سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میں اپنے نکاح کے بارے میں شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
کئی برسوں تک میری اور میری اہلیہ کے درمیان بار بار جھگڑے ہوتے رہے۔ ان جھگڑوں کے دوران مجھ سے بعض اوقات یہ جملے صادر ہوئے:
“یہ سب ختم ہے”
“جو کرنا ہے کرو”
“میں جا رہا ہوں”
“تو طلاق لے لو”
“بس، میں اب ختم کرتا ہوں”
ان مواقع پر عموماً میرا مقصد صرف غصہ ظاہر کرنا، سامنے والے کو ردِعمل پر مجبور کرنا یا ہلکی سی دھمکی دینا ہوتا تھا، لیکن بعض لمحوں میں میں پورے یقین سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت میرا طلاق کا ارادہ بالکل نہیں تھا۔
مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی صریح (واضح) طلاق کے الفاظ کہے ہوں۔
اب مجھے شک اور خوف لاحق ہے کہ کہیں ان بالواسطہ جملوں کی وجہ سے میرا نکاح درست نہ رہا ہو، کیونکہ میں سو فیصد یقین سے اپنی نیت کی تصدیق نہیں کر سکتا۔
براہِ کرم شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں کہ آیا میرا نکاح برقرار ہے یا نہیں؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے جو جملے غصے کی حالت میں کہے، ان میں سے زیادہ تر صریح (واضح) طلاق کے الفاظ نہیں ہیں۔ شریعت میں طلاق کے لیے صریح الفاظ (جیسے "میں نے تمہیں طلاق دی”) یا کنایہ (مبہم) الفاظ کے ساتھ نیت کا ہونا ضروری ہے۔
آپ کے جملوں کا تجزیہ
- "یہ سب ختم ہے”، "میں جا رہا ہوں”، "بس، میں اب ختم کرتا ہوں”: یہ جملے طلاق کے صریح الفاظ نہیں ہیں۔ ان کا تعلق عام طور پر جھگڑے کے خاتمے یا علیحدگی سے ہوتا ہے، نہ کہ طلاق سے۔ جب تک آپ کی نیت طلاق کی نہ ہو، ان سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
- "جو کرنا ہے کرو”: یہ بھی طلاق کا صریح لفظ نہیں ہے۔ اس کا مطلب عام طور پر غصے میں چھوڑ دینا ہوتا ہے، نہ کہ طلاق دینا۔
- "تو طلاق لے لو”: یہ جملہ طلاق کا ذکر کرتا ہے، لیکن یہ صریح طلاق نہیں ہے بلکہ دوسرے فریق کو طلاق لینے کا کہنا ہے۔ اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی جب تک کہ آپ کی نیت طلاق کی نہ ہو۔
نیت کا اصول
کنایہ (مبہم) الفاظ سے طلاق واقع ہونے کے لیے طلاق کی نیت ضروری ہے۔ اگر آپ کو یقین نہیں کہ آپ کی نیت طلاق کی تھی، تو اصل یہ ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔ شک کی صورت میں نکاح برقرار رہتا ہے۔
نتیجہ
آپ کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ آپ کا نکاح اب بھی برقرار ہے۔ تاہم، مستقبل میں طلاق کے الفاظ سے پرہیز کریں اور غصے میں زبان پر قابو رکھیں۔ اگر آپ کو مزید شک ہو تو کسی مستند مفتی سے رجوع کریں۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 229
- صحیح البخاری: کتاب الطلاق
- فتاویٰ ہندیہ: کتاب الطلاق
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ