سوال:
موضوع: دانتوں کے علاج میں غفلت (Medical Negligence) اور مالی معاوضے کا شرعی حکم
سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ آپ خیریت اور ایمان کی بہترین حالت میں ہوں گی۔
میں شرعی رہنمائی کی طالب ہوں۔ ایک دانتوں کے ڈاکٹر (Dentist) کی غلطی کے باعث میرے چار دانت ضائع ہوگئے۔ اب میں سوچ رہی ہوں کہ اس نقصان اور تکلیف کی تلافی کے لیے میں قانونی طور پر مالی معاوضہ (compensation) کا دعویٰ کروں۔
برائے کرم فقہِ حنفی کی روشنی میں یہ بتائیں کہ کیا ایسی صورت میں مالی معاوضہ لینا (یعنی ہرجانے کا دعویٰ کرنا) اسلام میں جائز (حلال) ہے یا نہیں؟
جزاکم اللہ خیراً
اللہ تعالیٰ آپ کو امت کی خدمت کا بہترین اجر عطا فرمائے۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کے سوال میں دانتوں کے ڈاکٹر کی غفلت سے چار دانتوں کے ضائع ہونے پر مالی معاوضہ لینے کے بارے میں شرعی رہنمائی طلب کی گئی ہے۔ فقہ حنفی میں اس مسئلے کی تفصیل درج ذیل ہے۔
طبی غفلت (Medical Negligence) کا شرعی حکم
اسلام میں کسی بھی پیشے میں غفلت یا لاپرواہی کی وجہ سے دوسرے کو نقصان پہنچانا ناجائز اور گناہ ہے۔ خاص طور پر طب جیسے حساس شعبے میں ڈاکٹر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پوری احتیاط اور مہارت سے کام لے۔ اگر ڈاکٹر کی غفلت ثابت ہو جائے تو وہ شرعاً ذمہ دار ٹھہرتا ہے۔
مالی معاوضہ (Compensation) کا جواز
فقہ حنفی میں کسی بھی قسم کے نقصان کے بدلے مالی معاوضہ لینا جائز ہے، بشرطیکہ نقصان کا تعلق کسی جائز چیز سے ہو اور معاوضہ حد سے تجاوز نہ کرے۔ دانتوں کا ضائع ہونا ایک حقیقی نقصان ہے، جس کی تلافی کے لیے آپ معاوضہ لے سکتی ہیں۔
شرائط
- غفلت یا لاپرواہی ثابت ہو۔
- نقصان کا تعلق براہ راست ڈاکٹر کے عمل سے ہو۔
- معاوضہ معقول ہو، نہ بہت زیادہ اور نہ بہت کم۔
قانونی چارہ جوئی کا حکم
اگر ڈاکٹر اپنی غلطی تسلیم نہ کرے یا معاوضہ دینے سے انکار کرے تو آپ قانونی طور پر دعویٰ کر سکتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں عدالت کے ذریعے حق لینا جائز ہے، بشرطیکہ آپ جھوٹی قسم یا غلط بیانی سے بچیں۔
نتیجہ
لہٰذا، آپ کے لیے اس نقصان کے بدلے مالی معاوضہ لینا شرعاً جائز ہے۔ تاہم، بہتر یہ ہے کہ پہلے ڈاکٹر سے نرمی سے بات کریں اور معاملہ صلح سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر صلح نہ ہو تو قانونی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات
- الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الضمان، باب ضمان الغصب
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الضمان، الفصل الثالث فی ضمان المتلفات
- بدائع الصنائع، کتاب الغصب، فصل فی حکم الغصب
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ