Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

بیرون ملک کام اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

بیرونِ ملک کام اور مارکیٹنگ سے متعلق سوال

سوال (اردو ترجمہ):

اگر میرے والد، میں اور میرا بھائی سب بیرونِ ملک کام کرتے ہیں، جبکہ میری والدہ اور بہن پاکستان میں رہتی ہیں، تو کیا میرے لیے یہاں سعودی عرب میں ملازمت کرنا جائز ہے یا مجھے ان کے ساتھ رہنا چاہیے تاکہ جب انہیں گھر سے باہر جانے کی ضرورت ہو تو میں ان کی مدد اور حفاظت کر سکوں؟ اگر والدہ مجھے اجازت دیتی ہیں کہ میں یہاں کام کروں اور سال میں ایک بار اُن سے ملنے پاکستان آؤں اور وہ بھی سال میں کبھی کبھی ہمارے پاس آجائیں، اور بہن بھی 3–4 سال میں ڈگری مکمل کرکے شادی کرلے گی، اور اس کے بعد والدہ بھی مستقل یہاں آجائیں گی — تو اس معلومات کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ میرا یہاں رہ کر کام کرنا حرام ہے؟ مکروہ ہے؟ یا جائز ہے؟

اس کے علاوہ بتائیں کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی جاب اسلام میں حلال ہے یا نہیں؟
بعض اوقات ہمیں اسپا (Spa) کلائنٹس کے لیے اشتہارات چلانے ہوتے ہیں، جن میں ویژولز بعض اوقات مناسب نہیں ہوتے، لیکن سروس خواتین سے خواتین کے لیے ہوتی ہے۔
کیا ایسے اشتہارات، جن میں کچھ غیر مناسب تصاویر ہوں، پروموٹ کرنا جائز ہے؟

براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کا سوال دو حصوں پر مشتمل ہے: پہلا حصہ بیرون ملک ملازمت اور والدہ و بہن کی کفالت سے متعلق ہے، اور دوسرا حصہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں اسپا جیسے کلائنٹس کے اشتہارات کے بارے میں ہے۔ ذیل میں دونوں پہلوؤں پر شرعی رہنمائی پیش کی جاتی ہے۔

بیرون ملک ملازمت اور والدہ و بہن کی کفالت

اسلام میں والدین کی خدمت اور ان کی حفاظت بہت اہم ہے، خاص طور پر جب والدہ تنہا ہوں یا انہیں مدد کی ضرورت ہو۔ تاہم، اگر والدہ خود آپ کو بیرون ملک کام کرنے کی اجازت دیتی ہیں اور وہ خود بھی کبھی کبھار آپ کے پاس آ سکتی ہیں، اور بہن بھی جلد شادی کرنے والی ہے، تو اس صورت میں آپ کا بیرون ملک رہ کر کام کرنا جائز ہے، بشرطیکہ آپ والدہ اور بہن کی ضروریات اور حفاظت کا مناسب انتظام کریں۔

والدہ کی اجازت اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ ان کی مالی اور جذباتی مدد کرتے رہیں، اور سال میں کم از کم ایک بار ان سے ملنے جائیں۔ اگر والدہ اور بہن پاکستان میں محفوظ اور خوشحال ہیں، اور ان کی دیکھ بھال کا کوئی اور ذمہ دار ہے (جیسے آپ کے والد یا بھائی)، تو آپ کا بیرون ملک کام کرنا حرام یا مکروہ نہیں ہے۔

تاہم، اگر والدہ کی عمر زیادہ ہے یا وہ بیمار ہیں، یا انہیں آپ کی موجودگی کی شدید ضرورت ہے، تو پھر ان کے ساتھ رہنا اور ان کی خدمت کرنا افضل ہوگا۔ اس صورت میں آپ کو اپنی ملازمت کا جائزہ لینا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو پاکستان میں ہی روزگار تلاش کرنا چاہیے۔

ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور اسپا کلائنٹس کے اشتہارات

ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا کام بذات خود حلال ہے، لیکن اس میں اشتہار دی جانے والی مصنوعات اور خدمات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگر آپ کو اسپا (Spa) کلائنٹس کے لیے اشتہارات چلانے ہوتے ہیں، اور ان اشتہارات میں غیر مناسب تصاویر یا ویڈیوز شامل ہیں (جیسے کہ عورت کی نا مناسب تصاویر)، تو ایسے اشتہارات کو پروموٹ کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس میں فحش یا نا مناسب مواد کی تشہیر شامل ہے۔

اگرچہ سروس خواتین سے خواتین کے لیے ہے، لیکن اگر اشتہار میں ایسی تصاویر ہیں جو شرم و حیا کے خلاف ہیں یا فتنے کا باعث بن سکتی ہیں، تو انہیں چلانا حرام ہے۔ آپ کو اپنے کلائنٹ سے کہنا چاہیے کہ وہ اشتہار میں مناسب تصاویر استعمال کریں، یا اگر ممکن ہو تو اس کام سے معذرت کر لیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدہ: 2) یعنی نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی میں تعاون نہ کرو۔

لہٰذا، آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ آپ ایسے اشتہارات سے پرہیز کریں جن میں کوئی شرعی خرابی ہو، اور حلال اور پاکیزہ ذرائع سے روزی کمائیں۔

حوالہ جات

  • سورۃ المائدہ، آیت 2
  • صحیح بخاری، کتاب الاستئذان
  • فتاویٰ شامی، کتاب الحظر والإباحة

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.