سوال:
السلام علیکم۔ اگر میرے شوہر نے دوسری شادی کر لی تو کیا یہ تقدیر میں پہلے سے لکھا ہوا تھا؟ اگر ایسا ہے تو پھر اللہ نے کیوں فرمایا، "اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی بیوی کرو"؟ یہاں، اللہ نے اختیار کا ذکر کیوں کیا؟ اب، اگر کوئی مرد دوسری شادی کرتا ہے، تو کیا یہ پہلے سے مقدر تھا؟ اگر ایک بیوی دعا اور التجا کرتی ہے، کہتی ہے، "اے اللہ، میرے شوہر کو صرف میرے ساتھ رہنے دے،" لیکن تقدیر میں دوسری شادی پہلے سے شامل ہے، تو پھر کیا ہوتا ہے؟ اگر کوئی ایسا کرتا ہے، تو کیا یہ مکمل طور پر اس کا اپنا انتخاب ہے، یا یہ تقدیر سے متاثر ہے؟ براہ کرم واضح طور پر وضاحت کریں۔ نیز، کیا اس سوال کو پوچھنا کفر سمجھا جاتا ہے؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کا سوال تقدیر اور انسانی اختیار کے درمیان تعلق کے بارے میں ہے، خاص طور پر دوسری شادی کے تناظر میں۔ یہ ایک اہم اور نازک موضوع ہے جسے قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔
تقدیر اور انسانی اختیار کا توازن
اسلامی عقیدہ کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پہلے سے مقدر کر رکھا ہے، لیکن اس کے ساتھ انسان کو اختیار اور ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ اللہ کا علم ازلی ہے اور وہ جانتا ہے کہ انسان اپنے اختیار سے کیا کرے گا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مجبور ہے۔
آیت کا مفہوم: انصاف کی شرط
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً (النساء: 3) یعنی اگر تمہیں ڈر ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو ایک ہی بیوی کرو۔ یہ آیت انسانی اختیار اور ذمہ داری کو ظاہر کرتی ہے۔ اللہ نے حکم دیا کہ اگر انصاف کا خوف ہو تو ایک پر اکتفا کرو، لیکن اگر انصاف کر سکتے ہو تو دوسری شادی جائز ہے۔ یہ اختیار انسان کو دیا گیا ہے کہ وہ اپنی استطاعت اور تقویٰ کے مطابق فیصلہ کرے۔
تقدیر اور دعا کا تعلق
اگر تقدیر میں دوسری شادی لکھی ہوئی ہے تو دعا اسے بدل سکتی ہے؟ اس سلسلے میں حدیث ہے: لَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ (ترمذی) یعنی دعا کے سوا کوئی چیز تقدیر کو نہیں ٹال سکتی۔ لہٰذا، بیوی کا دعا کرنا کہ شوہر صرف اس کے ساتھ رہے، جائز ہے اور اس کا اثر ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ اللہ کی مشیت پر منحصر ہے۔
کیا یہ سوال پوچھنا کفر ہے؟
نہیں، یہ سوال پوچھنا کفر نہیں ہے۔ یہ ایک جائز علمی اور عقیدتی سوال ہے۔ بندہ جب اللہ کی تقدیر اور اس کے حکم کے درمیان تعلق کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اس کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن سکتا ہے۔ البتہ، اگر کوئی شخص تقدیر کو جبر سمجھ کر اللہ کے احکام کو نظر انداز کرے تو یہ غلط ہے۔
خلاصہ
دوسری شادی کا فیصلہ انسان کے اختیار میں ہے، لیکن اللہ کا علم ازلی اسے گھیرے ہوئے ہے۔ دعا تقدیر کو بدل سکتی ہے، اور بیوی کو دعا کرتے رہنا چاہیے۔ یہ سوال پوچھنا کفر نہیں، بلکہ دین کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ بہتر ہے کہ اس معاملے میں کسی مستند عالم سے رجوع کیا جائے۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ النساء، آیت 3
- سنن الترمذی: حدیث نمبر 2139
- صحیح مسلم: کتاب القدر
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ