سوال:
موضوع: شوہر کی اجازت کے بغیر خلع کی درستگی
سوال (اردو ترجمہ):
السلام علیکم۔ میں نے اپنے نکاح خوان امام صاحب کے ذریعے خلع کے لیے درخواست دی تھی۔ امام صاحب کا کہنا ہے کہ ان کے پاس خلع جاری کرنے کا اختیار موجود ہے۔
لیکن میرے شوہر نے نہ تو خلع کے لیے رضامندی دی اور نہ ہی کبھی اس پر اتفاق کیا۔ اس کے باوجود امام صاحب نے شوہر کی اجازت کے بغیر خلع جاری کر دیا۔
اب جب میں نے تحقیق کی ہے تو مجھے معلوم ہوا کہ چاروں فقہی مذاہب (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے مطابق شوہر کی رضا مندی کے بغیر خلع درست نہیں ہوتا۔
کیا یہ بات درست ہے؟
کیا میرا خلع غیر مؤثر/غلط ہے؟
کیا اس کا مطلب ہے کہ میں اب بھی اپنے شوہر کے نکاح میں ہوں اور اُس کے لیے حلال ہوں؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کا سوال خلع کے بارے میں ہے، جس میں شوہر کی رضامندی کے بغیر امام صاحب نے خلع جاری کیا۔ آئیے اس مسئلے کو شریعت کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔
خلع کا شرعی تصور
خلع کا مطلب ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے کچھ معاوضہ (عموماً مہر یا اس کے عوض) دے کر نکاح ختم کرائے۔ اس کی بنیاد قرآن و حدیث میں موجود ہے۔
شوہر کی رضامندی کی شرعی حیثیت
چاروں فقہی مذاہب (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) میں خلع کے لیے شوہر کی رضامندی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خلع ایک باہمی معاہدہ ہے، جس میں شوہر اپنی رضامندی سے بیوی کو طلاق دیتا ہے، لیکن بیوی اس کے عوض کچھ مال دیتی ہے۔ اگر شوہر راضی نہ ہو تو خلع نافذ نہیں ہوتا۔
کیا شوہر کی اجازت کے بغیر خلع درست ہے؟
جمہور فقہاء کے مطابق شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع درست نہیں ہے۔ اگر کوئی امام یا قاضی شوہر کی اجازت کے بغیر خلع جاری کرے تو وہ شرعاً معتبر نہیں ہوگا۔ البتہ اگر شوہر ظالم ہو اور بیوی کو شدید نقصان پہنچا رہا ہو تو اسلامی عدالت (قاضی) شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی نکاح ختم کر سکتی ہے، لیکن اسے خلع نہیں بلکہ فسخ نکاح کہا جاتا ہے۔
آپ کے معاملے کا حکم
چونکہ آپ کے شوہر نے خلع پر رضامندی نہیں دی، اس لیے امام صاحب کا خلع جاری کرنا شرعی اصولوں کے مطابق درست نہیں ہے۔ لہٰذا آپ کا خلع غیر مؤثر ہے اور آپ اب بھی اپنے شوہر کے نکاح میں ہیں۔ آپ کے لیے ضروری ہے کہ کسی مستند مفتی یا اسلامی عدالت سے رجوع کریں تاکہ معاملہ حل ہو سکے۔
عملی اقدامات
- کسی مستند مفتی صاحب سے رابطہ کریں اور پورا معاملہ بتائیں۔
- اگر شوہر سے نباہ ممکن نہ ہو تو اسلامی عدالت میں فسخ نکاح کی درخواست دی جا سکتی ہے۔
- اس دوران شوہر سے علیحدگی اختیار کریں اور کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کریں۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورہ البقرہ، آیت 229
- صحیح البخاری: حدیث نمبر 5273 (خلع کا بیان)
- الہدایہ (فقہ حنفی): کتاب الطلاق، باب الخلع
- المغنی (ابن قدامہ): کتاب الطلاق، باب الخلع
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ