سوال:
میں ایک ٹریڈنگ پلیٹ فارم پر آن لائن فزیکل سلور کا ETC رکھ رہا ہوں۔ یہ سلور کی سپاٹ قیمت کو ٹریک کرتا ہے (پلیٹ فارم فیس کی وجہ سے رقم میں معمولی فرق کے ساتھ)۔ جب سے میں نے فزیکل سلور کے اسٹاک خریدے ہیں، قیمت بڑھ گئی ہے۔ حال ہی میں مجھے پتہ چلا کہ فنڈ/اسٹاک بلیک راک کے ذریعے منظم کیے جا رہے ہیں اور اسے اسرائیل کے لیے فنڈ سپلائرز میں سے ایک سمجھا جاتا تھا (ظاہری وجوہات کی بنا پر میرا خیال ہے)۔ تو، کیا اس سے حاصل ہونے والی آمدنی/منافع میرے فروخت کرنے کے بعد حلال ہوگی؟ یا مجھے اسٹاک فروخت کر کے دوسرے فنڈ مینیجر سے خریدنا چاہیے؟ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ فروخت سے اطالوی حکومت کو کیپٹل گین ٹیکس لگے گا جو 26% فلیٹ ہے اور خریدتے وقت اسپریڈ فرق، بروکر فیس اور قیمت کی کارروائی ہوگی۔ اس میں، میں محض اپنے فنڈ مینیجر کو تبدیل کرنے کے لیے رقم کا ایک بڑا حصہ کھو سکتا ہوں۔ لیکن، اگر اسے جاری رکھنا حرام ہے تو میں ان اخراجات کو برداشت کرنے میں خوشی محسوس کروں گا۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے جو سوال کیا ہے وہ بہت اہم ہے۔ آپ نے فزیکل سلور کے ETC میں سرمایہ کاری کی ہے اور بعد میں پتہ چلا کہ یہ فنڈ بلیک راک کے زیر انتظام ہے، جسے اسرائیل کو فنڈ فراہم کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ پوچھ رہے ہیں کہ کیا اس سے حاصل ہونے والا منافع حلال ہے یا آپ کو نقصان اٹھا کر بھی اسے فروخت کر دینا چاہیے؟
بنیادی اصول: حلال اور حرام کمائی
اسلام میں کمائی کی دو بنیادی شرائط ہیں: (1) خود مال حلال ہو، (2) کمائی کا ذریعہ حلال ہو۔ اگر کوئی چیز حرام ہے تو اس میں سرمایہ کاری کرنا اور اس سے منافع کمانا جائز نہیں۔
بلیک راک اور اسرائیل سے تعلق
بلیک راک ایک بڑی سرمایہ کاری کمپنی ہے۔ اگر یہ ثابت ہے کہ یہ کمپنی اسرائیل کو براہ راست فنڈ فراہم کرتی ہے یا اس کے کچھ فنڈز اسرائیل کی غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوتے ہیں، تو ایسی کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا ناجائز ہو سکتا ہے۔ تاہم، آپ کے معاملے میں آپ نے فزیکل سلور کا ETC خریدا ہے، جو سلور کی قیمت کو ٹریک کرتا ہے۔ اس کا تعلق بلیک راک کے دیگر فنڈز سے مختلف ہو سکتا ہے۔
سلور ETC کی نوعیت
فزیکل سلور کا ETC عام طور پر اصل سلور کی خریداری پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ کسی کمپنی کے شیئر پر۔ اس لیے اس کا تعلق بلیک راک کے انتظامی کردار سے ہے، نہ کہ براہ راست اسرائیل کو فنڈ دینے سے۔ اگر ETC خالصتاً سلور کی قیمت کی نمائندگی کرتا ہے اور اس میں کوئی سودی معاملہ یا حرام چیز شامل نہیں، تو اس میں سرمایہ کاری جائز ہو سکتی ہے۔
آپ کے لیے رہنمائی
آپ کو درج ذیل باتوں پر غور کرنا چاہیے:
- تحقیق کریں: یقینی بنائیں کہ آیا بلیک راک کا یہ ETC واقعی اسرائیل کو فنڈ دینے میں براہ راست ملوث ہے یا نہیں۔ بہت سے بڑے فنڈ مینیجرز کے پاس مختلف قسم کے فنڈز ہوتے ہیں، اور ان میں سے کچھ حلال ہو سکتے ہیں۔
- مفتی سے مشورہ کریں: چونکہ یہ معاملہ پیچیدہ ہے اور اس میں تفصیلی معلومات درکار ہیں، بہتر ہوگا کہ آپ کسی مستند مفتی سے رابطہ کریں جو بلیک راک کے بارے میں مزید معلومات رکھتے ہوں۔
- احتیاط: اگر آپ کو یقین ہو جائے کہ یہ فنڈ حرام سرگرمیوں میں ملوث ہے، تو آپ کو اسے فروخت کر دینا چاہیے، چاہے اس میں نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نقصان کی تلافی کر دے گا۔
نتیجہ
آپ کے معاملے میں، اگر ETC خالص سلور پر مبنی ہے اور بلیک راک کا اسرائیل سے تعلق صرف انتظامی ہے اور اس میں کوئی حرام چیز شامل نہیں، تو منافع حلال ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ کو یقین ہو کہ یہ فنڈ براہ راست اسرائیل کی غیر قانونی سرگرمیوں میں معاون ہے، تو اسے فروخت کرنا ضروری ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
حوالہ جات
- قرآن مجید: سورہ البقرہ، آیت 275 (حلال و حرام کے اصول)
- حدیث: "حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے” (بخاری و مسلم)
- فتاویٰ شامی (کتاب البیوع)
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ