Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

بدسلوک بیوی کی وجہ سے طلاق میں حق مہر کا حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

موضوع:* بدسلوک بیوی کی وجہ سے طلاق میں حق مہر سے متعلق فتویٰ کی درخواست

*سوال:*
محترم مفتی صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالیٰ آپ کو خیریت سے رکھے۔

یہ ایک مخلصانہ درخواستِ فتویٰ ہے۔ اللہ رب العزت گواہ ہے کہ یہاں جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ سچ ہے اور اس میں کسی قسم کی مبالغہ آرائی نہیں کی گئی۔

میرے چھوٹے بھائی کا نکاح اونٹاریو، کینیڈا میں ISNA کے تحت ہوا تھا، جہاں نکاح نامے میں حق مہر کی رقم درج تھی، جس کا کچھ حصہ ادا کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے یہ نکاح بیوی کے بار بار جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی ظلم و زیادتی کی وجہ سے طلاق پر منتج ہوا۔ کینیڈین پولیس نے اس عورت پر فردِ جرم عائد کی اور اس کے بعد جب وہ میرے بھائی کی گاڑی توڑ رہی تھی تو اس کے خلاف حفاظتی حکم (restraining order) بھی جاری کیا گیا۔

ہم آپ سے درج ذیل امور میں رہنمائی چاہتے ہیں، فقہِ حنفی اور عمومی فقہی اصولوں کی روشنی میں:

1. جب طلاق بیوی کے ثابت شدہ ظلم و زیادتی کی وجہ سے واقع ہوئی ہو، تو کیا ایسی صورت میں بیوی غیر ادا شدہ حق مہر کی مستحق رہتی ہے؟
2. کیا بیوی کو پہلے سے ادا شدہ حق مہر واپس کرنا لازم ہوگا؟

ہماری سمجھ قرآن (سورۃ النساء: 4، سورۃ الطلاق: 7)، *الہدایہ، رد المحتار* اور معاصر علما جیسے *مفتی تقی عثمانی* اور *دارالعلوم دیوبند* کے فتاویٰ سے یہ ہے کہ اگر نکاح بیوی کے قصور یا بدسلوکی کی وجہ سے ختم ہو، تو وہ غیر ادا شدہ مہر سے محروم ہوجاتی ہے، اور ادا شدہ مہر بھی واپس کرنا لازم ہوسکتا ہے۔

ہم مؤدبانہ طور پر آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ ان اصولوں کی روشنی میں ایک تحریری فتویٰ مرحمت فرمائیں۔

جزاکم اللہ خیراً

بصد احترام


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

آپ کے سوال میں بتائے گئے حالات کے پیش نظر، جہاں بیوی کی طرف سے ثابت شدہ جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی زیادتی کی وجہ سے طلاق واقع ہوئی، فقہ حنفی کی روشنی میں حق مہر سے متعلق رہنمائی پیش ہے۔

غیر ادا شدہ حق مہر کا حکم

فقہ حنفی میں طلاق کے بعد بیوی کا حق مہر اس وقت پورا ادا کرنا لازم ہوتا ہے جب طلاق بغیر بیوی کے قصور کے واقع ہو۔ لیکن اگر طلاق بیوی کی بدسلوکی، نافرمانی یا ظلم کی وجہ سے ہو، تو اس صورت میں فقہا نے بیوی کو غیر ادا شدہ مہر سے محروم کرنے کے جواز پر غور کیا ہے۔

آپ کے بیان کے مطابق، بیوی نے بار بار جسمانی اور ذہنی تشدد کیا، جس پر پولیس نے فرد جرم عائد کی اور حفاظتی حکم جاری کیا۔ یہ ثابت شدہ ظلم و زیادتی ہے۔ اس صورت میں، اگر طلاق شوہر کی طرف سے بیوی کے ظلم کی وجہ سے دی گئی ہو، تو بعض فقہا کے نزدیک بیوی غیر ادا شدہ مہر کی مستحق نہیں رہتی۔

تاہم، یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس میں تفصیلات اہم ہیں۔ مثلاً:

  • کیا طلاق شوہر نے خود دی یا کسی عدالت کے ذریعے خلع ہوئی؟
  • کیا بیوی نے ظلم کا اعتراف کیا یا عدالت میں ثابت ہوا؟
  • کیا نکاح نامے میں کوئی شرط تھی؟

عام اصول یہ ہے کہ اگر بیوی ناشزہ (نافرمان) ثابت ہو، تو شوہر اسے مہر ادا کرنے کا پابند نہیں۔ لیکن یہ فیصلہ کسی مستند مفتی یا قاضی کی موجودگی میں ہی کیا جانا چاہیے۔

ادا شدہ حق مہر کی واپسی

ادا شدہ حق مہر کی واپسی کا حکم اس بات پر منحصر ہے کہ طلاق کی نوعیت کیا ہے۔ اگر طلاق بیوی کی طرف سے خلع (فسخ نکاح) کی صورت میں ہو، تو بیوی کو ادا شدہ مہر واپس کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن اگر شوہر نے خود طلاق دی ہے، تو عام طور پر ادا شدہ مہر واپس نہیں کیا جاتا، جب تک کہ بیوی کی طرف سے کوئی سنگین غلطی ثابت نہ ہو۔

آپ کے معاملے میں، اگر بیوی کا ظلم ثابت ہے، تو بعض فقہا نے ادا شدہ مہر کی واپسی کو بھی جائز قرار دیا ہے، لیکن یہ ایک سخت موقف ہے اور اس کے لیے مضبوط دلائل درکار ہیں۔

خلاصہ اور سفارش

آپ کے بیان کردہ حالات میں، بیوی کا غیر ادا شدہ حق مہر ساقط ہونے کا قوی امکان ہے، لیکن حتمی فیصلہ کسی مستند مفتی یا اسلامی عدالت سے کرانا ضروری ہے۔ ادا شدہ مہر کی واپسی کے لیے بھی مفتی سے رجوع کریں۔

واللہ اعلم بالصواب

حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورۃ النساء (4:4)، سورۃ الطلاق (65:7)
  • الہدایہ، کتاب الطلاق
  • رد المحتار، کتاب النکاح
  • فتاویٰ عثمانی، مفتی محمد تقی عثمانی
  • دارالعلوم دیوبند کے فتاویٰ

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.