سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم شیخ، میرا سوال یہ ہے: 1. میں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی میں کسی نامحرم کو بری نیت سے دیکھوں گا، ہر واقعے کے لیے روزے رکھوں گا۔ میں نے یہ واضح کیا تھا کہ: اگر میں ایک بار دیکھوں تو 3 روزے رکھوں گا اگر میں دو بار دیکھوں تو 6 روزے رکھوں گا یعنی، ہر ایک واقعے کے لیے، مجھ پر 3 روزے واجب ہو جاتے ہیں 2. اب مسئلہ یہ ہے کہ میں نے یہ کام بری نیت سے 500 سے زیادہ بار کیا ہے۔ تو، کیا مجھے ہر واقعے کے لیے 3 روزے رکھنے ہوں گے؟ دوسرے الفاظ میں، کیا مجھے کل 1500 روزے رکھنے ہوں گے؟ 3. یا کیا یہ ممکن ہے کہ میں صرف ایک بار کفارہ ادا کر دوں (مثلاً، 3 روزے رکھ کر)، اور یہ سب کے لیے کافی ہو گا؟ 4. مزید برآں، اگر میں ایک بار کفارہ ادا کر دوں، تو کیا یہ وعدہ بھی ختم (منسوخ) سمجھا جائے گا، یا پھر بھی واجب العمل رہے گا، کیونکہ میں نے "ہر بار" کی شرط لگائی تھی؟ براہ کرم اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے اللہ تعالیٰ سے نذر مانی تھی کہ جب بھی کسی نامحرم کو بری نیت سے دیکھوں گا تو ہر بار تین روزے رکھوں گا۔ اب آپ نے پانچ سو سے زائد مرتبہ ایسا کیا ہے، تو اس صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ آپ پر ہر مرتبہ کے لیے الگ الگ تین روزے واجب ہوں گے، یعنی کل روزوں کی تعداد 1500 سے زائد بنتی ہے۔ تاہم، چونکہ یہ تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کا پورا کرنا ممکن نہیں لگتا، اس لیے آپ کو چاہیے کہ کسی مستند عالم یا مفتی سے رجوع کر کے اس معاملے میں رہنمائی حاصل کریں۔
نذر کا حکم
نذر ایک شرعی عہد ہے جسے پورا کرنا واجب ہے۔ جب آپ نے ہر بار کے لیے تین روزے رکھنے کی نذر مانی، تو ہر مرتبہ نظر بد کرنے پر آپ پر تین روزے واجب ہو گئے۔ اس لیے آپ پر کل 1500 سے زائد روزے واجب ہیں۔
کیا ایک کفارہ کافی ہے؟
نذر کے کفارے میں ایک بار کفارہ دینے سے تمام نذریں ادا نہیں ہو جاتیں، کیونکہ ہر نذر الگ الگ واجب ہوتی ہے۔ لہٰذا صرف تین روزے رکھنے سے پوری ذمہ داری ختم نہیں ہوگی۔
کیا نذر ختم ہو جائے گی؟
نذر اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک اسے پورا نہ کیا جائے۔ اگر آپ نے ایک بار کفارہ ادا کیا تو اس سے صرف ایک مرتبہ کی نذر ادا ہوگی، باقی نذریں اپنی جگہ باقی رہیں گی۔
عملی رہنمائی
چونکہ روزوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس لیے آپ کو چاہیے کہ:
- سچی توبہ کریں اور آئندہ اس گناہ سے بچنے کا عزم کریں۔
- جتنے روزے رکھ سکیں، رکھیں۔
- باقی روزوں کے لیے کسی مستند عالم سے رجوع کر کے متبادل کفارہ (جیسے فدیہ) کے بارے میں دریافت کریں۔
یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی کمزوریوں کو جانتا ہے اور توبہ کرنے والوں کو معاف فرمانے والا ہے۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ المائدہ، آیت 89 (کفارہ یمین کا بیان)
- صحیح البخاری، کتاب الأیمان والنذور
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الأیمان، باب النذر
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ