سوال:
اگر کوئی شخص ایک فرضی صورت حال کے بارے میں سوچ رہا تھا اور تنہا تھا اور اس فرضی منظر نامے میں غصے میں اس نے خود سے کہا، اپنے آپ سے بات کی (خود کلامی، خود سے مکالمہ) میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور اس کے ارد گرد کوئی نہیں تھا وہ تنہا تھا بیوی بھی نہیں تھی۔۔ کیا طلاق جائز ہے خاندانی میٹنگ کے فرضی منظر نامے کا جہاں وہ چلّا رہا ہے اور کہہ رہا ہے اگر تم یہ کرو گے تو میں تمہیں طلاق دوں گا۔۔ اسے یاد نہیں کہ وہ صرف سوچ رہا تھا یا ان الفاظ کو ادا کیا تھا شوہر کہتا ہے کہ اس کا ارادہ نہیں تھا اسے یاد نہیں کہ وہ الفاظ ادا کر رہا تھا یا خیالات میں کہہ رہا تھا اور اسے یہ بھی یاد نہیں کہ اس نے کہا تھا کہ وہ طلاق دے گا یا کہا تھا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
طلاق ایک سنگین شرعی معاملہ ہے جس کے لیے صریح الفاظ اور واضح ارادہ ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص تنہا بیٹھا کسی فرضی صورتحال کے بارے میں سوچ رہا تھا اور اس نے خود سے باتیں کیں (خود کلامی) تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی، کیونکہ طلاق کے لیے بیوی کا موجود ہونا یا اسے مخاطب کرنا ضروری ہے۔
خود کلامی اور طلاق کا حکم
اگر شوہر نے تنہائی میں، بغیر کسی کے سنے، صرف اپنے آپ سے کہا "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” اور اس وقت بیوی موجود نہ تھی، تو یہ طلاق شمار نہیں ہوگی۔ اس لیے کہ طلاق کا انعقاد اس وقت ہوتا ہے جب شوہر بیوی کو مخاطب کرے یا کم از کم اس کی موجودگی میں الفاظ ادا کرے۔ خود کلامی کو شرعاً طلاق نہیں سمجھا جاتا۔
فرضی صورتحال میں طلاق کی دھمکی
اگر شوہر نے خاندانی میٹنگ میں غصے میں کہا "اگر تم یہ کرو گے تو میں طلاق دوں گا” تو یہ طلاق نہیں بلکہ طلاق کی دھمکی ہے۔ اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی جب تک کہ وہ شرط پوری نہ ہو اور شوہر واضح طور پر طلاق کا ارادہ رکھتا ہو۔
یادداشت اور ارادے کا مسئلہ
اگر شوہر کو یاد نہیں کہ اس نے الفاظ ادا کیے تھے یا صرف سوچا تھا، تو اصل حکم یہ ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوگی جب تک یقین نہ ہو کہ الفاظ زبان سے ادا ہوئے۔ شک کی صورت میں طلاق کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
بہتر یہ ہے کہ اس معاملے میں کسی مستند مفتی سے رجوع کیا جائے تاکہ مکمل تفصیلات کی روشنی میں شرعی رہنمائی حاصل کی جا سکے۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 229-230
- صحیح بخاری، کتاب الطلاق
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الطلاق
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ