سوال:
سلام میری بیوی جرمنی سے مدینہ اپنی بہن سے ملنے آ رہی ہے اور اس کی ماں بھی وہاں موجود ہے۔ میری بیوی (31 سال) ارادہ رکھتی ہے کہ اپنی ماں کے ساتھ عمرہ کرے جبکہ میں وہاں موجود نہیں ہوں یا کوئی اور محرم ان کے ساتھ نہیں ہے۔ کیا شریعت کے مطابق اس کا یہ عمرہ کرنا جائز ہے اگر وہ یہ عمرہ تنہا کرے؟ نیز ہم نے پہلے دو بار مل کر عمرہ کیا ہے۔ جواب کا انتظار ہے۔ جزاک اللہ
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کے سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی بیوی اپنی والدہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ہے اور وہ دونوں مل کر عمرہ کرنا چاہتی ہیں، جبکہ آپ یا کوئی اور محرم ان کے ساتھ نہیں ہے۔ شریعت میں سفر کے لیے محرم کی شرط ہے، خاص طور پر عورت کے لیے۔
عورت کے لیے سفر کا حکم
احادیث مبارکہ میں واضح طور پر عورت کے لیے بغیر محرم کے سفر کرنے کی ممانعت آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ” (صحیح بخاری: 1088) یعنی "کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ حلال نہیں کہ وہ ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر کرے مگر اپنے محرم کے ساتھ۔”
یہ حکم سفرِ عمرہ کے لیے بھی ہے، خواہ عورت اپنی ماں کے ساتھ ہو، کیونکہ ماں محرم نہیں ہے۔ محرم وہ مرد ہوتا ہے جس سے عورت کا نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو، جیسے باپ، بھائی، بیٹا، چچا، ماموں، خاوند وغیرہ۔
ماں کے ساتھ سفر کا حکم
ماں کے ساتھ سفر کرنا بھی اس حکم سے مستثنیٰ نہیں ہے، کیونکہ ماں عورت ہے اور اس کے ساتھ سفر کرنے سے محرم کی شرط پوری نہیں ہوتی۔ لہٰذا آپ کی بیوی کے لیے بغیر محرم کے عمرہ کے لیے سفر کرنا جائز نہیں ہے۔
پہلے عمرہ کر چکے ہیں
آپ کا پہلے دو بار مل کر عمرہ کرنا اس مسئلے پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ ہر سفر کے لیے علیحدہ طور پر محرم کی شرط ہے۔
نتیجہ
لہٰذا آپ کی بیوی کے لیے بغیر محرم کے اپنی ماں کے ساتھ عمرہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ اگر وہ عمرہ کرنا چاہتی ہیں تو ضروری ہے کہ کوئی محرم (جیسے آپ، اس کا باپ، بھائی، بیٹا وغیرہ) ان کے ساتھ ہو۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات
- صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1088
- صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1339
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الکراہیہ، الفصل الثانی فی السفر
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ