سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے یہ پیغام آپ تک خیریت اور مضبوط ایمان کے ساتھ پہنچے۔ اگر میرا سوال آپ کے معمول کے دائرے سے باہر ہو تو معذرت چاہتا ہوں، مگر میں خود کو ایک ایسی حالت میں پاتا ہوں جہاں رہنمائی کے لیے میرے پاس کوئی نہیں۔
میں یوکرین میں رہنے والا ایک مسلمان ہوں، اور تقریباً چار سال سے جنگ کی فرنٹ لائن کے بہت قریب رہ رہا ہوں۔ میرا شہر عملاً فرنٹ کا حصہ بن چکا ہے۔ الحمدللہ، میں اپنی پوری کوشش کرتا ہوں کہ سنت کے مطابق زندگی گزاروں، اگرچہ بہت سی کمزوریاں ہیں جن پر ابھی کام کرنا ہے۔
چار سال سے مسلسل جنگ کے دباؤ میں زندگی گزر رہی ہے۔ پچھلے ایک سال سے میں گھر سے باہر کام یا کسی دوسری جگہ نہیں جا سکتا، کیونکہ مردوں کو سڑکوں سے پکڑ کر زبردستی جنگ میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس جنگ کے بارے میں میری اپنی رائے ہے، اور میری کچھ طبی بیماریوں کی وجہ سے مجھے معذوری/عدم شرکت کی رعایت ملنی چاہیے — مگر یہاں کوئی اس کا خیال نہیں رکھتا۔ اگر میں باہر نکلوں تو کچھ گھنٹوں میں پکڑے جانے کا حقیقی خطرہ ہے۔
اسی لیے پچھلے ایک سال سے میں تقریباً گھر میں قید ہوں۔ صرف ایک بار باہر نکل کر مختصر چہل قدمی کرتا ہوں۔ میں ذکر بھی کرتا ہوں اور صبر کی کوشش بھی۔ لیکن آسان ہونے کے بجائے حالات مزید سخت ہوتے جا رہے ہیں۔ میری عمر کے 36 سال میں جتنی بھی پرانی بیماریاں تھیں — وہ سب بگڑنے لگی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ فی الحال وہ جان لیوا نہیں — مگر تکلیف بہت زیادہ ہے، اور اس حالت میں گھر میں رہنا بہت دشوار ہوتا جا رہا ہے۔
اصل سوال یہ ہے:
ان دنوں میں محسوس کر رہا ہوں کہ میرا ایمان کمزور ہونے لگا ہے۔ وہ طاقت، وہ جذبہ، وہ روحانی خوشی — جو پہلے محسوس ہوتی تھی — اب نہیں ہوتی۔ آنکھوں میں خود بخود آنسو آ جاتے ہیں۔ میں اپنی ماں کو دیکھتا ہوں جو میرے لیے کماتی ہے، محنت کر رہی ہے، اور مجھے گھر میں دیکھ کر ڈرتی ہے کہ اگر میں باہر گیا تو کہیں جنگ میں نہ بھیج دیا جاؤں۔ وہ خوف اور آنسوؤں کے ساتھ مجھے باہر نہ جانے کی درخواست کرتی ہے۔
اور میں اپنے اردگرد لوگوں کو انتہائی تکلیف میں دیکھتا ہوں — ایسی تکلیف جو بیان سے باہر ہے۔
اگر آپ کے پاس میری اس حالت کے لیے کوئی نصیحت، کوئی رہنمائی، یا کوئی حوصلہ افزا بات ہو تو میں بہت ممنون ہوں گا۔ اللہ آپ کو آپ کے وقت اور علم کا بہترین اجر دے۔
جزاکم اللہ خیراً۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کی تکلیف دہ صورتحال کو سمجھتے ہوئے دل بہت بے چین ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور جلد از جلد اس مشکل سے نکالے۔ آپ کا ایمان کا کمزور ہونا فطری ہے، کیونکہ انسان پر جب مصیبتیں پے در پے آتی ہیں تو اس کا نفس کمزور پڑ جاتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ یہ کمزوری ایمان کے ختم ہونے کی علامت نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔
صبر اور شکر کا رویہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (البقرہ: 155)۔ یعنی ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے خوف، بھوک، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔ آپ اس وقت خوف، بیماری، اور معاشی تنگی میں مبتلا ہیں، یہ عین وہ چیزیں ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ لہٰذا آپ صبر کرنے والوں میں شامل ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے بشارت رکھی ہے۔
ایمان کی کمزوری کا علاج
1. اللہ سے دعا اور گریہ
آپ کے آنسو خود بخود آتے ہیں، یہ رحمت کی علامت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لَا يُلْقَى فِي النَّارِ مَنْ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ (ترمذی)۔ یعنی جو شخص اللہ کے ڈر سے روئے، وہ جہنم میں نہیں جائے گا جب تک دودھ تھن میں واپس نہ آ جائے۔ اپنے آنسوؤں کو اللہ کے سامنے بہائیں، اور اس سے اپنی پریشانی بیان کریں۔
2. ذکر اور تلاوت
آپ پہلے ہی ذکر کرتے ہیں، اسے مزید پختہ کریں۔ خاص طور پر صبح و شام کے اذکار، اور سورہ یٰسین، سورہ واقعہ، اور سورہ ملک کی تلاوت کریں۔ یہ قلبی سکون کا ذریعہ ہیں۔
3. اللہ کے فضل پر بھروسہ
آپ کی ماں آپ کے لیے دعا کر رہی ہے، اور آپ خود بھی دعا میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: 3)۔ جو اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہے۔
عملی مشورے
- گھر میں ہی کچھ مفید کام کریں، جیسے آن لائن علم حاصل کرنا، یا کوئی ایسا کام جو آپ کی ماں کے لیے معاون ہو۔
- اپنی صحت کا خیال رکھیں، اور اگر ممکن ہو تو گھر میں ہی ورزش کریں۔
- اپنے جذبات کو کسی قابل اعتماد دوست یا عالم سے شیئر کریں۔
- یقین رکھیں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا، اور اللہ اس کا بہترین بدلہ دے گا۔
آخر میں، یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ آپ کی یہ آزمائش آپ کے درجات بلند کرنے کا ذریعہ ہے۔ اللہ آپ کو صبر اور یقین عطا فرمائے۔
حوالہ جات
- سورہ البقرہ: 155
- سورہ الطلاق: 3
- سنن ترمذی: حدیث نمبر 2311
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ