سوال:
محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میں شریعت کی روشنی میں اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان جائیداد/مالی حقوق کے مسئلے کی صحیح شرعی حیثیت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ صورتِ حال یہ ہے: 1. میں اور میرے بھائی نے آپس میں یہ بات کی تھی کہ گھر کے اخراجات کم کرنے اور معاملات چلانے کے لیے ہم مل کر کوشش کریں گے۔ عملی طور پر ایک بھائی (زیادہ تر میرا بھائی) گھر کے خرچ میں زیادہ حصہ ڈالتا رہا اور میں بھی خرچ چلاتا رہا مگر نسبتاً کم۔ 2. کچھ عرصہ اسی طرح چلتا رہا، پھر ہم نے ایک مکان/گھر خریدا۔ بعد میں میں نے ایک اور مکان بھی خریدا جو میرے اپنے بزنس فنڈز سے لیا گیا تھا (یہ کاروبار مشترکہ نہیں تھا بلکہ میری طرف سے شروع کیا گیا اور میرا ذاتی کاروبار ہے)۔ 3. اب میرا بھائی یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ پہلے خریدے گئے مکان/گھر میں اس کا 50٪ حق ہے، اور مزید یہ کہ دوسرے مکان اور میری دیگر مالیت میں بھی 50٪ حصہ اسے ملنا چاہیے، اس بنیاد پر کہ شروع میں ہم نے مل کر کام کرنے/بچت کرنے کی بات کی تھی۔ 4. میں اسے 30% تک دینے پے راضی ہوں لیکن اس کا اصرار تو میری کل ملکیت کے 50% پر ہے۔ 5. واضح رہے کہ ہمارے درمیان نہ کوئی تحریری معاہدہ ہے اور نہ زبانی طور پر یہ طے ہوا تھا کہ “جمع شدہ رقم یا خریدی گئی جائیداد میں ہم 50/50 شریک ہوں گے”۔ صرف عمومی طور پر یہ بات ہوئی تھی کہ اخراجات بچانے اور پورا کرنے کے لیے مل کر کوشش کریں گے۔ اب میرا شرعی سوال یہ ہے کہ: * ایسی صورت میں شریعت کے مطابق پہلے مکان/گھر کی ملکیت کس کے نام/کس کی ملکیت شمار ہوگی، اور کیا بھائی کا 50٪ مطالبہ شرعاً درست ہے؟ * دوسرے مکان کے بارے میں (جو میرے ذاتی، غیر مشترکہ کاروباری فنڈز سے خریدا گیا) کیا بھائی کا اس میں یا میری دیگر مالیت میں 50٪ حصہ بن سکتا ہے؟ * اگر گھر کے اخراجات میں ایک بھائی نے زیادہ دیا اور دوسرے نے کم دیا، اور 50/50 شراکت کی کوئی شرط/معاہدہ موجود نہیں تھا، تو پھر حق کی بنیاد کیا ہوگی؟ کیا خرچ میں زیادہ حصہ دینے سے ملکیت میں حصہ ثابت ہوتا ہے، یا صرف خرچ کی واپسی/ایڈجسٹمنٹ کی کوئی صورت بنتی ہے؟ * اس مسئلے کو باہمی رضامندی سے انصاف کے ساتھ حل کرنے کے لیے شریعت کی “بنیادی لائن” کیا ہے تاکہ ہم اسی کے مطابق تقسیم/صلح کر سکیں؟ جزاکم اللہ خیراً۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے اپنے بھائی کے ساتھ مالی معاملات اور جائیداد کے حوالے سے جو تفصیلات بیان کی ہیں، اس میں شرعی اصولوں کی روشنی میں درج ذیل نکات قابل غور ہیں۔
پہلی جائیداد (مشترکہ خریداری) کا حکم
چونکہ آپ دونوں نے مل کر پہلا مکان خریدا تھا، اس لیے یہ جائیداد مشترکہ ملکیت شمار ہوگی۔ البتہ اس میں ہر ایک کا حصہ اس رقم کے تناسب سے ہوگا جو اس نے خرچ کی تھی، نہ کہ خود بخود 50/50۔ اگر آپ کے بھائی نے زیادہ رقم دی ہے تو اس کا حصہ بھی اسی تناسب سے زیادہ ہوگا۔ جب تک کوئی واضح معاہدہ نہ ہو کہ ہم برابر کے شریک ہیں، شرعی اصول یہ ہے کہ ملکیت کا تعین رقم کی ادائیگی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
دوسری جائیداد (ذاتی کاروبار سے خریدی گئی) کا حکم
یہ مکان آپ کے ذاتی کاروباری فنڈز سے خریدا گیا ہے، جس میں آپ کے بھائی کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس لیے یہ جائیداد صرف آپ کی ملکیت ہے اور آپ کے بھائی کا اس میں کوئی شرعی حق نہیں ہے۔ اس کا مطالبہ کہ آپ کی تمام جائیداد میں اس کا 50% حصہ ہے، بے بنیاد ہے۔
گھر کے اخراجات میں زیادہ حصہ دینے کا اثر
اگر آپ کے بھائی نے گھر کے اخراجات میں زیادہ حصہ ڈالا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ کی ذاتی جائیداد میں شریک ہو گیا۔ اس صورت میں وہ صرف اپنے اضافی خرچ کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے، بشرطیکہ یہ قرض کی نیت سے دیا گیا ہو۔ اگر یہ اخراجات بغیر کسی شرط کے کیے گئے تھے، تو انہیں تبرع (عطیہ) سمجھا جائے گا، جس کی واپسی واجب نہیں۔
صلح کا شرعی طریقہ
بہتر یہ ہے کہ آپ دونوں باہمی رضامندی سے کسی ثالث (مثلاً خاندان کے بزرگ یا عالم دین) کے ذریعے صلح کریں۔ شرعی اصولوں کے مطابق درج ذیل بنیادوں پر صلح ممکن ہے:
- پہلی جائیداد میں ہر ایک کا حصہ اس کی دی گئی رقم کے تناسب سے ہو۔
- دوسری جائیداد آپ کی ذاتی ملکیت ہے، اس میں بھائی کا کوئی حصہ نہیں۔
- گھر کے اخراجات میں زیادہ حصہ دینے کی صورت میں، اگر وہ قرض تھا تو واپس کیا جائے، ورنہ اسے عطیہ سمجھا جائے۔
آپ 30% دینے پر راضی ہیں، لیکن شرعی طور پر آپ کو صرف اتنا دینا ضروری ہے جتنا آپ پر واجب ہو۔ اگر آپ صلح کے طور پر کچھ زیادہ دینا چاہیں تو یہ آپ کی خوشنودی ہے۔
خلاصہ
آپ کے بھائی کا 50% کا مطالبہ شرعی طور پر درست نہیں ہے، سوائے پہلی جائیداد میں اس کے اصل حصے کے۔ دوسری جائیداد اور دیگر ذاتی مالیت میں اس کا کوئی حق نہیں۔ بہتر ہے کہ آپ کسی مستند مفتی سے رجوع کر کے معاملہ طے کریں۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ النساء، آیت 29 (مال کو باطل طریقے سے نہ کھاؤ)
- حدیث: "المسلمون على شروطهم” (مسلم شریف)
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الشرکہ
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ