں کہے، ان میں سے زیادہ تر صریح (واضح) طلاق کے الفاظ نہیں ہیں۔ شریعت میں طلاق کے لیے صریح الفاظ (جیسے "میں نے تمہیں طلاق دی”) یا کنایہ (مبہم) الفاظ کے ساتھ نیت کا ہونا ضروری ہے۔

آپ کے جملوں کا تجزیہ

  • "یہ سب ختم ہے”، "میں جا رہا ہوں”، "بس، میں اب ختم کرتا ہوں”: یہ جملے طلاق کے صریح الفاظ نہیں ہیں۔ ان کا تعلق عام طور پر جھگڑے کے خاتمے یا علیحدگی سے ہوتا ہے، نہ کہ طلاق سے۔ جب تک آپ کی نیت طلاق کی نہ ہو، ان سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
  • "جو کرنا ہے کرو”: یہ بھی طلاق کا صریح لفظ نہیں ہے۔ اس کا مطلب عام طور پر غصے میں چھوڑ دینا ہوتا ہے، نہ کہ طلاق دینا۔
  • "تو طلاق لے لو”: یہ جملہ طلاق کا ذکر کرتا ہے، لیکن یہ صریح طلاق نہیں ہے بلکہ دوسرے فریق کو طلاق لینے کا کہنا ہے۔ اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی جب تک کہ آپ کی نیت طلاق کی نہ ہو۔

نیت کا اصول

کنایہ (مبہم) الفاظ سے طلاق واقع ہونے کے لیے طلاق کی نیت ضروری ہے۔ اگر آپ کو یقین نہیں کہ آپ کی نیت طلاق کی تھی، تو اصل یہ ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔ شک کی صورت میں نکاح برقرار رہتا ہے۔

نتیجہ

آپ کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ آپ کا نکاح اب بھی برقرار ہے۔ تاہم، مستقبل میں طلاق کے الفاظ سے پرہیز کریں اور غصے میں زبان پر قابو رکھیں۔ اگر آپ کو مزید شک ہو تو کسی مستند مفتی سے رجوع کریں۔

حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 229
  • صحیح البخاری: کتاب الطلاق
  • فتاویٰ ہندیہ: کتاب الطلاق

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.