Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

شوہر کی ذمہ داری: بیوی اور بچے یا بھائی اور خاندان؟

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

میں 17 سال سے شادی شدہ ہوں۔ میرے شوہر ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتے ہیں اور اچھی آمدنی رکھتے ہیں۔ تاہم، ان کے چھوٹے بھائی، جو اب 47 سال کے ہیں اور دو بچوں کے والد ہیں، کام کرنے کی نااہلیت کی وجہ سے کبھی ملازمت نہیں کر سکے۔ میرے شوہر اپنے بھائی کے پورے خاندان کی مالی ذمہ داری مکمل طور پر اٹھاتے ہیں۔ ہماری شادی شدہ زندگی کے دوران، میں بھی کام کرتی رہی ہوں اور اپنے اخراجات خود سنبھالتی رہی ہوں۔ بدقسمتی سے، میرے شوہر نے میرے لیے کبھی مناسب ذمہ داری نہیں لی۔ پچھلے 17 عیدوں میں، انہوں نے میرے لیے ایک بھی لباس نہیں خریدا۔ دوسری طرف، میں نے ہمیشہ ان کے خاندان میں حصہ ڈالا ہے اور باقاعدگی سے اپنے سسرال والوں کو تحفے دیتی رہی ہوں۔ وہ ہمارے گھر کے صرف کچھ بنیادی اخراجات اٹھاتے ہیں، جبکہ میں اکثریتی لاگت برداشت کرتی ہوں، جس میں میرے کپڑے، بچوں کی ضروریات، خوراک، علاج، اور دیگر ضروری اخراجات شامل ہیں۔ ان کا مسلسل جواب یہ ہوتا ہے کہ انہیں اپنے بھائی اور بہن پر خرچ کرنے کو ترجیح دینی ہے، میرے لیے کچھ نہیں بچتا۔ ایک بیوی کے طور پر، میں کبھی کبھی اپنے شوہر سے چھوٹی سی توجہ یا تحفے کی خواہش کرتی ہوں، لیکن وہ پوری نہیں ہوتی۔ مجھے اپنی تمام ذاتی ضروریات اپنی آمدنی سے پوری کرنی پڑی ہیں۔ اس صورت حال نے مجھے گہرا دکھ، تناؤ اور جذباتی طور پر تھکا ہوا محسوس کرایا ہے۔ میں اب 42 سال کی ہوں اور پچھلے پانچ سالوں میں اپنے دونوں والدین کو کھو دیا ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے جب میں انتہائی تنہا اور بے بس محسوس کرتی ہوں۔ اگرچہ میں شکایت یا بددعا دینے سے گریز کرتی ہوں، لیکن میں اکثر اپنے آپ کو آنسوؤں میں پاتی ہوں جن پر میرا قابو نہیں ہوتا۔ پچھلے سال، میں نے حج کیا، زیادہ تر اپنی مالی مدد سے، سوائے ایک حصے کے جو میرے شوہر نے ادا کیا۔ اسلام کی روشنی میں، میں سمجھنا چاہتی ہوں: ایک مرد کی ذمہ داری کس کے لیے زیادہ ہے — اس کی بیوی اور بچوں کے لیے، یا اس کے بھائی اور وسیع خاندان کے لیے؟


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ نے اپنی 17 سالہ شادی شدہ زندگی کے بارے میں جو تفصیلات بتائی ہیں، وہ واقعی دل کو دکھ دینے والی ہیں۔ آپ نے اپنے شوہر کی طرف سے مالی اور جذباتی نظرانداز کا ذکر کیا ہے، جبکہ وہ اپنے بھائی کے خاندان کی پوری ذمہ داری اٹھا رہے ہیں۔ اسلام میں حقوق و فرائض کا ایک واضح نظام ہے، جسے سمجھنا ضروری ہے۔

شوہر کی بنیادی ذمہ داری: بیوی اور بچے

اسلام میں شوہر کی سب سے پہلی اور اہم مالی ذمہ داری اس کی بیوی اور بچوں پر ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ (النساء: 34)

ترجمہ: مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے مال خرچ کئے۔

اس آیت سے واضح ہے کہ شوہر پر بیوی کے نان و نفقہ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ ذمہ داری صرف بنیادی ضروریات تک محدود نہیں، بلکہ اس میں کپڑے، رہائش، علاج، اور دیگر ضروریات شامل ہیں۔ حدیث میں بھی آتا ہے:

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي (ترمذی)

ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔

لہٰذا، شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کی ضروریات کو پورا کرے، اور انہیں خوش رکھے۔

بھائی اور وسیع خاندان کی ذمہ داری

اسلام میں بھائی اور دیگر رشتہ داروں کی مدد کرنا بھی ایک اچھا عمل ہے، لیکن یہ فرض نہیں ہے جب تک کہ وہ حقیقی طور پر محتاج نہ ہوں۔ اگر بھائی کام کرنے کے قابل ہے لیکن سستی یا نااہلی کی وجہ سے کام نہیں کرتا، تو اس کی کفالت شوہر پر لازم نہیں۔ البتہ، اگر بھائی واقعی معذور یا نااہل ہو تو پھر اس کی مدد کرنا مستحب ہے، لیکن یہ بیوی اور بچوں کے حقوق پر مقدم نہیں ہونا چاہیے۔

آپ کی صورت حال کا شرعی تجزیہ

آپ کے شوہر نے اپنی آمدنی کا زیادہ تر حصہ اپنے بھائی پر خرچ کر رکھا ہے، جبکہ آپ اور آپ کے بچوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ یہ شرعی طور پر درست نہیں ہے۔ شوہر پر فرض ہے کہ وہ پہلے اپنی بیوی اور بچوں کی ضروریات پوری کرے، پھر اگر کچھ بچے تو وہ دوسرے رشتہ داروں پر خرچ کرے۔ آپ کا اپنی آمدنی سے گھر کے اخراجات اٹھانا اور شوہر کا آپ کو تحفے تک نہ دینا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی کر رہے ہیں۔

عملی مشورہ

  • نرمی سے بات کریں: اپنے شوہر سے پیار اور نرمی سے اپنے جذبات اور ضروریات کے بارے میں بات کریں۔ انہیں سمجھائیں کہ اسلام میں بیوی کے حقوق کیا ہیں۔
  • علماء سے رجوع کریں: اگر بات چیت سے مسئلہ حل نہ ہو تو کسی مستند عالم یا مفتی سے رجوع کریں، جو شوہر کو شرعی ذمہ داری یاد دلا سکیں۔
  • صبر اور دعا: صبر کریں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کے شوہر کے دل میں نرمی پیدا کرے۔
  • اپنے حقوق کا مطالبہ کریں: آپ کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے، لیکن حکمت اور نرمی کے ساتھ۔

نتیجہ

اسلام میں شوہر کی پہلی ذمہ داری اس کی بیوی اور بچوں پر ہے۔ بھائی اور دیگر رشتہ داروں کی مدد کرنا ثواب کا کام ہے، لیکن یہ بیوی اور بچوں کے حقوق پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ آپ کے شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی آمدنی کو پہلے آپ اور بچوں پر خرچ کرے، اور پھر اگر گنجائش ہو تو دوسروں کی مدد کرے۔

حوالہ جات

  • قرآن مجید: سورہ النساء، آیت 34
  • سنن ترمذی: حدیث نمبر 3895
  • فتاویٰ ہندیہ: کتاب النکاح، باب النفقة

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.