Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

شادی میں باپ کی طرف سے دیے گئے سامان کی ملکیت اور شوہر کا اسے استعمال کرنے کا حق

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ میں شادی میں ملکیت اور حقوق کے ایک معاملے کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔ میرے نکاح اور رخصتی کے وقت، میرے والد نے میرے استعمال کے لیے فرنیچر اور گھریلو سامان (بشمول بستر اور گدے، بیڈروم فرنیچر، باورچی خانے کا سامان) دیا تھا۔ اس وقت، میں اپنے شوہر کے والدین کے گھر میں رہ رہی تھی۔ اس بات کی کوئی واضح بیان نہیں تھی کہ یہ چیزیں میرے شوہر کو یا دونوں کو مشترکہ طور پر تحفہ تھیں؛ ثقافتی طور پر، یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ چیزیں ایک باپ نے اپنی بیٹی کو اس کے گھر کی بنیاد رکھنے کے حصے کے طور پر دی تھیں۔ تقریباً تین سال بعد، میرے شوہر اور میں کینیڈا چلے گئے۔ مجھے وہ تمام چیزیں اپنے سسرال والوں کے گھر میں چھوڑنی پڑیں۔ بعد میں، مجھے پتہ چلا کہ میرے سسرال والے ان میں سے کچھ چیزیں استعمال کر رہے ہیں، بشمول وہ گدا جو میرے والد نے دیا تھا۔ میرے شوہر نے ہمارے منتقل ہونے کے بعد انہیں ان چیزوں کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی، میرے سے مشورہ کیے بغیر۔ جب میں نے اس کے بارے میں اس سے پوچھا، تو اس نے کہا کہ وہ چیزیں ہم دونوں کے لیے دی گئی تھیں، اس لیے وہ ہم دونوں کی ہیں، اور اس کا خیال ہے کہ اسے میرے سے پوچھے بغیر اپنے والدین کو انہیں استعمال کرنے کی اجازت دینے کا حق ہے۔ جب میں نے بے چینی کا اظہار کیا، تو اس نے جواب دیا کہ میں مادی چیزوں سے بہت زیادہ لگی ہوئی ہوں، کہ میں مادیت پسند اور خود غرض ہوں، اور اس کا خاندان ہر چیز کو کھلے عام بانٹنے پر یقین رکھتا ہے۔ اس نے یہ بھی تجویز کیا کہ چونکہ میں مشترکہ خاندانی نظام میں نہیں پلی بڑھی، اس لیے میں بانٹنے کی قدر کو نہیں سمجھتی۔ میرے سوالات یہ ہیں: شریعت میں، اگر ایک باپ اپنی بیٹی کی شادی کے وقت فرنیچر اور گھریلو سامان دیتا ہے، تو ان چیزوں کا مالک کون سمجھا جاتا ہے — صرف بیوی، یا دونوں شوہر اور بیوی؟ اگر چیزیں بیوی کے لیے مخصوص تھیں، تو کیا شوہر کو دوسروں (بشمول اس کے والدین) کو اس کی رضامندی کے بغیر انہیں استعمال کرنے کی اجازت دینے کا حق ہے؟ اگر بیوی اجازت نہیں دیتی، تو کیا وہ اسلام کے لحاظ سے قابل ملامت ہے؟ کیا شوہر کے لیے رضامندی نہ دینے پر بیوی کو حقیر سمجھنا، شرمندہ کرنا، یا خود غرضی یا مادیت پسندی کا الزام لگانا جائز ہے؟ کیا اسلام بیوی کو اپنی ذاتی چیزیں اپنے سسرال والوں کے ساتھ بانٹنے کا تقاضا کرتا ہے، یا یہ رضاکارانہ حسن نیت کا معاملہ ہے؟ میں خلوص دل سے اسلامی حکم کو سمجھنا چاہتا ہوں تاکہ میں صحیح اور منصفانہ طور پر عمل کر سکوں۔ آپ کی رہنمائی کے لیے جزاکم اللہ خیراً۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کے سوال میں شادی کے موقع پر والد کی طرف سے دیے گئے فرنیچر اور گھریلو سامان کی ملکیت اور اس کے استعمال کے حوالے سے رہنمائی طلب کی گئی ہے۔ شریعت اسلامیہ میں اس معاملے کی وضاحت درج ذیل ہے۔

والد کی طرف سے دیے گئے سامان کی ملکیت

جب والد اپنی بیٹی کی شادی کے موقع پر اسے فرنیچر اور گھریلو سامان دیتے ہیں، تو عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ چیزیں بیٹی کو بطور تحفہ (ہدیہ) دی گئی ہیں، خاص طور پر جب ان کا استعمال بیٹی کے گھر کی بنیاد رکھنے کے لیے ہو۔ شریعت میں، جب کوئی شخص کسی کو کوئی چیز تحفہ دیتا ہے، تو وہ چیز اس وصول کنندہ کی ملکیت بن جاتی ہے، جب تک کہ تحفہ دینے والا صراحتاً یہ نہ کہے کہ یہ دونوں میاں بیوی کے لیے ہے۔ آپ کے معاملے میں، چونکہ آپ کے والد نے یہ سامان آپ کے استعمال کے لیے دیا تھا اور اس میں کوئی واضح شرط نہیں تھی کہ یہ آپ کے شوہر کو یا دونوں کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے، اس لیے یہ سامان آپ کی ذاتی ملکیت سمجھا جائے گا۔

شوہر کا اپنے والدین کو سامان استعمال کرنے کی اجازت دینا

اگر یہ سامان آپ کی ذاتی ملکیت ہے، تو آپ کے شوہر کو آپ کی رضامندی کے بغیر اپنے والدین کو اسے استعمال کرنے کی اجازت دینے کا شرعی حق نہیں ہے۔ شریعت میں کسی کی ملکیت میں تصرف کرنے کے لیے اس کی اجازت ضروری ہے۔ شوہر کو اپنی بیوی کے مال میں اس کی مرضی کے بغیر تصرف کرنے کی اجازت نہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے: لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ (کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں)۔ لہٰذا، آپ کے شوہر کا آپ سے مشورہ کیے بغیر اپنے والدین کو سامان استعمال کرنے کی اجازت دینا شرعاً درست نہیں تھا۔

بیوی کا اجازت نہ دینا اور اس پر ملامت

اگر بیوی اپنی ذاتی چیزوں کو سسرال والوں کے ساتھ بانٹنے پر راضی نہیں ہے، تو وہ شرعاً قابل ملامت نہیں ہے۔ ہر شخص کو اپنی ملکیت میں تصرف کا حق ہے، اور وہ اپنی مرضی سے دوسروں کو استعمال کی اجازت دے سکتا ہے یا نہیں۔ شوہر کے لیے جائز نہیں کہ وہ بیوی کو اس کے حق کے مطالبے پر حقیر سمجھے، شرمندہ کرے، یا اسے خود غرضی اور مادیت پسندی کا الزام لگائے۔ شریعت میں بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزاریں)۔ شوہر کا بیوی کو اس کے جائز حق پر طعنہ دینا اور اسے شرمندہ کرنا ناجائز ہے۔

کیا اسلام بیوی کو اپنی چیزیں سسرال والوں کے ساتھ بانٹنے کا پابند کرتا ہے؟

اسلام میں بیوی پر اپنی ذاتی چیزیں سسرال والوں کے ساتھ بانٹنا واجب نہیں ہے۔ یہ ایک رضاکارانہ حسن سلوک اور خاندانی تعلقات کی مضبوطی کا معاملہ ہے، نہ کہ شرعی فرض۔ بیوی اپنی مرضی سے اپنی چیزیں دوسروں کو استعمال کرنے دے سکتی ہے، لیکن اس پر کوئی شرعی پابندی نہیں ہے کہ وہ ایسا کرے۔ تاہم، خاندانی ہم آہنگی اور اچھے تعلقات کے لیے بیوی کو چاہیے کہ جہاں ممکن ہو، اپنی چیزوں میں دوسروں کو شریک کرے، بشرطیکہ اس سے اسے کوئی نقصان نہ ہو۔

خلاصہ

  • والد کی طرف سے دیا گیا سامان بیوی کی ذاتی ملکیت ہے، جب تک کہ اسے مشترکہ طور پر دینے کی صراحت نہ ہو۔
  • شوہر کو بیوی کی رضامندی کے بغیر اس کے مال میں تصرف کرنے کا حق نہیں ہے۔
  • بیوی اپنی چیزوں کو بانٹنے پر مجبور نہیں ہے، اور اس پر ملامت کرنا ناجائز ہے۔
  • شوہر کے لیے بیوی کو طعنہ دینا اور اسے شرمندہ کرنا حرام ہے۔

آخر میں، یہ ایک عمومی رہنمائی ہے۔ اس معاملے میں مزید تفصیلات کے لیے کسی مستند مفتی سے رجوع کریں۔

حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورۃ النساء، آیت 19
  • حدیث: لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ (مسند احمد، سنن الدارقطنی)
  • فتاویٰ ہندیہ، کتاب الہبہ

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.