Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

بری نیت سے نامحرم کو دیکھنے پر نذر کے روزوں کا حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم شیخ، میرا سوال یہ ہے: 1. میں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی میں کسی نامحرم کو بری نیت سے دیکھوں گا، ہر واقعے کے لیے روزے رکھوں گا۔ میں نے یہ واضح کیا تھا کہ: اگر میں ایک بار دیکھوں تو 3 روزے رکھوں گا اگر میں دو بار دیکھوں تو 6 روزے رکھوں گا یعنی، ہر ایک واقعے کے لیے، مجھ پر 3 روزے واجب ہو جاتے ہیں 2. اب مسئلہ یہ ہے کہ میں نے یہ کام بری نیت سے 500 سے زیادہ بار کیا ہے۔ تو، کیا مجھے ہر واقعے کے لیے 3 روزے رکھنے ہوں گے؟ دوسرے الفاظ میں، کیا مجھے کل 1500 روزے رکھنے ہوں گے؟ 3. یا کیا یہ ممکن ہے کہ میں صرف ایک بار کفارہ ادا کر دوں (مثلاً، 3 روزے رکھ کر)، اور یہ سب کے لیے کافی ہو گا؟ 4. مزید برآں، اگر میں ایک بار کفارہ ادا کر دوں، تو کیا یہ وعدہ بھی ختم (منسوخ) سمجھا جائے گا، یا پھر بھی واجب العمل رہے گا، کیونکہ میں نے "ہر بار" کی شرط لگائی تھی؟ براہ کرم اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ نے اللہ تعالیٰ سے نذر مانی تھی کہ جب بھی کسی نامحرم کو بری نیت سے دیکھوں گا تو ہر بار تین روزے رکھوں گا۔ اب آپ نے پانچ سو سے زائد مرتبہ ایسا کیا ہے، تو اس صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ آپ پر ہر مرتبہ کے لیے الگ الگ تین روزے واجب ہوں گے، یعنی کل روزوں کی تعداد 1500 سے زائد بنتی ہے۔ تاہم، چونکہ یہ تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کا پورا کرنا ممکن نہیں لگتا، اس لیے آپ کو چاہیے کہ کسی مستند عالم یا مفتی سے رجوع کر کے اس معاملے میں رہنمائی حاصل کریں۔

نذر کا حکم

نذر ایک شرعی عہد ہے جسے پورا کرنا واجب ہے۔ جب آپ نے ہر بار کے لیے تین روزے رکھنے کی نذر مانی، تو ہر مرتبہ نظر بد کرنے پر آپ پر تین روزے واجب ہو گئے۔ اس لیے آپ پر کل 1500 سے زائد روزے واجب ہیں۔

کیا ایک کفارہ کافی ہے؟

نذر کے کفارے میں ایک بار کفارہ دینے سے تمام نذریں ادا نہیں ہو جاتیں، کیونکہ ہر نذر الگ الگ واجب ہوتی ہے۔ لہٰذا صرف تین روزے رکھنے سے پوری ذمہ داری ختم نہیں ہوگی۔

کیا نذر ختم ہو جائے گی؟

نذر اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک اسے پورا نہ کیا جائے۔ اگر آپ نے ایک بار کفارہ ادا کیا تو اس سے صرف ایک مرتبہ کی نذر ادا ہوگی، باقی نذریں اپنی جگہ باقی رہیں گی۔

عملی رہنمائی

چونکہ روزوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس لیے آپ کو چاہیے کہ:

  • سچی توبہ کریں اور آئندہ اس گناہ سے بچنے کا عزم کریں۔
  • جتنے روزے رکھ سکیں، رکھیں۔
  • باقی روزوں کے لیے کسی مستند عالم سے رجوع کر کے متبادل کفارہ (جیسے فدیہ) کے بارے میں دریافت کریں۔

یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی کمزوریوں کو جانتا ہے اور توبہ کرنے والوں کو معاف فرمانے والا ہے۔

حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورۃ المائدہ، آیت 89 (کفارہ یمین کا بیان)
  • صحیح البخاری، کتاب الأیمان والنذور
  • فتاویٰ ہندیہ، کتاب الأیمان، باب النذر

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.