Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

شراب پینے والے کے ساتھ رہنے کا شرعی حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

*موضوع:* رہائش کا معاملہ اور روحانی خدشہ

*سوال (اردو ترجمہ):*
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں ایک مسلمان خاتون ہوں اور اپنی تعلیم کے لیے ایک دوسرے شہر میں رہ رہی ہوں۔ میری روم میٹ میری کئی سال پرانی قریبی دوست ہے — ہم نے اسکول ایک ساتھ کیا اور اب ایک ہی مضمون میں پڑھائی کے لیے اکٹھے آئے ہیں۔ ہمارے الگ الگ کمرے ہیں۔

میرا سوال میرے *روحانی اطمینان* کے بارے میں ہے۔

میری روم میٹ کبھی کبھی اپنے کمرے میں تھوڑی مقدار میں شراب پیتی ہے۔ مشترکہ فریج میں کبھی کبھی شراب کی بوتل بھی ہوتی ہے۔ وہ عادی نہیں، نہ ہی مجھے کبھی مجبور کرتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ یہ غلط ہے، اور میرے سامنے کبھی نہیں پیتی۔ میں اسے نرمی سے کئی بار سمجھا چکی ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے۔

میری تشویش غصے یا اس کے عمل کی مذمت سے نہیں ہے — بلکہ *اپنے بارے میں* ہے۔ میں ڈرتی ہوں کہ ایسے گھر میں رہنا جہاں کبھی کبھار نجی طور پر شراب نوشی ہوتی ہو، کیا اس سے میری روحانیت، عبادت، برکت یا رزق پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے؟ میں اپنے کمرے میں نماز پڑھتی ہوں اور اپنی جگہ کو پاکیزہ رکھنے کی کوشش کرتی ہوں، لیکن گھر کے مجموعی ماحول کے بارے میں فکرمند ہوں۔ یہ صورتِ حال چند سال کی ہے، کیونکہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہم گھر واپس چلے جائیں گے، ان شاءاللہ۔

*میرے سوالات یہ ہیں:*

1. کیا ایسے گھر میں رہنا جہاں کوئی نجی طور پر شراب پیتا ہو، میرے لیے کسی روحانی نقصان یا برکت/رزق میں کمی کا سبب بن سکتا ہے؟
2. جب میں اس عمل کو ناپسند کرتی ہوں اور اس میں شریک نہیں ہوتی، تو نرمی سے سمجھانے کے بعد کیا مجھ پر مزید کوئی ذمہ داری باقی رہتی ہے؟
3. کیا اپنی تعلیم کے دوران یہاں رہنا شرعاً جائز ہے؟

اس معاملے میں آپ کی رہنمائی کی بہت شکر گزار ہوں گی۔

جزاکم اللہ خیراً۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کا سوال بہت اہم ہے۔ آپ اپنی روحانی صحت کے بارے میں فکر مند ہیں اور یہ بہت اچھی بات ہے۔ ذیل میں آپ کے سوالات کے جوابات دیے جاتے ہیں۔

1. کیا شراب پینے والے کے ساتھ رہنے سے برکت یا رزق میں کمی آتی ہے؟

شراب حرام ہے اور اس کا گھر میں ہونا باعثِ گناہ ہے۔ لیکن اگر آپ خود اس میں شریک نہیں ہیں، اسے ناپسند کرتی ہیں، اور اسے روکنے کی کوشش کرتی ہیں، تو آپ پر اس کا گناہ نہیں ہے۔ البتہ، گھر میں شراب کی موجودگی کی وجہ سے رحمتِ الٰہی میں کمی آ سکتی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَشَارِبَهَا وَسَاقِيَهَا وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ (ترمذی: 1295) یعنی اللہ نے شراب، پینے والے، پلانے والے، بیچنے والے، خریدنے والے، نچوڑنے والے، نچوڑوانے والے، لے جانے والے اور جس کے پاس لے جائیں سب پر لعنت کی ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب کو گھر میں رکھنا بھی لعنت کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا آپ کو چاہیے کہ اپنی روم میٹ کو سمجھائیں کہ وہ شراب گھر میں نہ رکھے، یا کم از کم مشترکہ جگہوں پر نہ رکھے۔ اگر وہ نہ مانے تو آپ اپنے کمرے کو پاک رکھیں اور نماز وغیرہ کا اہتمام کریں۔ ان شاء اللہ اس سے آپ کی عبادت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

2. کیا نرمی سے سمجھانے کے بعد مزید ذمہ داری باقی ہے؟

آپ نے اپنی دوست کو نصیحت کی ہے، یہ بہت اچھا ہے۔ اب آپ پر مزید ذمہ داری نہیں ہے، بشرطیکہ آپ اس کے عمل کو ناپسند کرتی ہوں اور اس میں شریک نہ ہوں۔ البتہ، اگر آپ کو موقع ملے تو دوبارہ نرمی سے سمجھا سکتی ہیں، لیکن اسے مجبور نہ کریں۔

3. کیا تعلیم کے دوران یہاں رہنا جائز ہے؟

اگر آپ کے پاس کوئی متبادل رہائش نہیں ہے اور آپ کو تعلیم جاری رکھنی ہے، تو اس گھر میں رہنا جائز ہے، بشرطیکہ آپ خود شراب نہ پئیں اور اسے برائی سمجھتی ہوں۔ البتہ، اگر ممکن ہو تو کسی دوسری جگہ منتقل ہونے کی کوشش کریں جہاں ایسا ماحول نہ ہو۔

آخر میں، اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کی دوست کو ہدایت دے اور آپ کو اس فتنے سے محفوظ رکھے۔

حوالہ جات

  • سنن الترمذی، حدیث نمبر: 1295
  • الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الاشربة

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.