سوال:
السلام علیکم، امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے انشاءاللہ۔ میں مراکش کا 24 سالہ نوجوان ہوں۔ یہ تسلیم کرنا بہت مشکل ہے لیکن اپنی نوعمری کے اواخر اور بیس کی دہائی کے شروع میں میں نے بہت سنگین گناہ کیے ہیں۔ مجھے اس پر انتہائی شدید شرمندگی ہے اور میں اللہ سے معافی مانگنے کے لیے بہت محنت اور دعا کر رہا ہوں۔ میں یہ پیغام بھیج رہا ہوں کیونکہ میں ایک ایسی صورت حال کے بارے میں مشورہ مانگنا چاہتا ہوں جس کے بارے میں میں واقعی غیر یقینی ہوں۔ میں نے تھائی لینڈ میں ایک خاتون سے ملاقات کی اور اللہ مجھے معاف کرے، میں اس کے ساتھ ایک حرام تعلق میں پڑ گیا۔ 4 ماہ بعد مجھے انتہائی شرمندگی اور احساس جرم ہوا اور میں نے اسے بتایا کہ میں جاری نہیں رکھ سکتا۔ تاہم، ہمارے ساتھ رہنے کے دوران وہ خفیہ طور پر دین اور اسلام کے بارے میں سیکھ رہی تھی… اس نے کہا کہ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ وہ ایک امیر خاندان سے تعلق رکھتی ہے اس لیے میں جانتی ہوں کہ وہ صرف پیسے کے لیے مجھے نہیں چاہتی۔ وہ ایک سچی اور بہت مہربان شخص ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ وہ میری بہت پروا کرتی ہے اور ایک بہترین ماں بن سکتی ہے۔ لیکن ہمارا رشتہ پھر بھی حرام سے شروع ہوا… اور میں انتہائی کشمکش میں ہوں۔ اگر وہ مسلمان ہوتی اور ہم نے یہ حرام کام شروع کرنے سے پہلے حلال طریقے سے کام کیا ہوتا، تو میں بلا شک و شبہ اس سے شادی کرنا چاہتا۔ لیکن میری تشویش یہ ہے کہ ہم نے حرام طریقے سے شروع کیا اور اگرچہ میں نے آن لائن پڑھا ہے کہ اگر آپ حرام تعلق سے سچی توبہ کرتے ہیں تو اللہ آپ کی شادی کو برکت دے سکتا ہے… میں پھر بھی بہت غیر یقینی ہوں۔ مجھے تشویش ہے کہ وہ صرف میرے لیے اسلام قبول کرنا چاہتی ہے، جو میں نے پڑھا ہے کہ حرام ہے کیونکہ یہ اللہ کی خاطر نہیں کیا جاتا۔ لیکن ایک ہی وقت میں میں دیکھتا ہوں کہ وہ حقیقی کوشش کر رہی ہے، اس نے پورا ماہ رمضان کے روزے رکھے اور وہ اپنی 5 روزانہ نمازیں + سنت نمازیں پڑھ رہی ہے۔ وہ مجھے بھی ایک بہتر مسلمان بننے پر آمادہ کر رہی ہے۔ مجھے یہ بھی خوف ہے کہ میرا خاندان اس شادی کو منظور نہیں کرے گا کیونکہ وہ غیر ملکی ہے اور حال ہی میں اسلام قبول کیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ جان سکیں کہ رشتہ حرام طریقے سے شروع ہوا… مجھے یقین نہیں ہے کہ یہ بہتر ہے کہ رشتے کے شروع ہونے کے بارے میں کھلا اور ایماندار رہا جائے یا انہیں نہ بتایا جائے؟ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، میں اس بارے میں بہت کشمکش میں ہوں کہ کیا کرنا ہے اور مجھے اشد ضرورت ہے کہ مجھے مشورہ دیا جائے کہ کیا کرنا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میری شادی اللہ کی برکت سے ہو، یہ میری اولین ترجیح ہے۔ براہ کرم مشورہ دیں اور اسے پڑھنے کے لیے وقت نکالنے پر جزاک اللہ۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کی پریشانی اور احساسِ ندامت قابلِ تعریف ہے۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے۔ آپ نے جو سوالات اٹھائے ہیں، ان کا جواب دینے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ حلال و حرام کے اصولوں پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔
حرام تعلق سے توبہ اور اس کے اثرات
حرام تعلق سے نکلنا اور اس پر سچی توبہ کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر: 53)۔ یعنی کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔
توبہ کے بعد اگر آپ اسی خاتون سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو اس میں کوئی شرعی رکاوٹ نہیں، بشرطیکہ آپ دونوں نے اپنے ماضی کے گناہوں سے سچی توبہ کر لی ہو اور مستقبل میں حلال طریقے سے رہنے کا عزم کر لیں۔ تاہم، یہ ضروری ہے کہ شادی سے پہلے کوئی اور حرام تعلق نہ رہے۔
اسلام قبول کرنے کی نیت
آپ کی تشویش کہ وہ خاتون صرف آپ کی خاطر اسلام قبول کر رہی ہے، بجا ہے۔ لیکن اگر وہ سچے دل سے اسلام کو سمجھ رہی ہے اور اس پر عمل کر رہی ہے، جیسا کہ آپ نے رمضان کے روزے اور نمازوں کا ذکر کیا، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کا ایمان حقیقی ہے۔ اسلام قبول کرنے کی نیت کا فیصلہ اللہ کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔ آپ اس کی نیت پر شک نہ کریں، بلکہ اس کی عملی کوششوں کو دیکھیں۔ اگر وہ واقعی اسلام پر عمل کر رہی ہے تو اس کا اسلام قبول کرنا درست ہے، چاہے آپ اس کا ذریعہ بنے ہوں۔
حضرت ام سلیمؓ اور ابو طلحہؓ کے نکاح کا واقعہ بشرطِ قبولِ اسلام
حضرت ام سلیمؓ (جو حضرت انس بن مالکؓ کی والدہ تھیں) ایک بیوہ خاتون تھیں۔ ابو طلحہؓ نے (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) انہیں نکاح کا پیغام بھیجا۔ حضرت ام سلیمؓ نے فرمایا: "اے ابو طلحہ! آپ جیسے مرد کا پیغام رد نہیں کیا جا سکتا، لیکن آپ کافر ہیں اور میں مسلمان ہوں۔ میرے لیے آپ سے نکاح جائز نہیں۔ انہوں نے مزید کہا: اگر آپ اسلام قبول کر لیں، تو وہی میرا مہر ہوگا۔ مجھے اس کے علاوہ کسی سونے چاندی یا مال کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت ابو طلحہؓ اس بات سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ تاریخِ اسلام کا وہ منفرد نکاح ہے جس کا مہر "اسلام” تھا۔
خاندان کو بتانا یا نہ بتانا
آپ کے خاندان کو ماضی کے حرام تعلق کے بارے میں بتانا ضروری نہیں ہے بلکہ بتانا جائز ہی نہیں کیونکہ اسلام میں گناہوں کو چھپانے کی ترغیب دی گئی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پردہ پوشی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ آپ صرف اتنا بتا سکتے ہیں کہ آپ نے ایک غیر مسلم خاتون سے ملاقات کی، جو اب مسلمان ہو چکی ہے اور آپ اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف ضروری معلومات فراہم کریں۔
خاندان کی منظوری
خاندان کی منظوری شادی کے لیے انتظامی امور کے لئے ضروری ہے، لیکن اگر وہ بغیر کسی شرعی وجہ کے انکار کریں تو آپ ان کی مرضی کے بغیر یا انہیں بتائے بغیر بھی شادی کرسکتے ہیں، البتہ سب سے بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے خاندان کو بتائیں کہ یہ خاتون اب مسلمان ہے اور اس کے اخلاق اور دین داری آپ کو متاثر کرتی ہے۔ ان کے اعتراضات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور انہیں پرسکون طریقے سے قائل کریں۔
عملی اقدامات
- دونوں سچی توبہ کریں اور مستقبل میں حلال طریقے سے رہنے کا عزم کریں۔
- خاتون کے اسلام قبول کرنے کے بعد اسے اسلامی تعلیمات سیکھنے کو کہیں، نکاح سے پہلے خود ان سے کسی قسم کی باتیں کرنے سے گریز کریں کہ یہ گناہ کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔
- خاندان کو بتانے سے پہلے ان کی ممکنہ تشویش کو سمجھیں اور نرمی سے بات کریں۔
- شادی سے پہلے کوئی اور حرام تعلق حتی کہ غیرضروری بات چیت اور بےتکلفی بھی نہ رکھیں۔
یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ آپ کی موجودہ حالت میں سب سے اہم چیز سچی توبہ اور اللہ سے مدد مانگنا ہے۔
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ