Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

بیوی کا بغیر محرم کے ماں کے ساتھ عمرہ کرنا

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

سلام میری بیوی جرمنی سے مدینہ اپنی بہن سے ملنے آ رہی ہے اور اس کی ماں بھی وہاں موجود ہے۔ میری بیوی (31 سال) ارادہ رکھتی ہے کہ اپنی ماں کے ساتھ عمرہ کرے جبکہ میں وہاں موجود نہیں ہوں یا کوئی اور محرم ان کے ساتھ نہیں ہے۔ کیا شریعت کے مطابق اس کا یہ عمرہ کرنا جائز ہے اگر وہ یہ عمرہ تنہا کرے؟ نیز ہم نے پہلے دو بار مل کر عمرہ کیا ہے۔ جواب کا انتظار ہے۔ جزاک اللہ


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کے سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی بیوی اپنی والدہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ہے اور وہ دونوں مل کر عمرہ کرنا چاہتی ہیں، جبکہ آپ یا کوئی اور محرم ان کے ساتھ نہیں ہے۔ شریعت میں سفر کے لیے محرم کی شرط ہے، خاص طور پر عورت کے لیے۔

عورت کے لیے سفر کا حکم

احادیث مبارکہ میں واضح طور پر عورت کے لیے بغیر محرم کے سفر کرنے کی ممانعت آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ” (صحیح بخاری: 1088) یعنی "کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ حلال نہیں کہ وہ ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر کرے مگر اپنے محرم کے ساتھ۔”

یہ حکم سفرِ عمرہ کے لیے بھی ہے، خواہ عورت اپنی ماں کے ساتھ ہو، کیونکہ ماں محرم نہیں ہے۔ محرم وہ مرد ہوتا ہے جس سے عورت کا نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو، جیسے باپ، بھائی، بیٹا، چچا، ماموں، خاوند وغیرہ۔

ماں کے ساتھ سفر کا حکم

ماں کے ساتھ سفر کرنا بھی اس حکم سے مستثنیٰ نہیں ہے، کیونکہ ماں عورت ہے اور اس کے ساتھ سفر کرنے سے محرم کی شرط پوری نہیں ہوتی۔ لہٰذا آپ کی بیوی کے لیے بغیر محرم کے عمرہ کے لیے سفر کرنا جائز نہیں ہے۔

پہلے عمرہ کر چکے ہیں

آپ کا پہلے دو بار مل کر عمرہ کرنا اس مسئلے پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ ہر سفر کے لیے علیحدہ طور پر محرم کی شرط ہے۔

نتیجہ

لہٰذا آپ کی بیوی کے لیے بغیر محرم کے اپنی ماں کے ساتھ عمرہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ اگر وہ عمرہ کرنا چاہتی ہیں تو ضروری ہے کہ کوئی محرم (جیسے آپ، اس کا باپ، بھائی، بیٹا وغیرہ) ان کے ساتھ ہو۔

واللہ اعلم بالصواب۔

حوالہ جات

  • صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1088
  • صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1339
  • فتاویٰ ہندیہ، کتاب الکراہیہ، الفصل الثانی فی السفر

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.