سوال:
میرا سوال یہ ہے کہ اگر سگی بہن بھائی (ایک ہی ماں کے بیٹے اور بیٹی) ایک دوسرے کو جنسی خواہش کے ساتھ، شہوت کے ساتھ چھو لیں، اور اس میں شرمگاہوں کا لمس یا اُن سے متعلق شہوانی حرکت شامل ہو —
اور یہ عمل اُس وقت ہو جب بہن کی شادی ہوچکی ہو — تو کیا اس سے بہن کا اپنے شوہر کے ساتھ نکاح باطل ہو جاتا ہے؟
اس کا شوہر اس کا پہلا کزن ہے۔ کیا اس صورت میں حرمتِ مصاہرہ (Hurmat-e-Musaharah) ثابت ہو جاتی ہے؟
براہِ کرم یہ بھی بتائیں کہ سچی اور صحیح توبہ کیسے کی جائے، کیونکہ میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ اور غمگین ہوں۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
یہ ایک بہت سنگین اور افسوسناک صورتِ حال ہے۔ آپ کا اپنے کیے پر شرمندہ اور غمگین ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے دل میں ایمان اور اللہ کا خوف موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہے۔
شرعی حکم
سگی بہن بھائی کے درمیان شہوت کے ساتھ لمس یا کوئی بھی جنسی عمل حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ تاہم، اس سے حرمتِ مصاہرہ (یعنی رشتہ داری کی وجہ سے نکاح کا حرام ہونا) ثابت نہیں ہوتی۔ حرمتِ مصاہرہ صرف ان صورتوں میں ثابت ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرے یا اس کے ساتھ زنا کرے، جس کی وجہ سے اس عورت کی ماں، بیٹی، بہن وغیرہ اس شخص پر حرام ہو جاتی ہیں۔
سگی بہن بھائی کے درمیان شہوانی لمس سے بہن کا اپنے شوہر کے ساتھ نکاح باطل نہیں ہوتا، کیونکہ یہ عمل زنا کی حد تک نہیں پہنچا (جب تک کہ زنا ثابت نہ ہو)۔ لہٰذا بہن کا نکاح اپنے شوہر کے ساتھ برقرار رہے گا۔
توبہ کا طریقہ
آپ پر واجب ہے کہ فوراً اس گناہ سے باز آئیں اور سچی توبہ کریں۔ توبہ کے لیے تین شرطیں ہیں:
- گناہ کو فوراً چھوڑ دیں۔
- اپنے کیے پر نادم ہوں اور اللہ سے معافی مانگیں۔
- پختہ عزم کریں کہ آئندہ اس گناہ کے قریب بھی نہیں جائیں گے۔
اس کے علاوہ، نوافل پڑھیں، استغفار کریں، اور نیک اعمال میں اضافہ کریں۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو معاف فرما دیتا ہے۔
نوٹ
یہ جواب عمومی معلومات پر مبنی ہے۔ چونکہ اس معاملے میں تفصیلات اہم ہیں، لہٰذا کسی مستند مفتی سے رابطہ کر کے مکمل رہنمائی حاصل کریں۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ النساء، آیت ۲۳ (حرمتِ مصاہرہ کے بارے میں)
- صحیح بخاری، کتاب النکاح
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب النکاح
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ