Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

بھائی کے ساتھ جائیداد کے تنازع کا شرعی حل

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میں شریعت کی روشنی میں اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان جائیداد/مالی حقوق کے مسئلے کی صحیح شرعی حیثیت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ صورتِ حال یہ ہے: 1. میں اور میرے بھائی نے آپس میں یہ بات کی تھی کہ گھر کے اخراجات کم کرنے اور معاملات چلانے کے لیے ہم مل کر کوشش کریں گے۔ عملی طور پر ایک بھائی (زیادہ تر میرا بھائی) گھر کے خرچ میں زیادہ حصہ ڈالتا رہا اور میں بھی خرچ چلاتا رہا مگر نسبتاً کم۔ 2. کچھ عرصہ اسی طرح چلتا رہا، پھر ہم نے ایک مکان/گھر خریدا۔ بعد میں میں نے ایک اور مکان بھی خریدا جو میرے اپنے بزنس فنڈز سے لیا گیا تھا (یہ کاروبار مشترکہ نہیں تھا بلکہ میری طرف سے شروع کیا گیا اور میرا ذاتی کاروبار ہے)۔ 3. اب میرا بھائی یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ پہلے خریدے گئے مکان/گھر میں اس کا 50٪ حق ہے، اور مزید یہ کہ دوسرے مکان اور میری دیگر مالیت میں بھی 50٪ حصہ اسے ملنا چاہیے، اس بنیاد پر کہ شروع میں ہم نے مل کر کام کرنے/بچت کرنے کی بات کی تھی۔ 4. میں اسے 30% تک دینے پے راضی ہوں لیکن اس کا اصرار تو میری کل ملکیت کے 50% پر ہے۔ 5. واضح رہے کہ ہمارے درمیان نہ کوئی تحریری معاہدہ ہے اور نہ زبانی طور پر یہ طے ہوا تھا کہ “جمع شدہ رقم یا خریدی گئی جائیداد میں ہم 50/50 شریک ہوں گے”۔ صرف عمومی طور پر یہ بات ہوئی تھی کہ اخراجات بچانے اور پورا کرنے کے لیے مل کر کوشش کریں گے۔ اب میرا شرعی سوال یہ ہے کہ: * ایسی صورت میں شریعت کے مطابق پہلے مکان/گھر کی ملکیت کس کے نام/کس کی ملکیت شمار ہوگی، اور کیا بھائی کا 50٪ مطالبہ شرعاً درست ہے؟ * دوسرے مکان کے بارے میں (جو میرے ذاتی، غیر مشترکہ کاروباری فنڈز سے خریدا گیا) کیا بھائی کا اس میں یا میری دیگر مالیت میں 50٪ حصہ بن سکتا ہے؟ * اگر گھر کے اخراجات میں ایک بھائی نے زیادہ دیا اور دوسرے نے کم دیا، اور 50/50 شراکت کی کوئی شرط/معاہدہ موجود نہیں تھا، تو پھر حق کی بنیاد کیا ہوگی؟ کیا خرچ میں زیادہ حصہ دینے سے ملکیت میں حصہ ثابت ہوتا ہے، یا صرف خرچ کی واپسی/ایڈجسٹمنٹ کی کوئی صورت بنتی ہے؟ * اس مسئلے کو باہمی رضامندی سے انصاف کے ساتھ حل کرنے کے لیے شریعت کی “بنیادی لائن” کیا ہے تاکہ ہم اسی کے مطابق تقسیم/صلح کر سکیں؟ جزاکم اللہ خیراً۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ نے اپنے بھائی کے ساتھ مالی معاملات اور جائیداد کے حوالے سے جو تفصیلات بیان کی ہیں، اس میں شرعی اصولوں کی روشنی میں درج ذیل نکات قابل غور ہیں۔

پہلی جائیداد (مشترکہ خریداری) کا حکم

چونکہ آپ دونوں نے مل کر پہلا مکان خریدا تھا، اس لیے یہ جائیداد مشترکہ ملکیت شمار ہوگی۔ البتہ اس میں ہر ایک کا حصہ اس رقم کے تناسب سے ہوگا جو اس نے خرچ کی تھی، نہ کہ خود بخود 50/50۔ اگر آپ کے بھائی نے زیادہ رقم دی ہے تو اس کا حصہ بھی اسی تناسب سے زیادہ ہوگا۔ جب تک کوئی واضح معاہدہ نہ ہو کہ ہم برابر کے شریک ہیں، شرعی اصول یہ ہے کہ ملکیت کا تعین رقم کی ادائیگی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

دوسری جائیداد (ذاتی کاروبار سے خریدی گئی) کا حکم

یہ مکان آپ کے ذاتی کاروباری فنڈز سے خریدا گیا ہے، جس میں آپ کے بھائی کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس لیے یہ جائیداد صرف آپ کی ملکیت ہے اور آپ کے بھائی کا اس میں کوئی شرعی حق نہیں ہے۔ اس کا مطالبہ کہ آپ کی تمام جائیداد میں اس کا 50% حصہ ہے، بے بنیاد ہے۔

گھر کے اخراجات میں زیادہ حصہ دینے کا اثر

اگر آپ کے بھائی نے گھر کے اخراجات میں زیادہ حصہ ڈالا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ کی ذاتی جائیداد میں شریک ہو گیا۔ اس صورت میں وہ صرف اپنے اضافی خرچ کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے، بشرطیکہ یہ قرض کی نیت سے دیا گیا ہو۔ اگر یہ اخراجات بغیر کسی شرط کے کیے گئے تھے، تو انہیں تبرع (عطیہ) سمجھا جائے گا، جس کی واپسی واجب نہیں۔

صلح کا شرعی طریقہ

بہتر یہ ہے کہ آپ دونوں باہمی رضامندی سے کسی ثالث (مثلاً خاندان کے بزرگ یا عالم دین) کے ذریعے صلح کریں۔ شرعی اصولوں کے مطابق درج ذیل بنیادوں پر صلح ممکن ہے:

  • پہلی جائیداد میں ہر ایک کا حصہ اس کی دی گئی رقم کے تناسب سے ہو۔
  • دوسری جائیداد آپ کی ذاتی ملکیت ہے، اس میں بھائی کا کوئی حصہ نہیں۔
  • گھر کے اخراجات میں زیادہ حصہ دینے کی صورت میں، اگر وہ قرض تھا تو واپس کیا جائے، ورنہ اسے عطیہ سمجھا جائے۔

آپ 30% دینے پر راضی ہیں، لیکن شرعی طور پر آپ کو صرف اتنا دینا ضروری ہے جتنا آپ پر واجب ہو۔ اگر آپ صلح کے طور پر کچھ زیادہ دینا چاہیں تو یہ آپ کی خوشنودی ہے۔

خلاصہ

آپ کے بھائی کا 50% کا مطالبہ شرعی طور پر درست نہیں ہے، سوائے پہلی جائیداد میں اس کے اصل حصے کے۔ دوسری جائیداد اور دیگر ذاتی مالیت میں اس کا کوئی حق نہیں۔ بہتر ہے کہ آپ کسی مستند مفتی سے رجوع کر کے معاملہ طے کریں۔

حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورۃ النساء، آیت 29 (مال کو باطل طریقے سے نہ کھاؤ)
  • حدیث: "المسلمون على شروطهم” (مسلم شریف)
  • فتاویٰ ہندیہ، کتاب الشرکہ

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.