سوال:
میں آربیٹریج کے لیے اے آئی بوٹ ٹریڈنگ کے بارے میں جاننا چاہوں گا۔ یہ ایک کینیڈین کمپنی ہے، جسے اے سی سی سی اے ٹی اے آئی کہا جاتا ہے۔ یہ آربیٹریج کے اصول پر کام کرتی ہے، وہ ایک پلیٹ فارم سے سکے خرید رہے ہیں اور دوسرے پلیٹ فارم پر چھوٹے منافع کے ساتھ بیچ رہے ہیں، منافع وہ سرمایہ کار کو 50 فیصد دیتے ہیں۔ ہمیں کم از کم 100 ڈالر سرمایہ کاری کرنی ہوگی اور ایپلیکیشن چلانے کے لیے دن میں صرف 2 منٹ 2 ڈالر حاصل کرنے کے لیے۔ (جب ہم خودکار ٹریڈنگ پر کلک کرتے ہیں تو خرید و فروخت ہوتی ہے) اگر ہم دوسرے لوگوں کو شامل کرتے ہیں تو ہمیں پہلی بار کچھ کمیشن ملتا ہے (20-25 ڈالر) اور ان کا روزانہ کا منافع تھوڑی سی رقم ہوتی ہے اگر وہ ایپ روزانہ چلائیں۔ جتنے زیادہ لوگ ہم شامل کریں گے ہمیں اتنا ہی زیادہ کمیشن ملے گا۔ کیا یہ حلال ہے۔ ویب سائٹ www.acccat.ai
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے اے آئی بوٹ ٹریڈنگ کے بارے میں سوال کیا ہے جو آربیٹریج کے اصول پر کام کرتی ہے۔ اس میں سرمایہ کاری اور کمیشن کے ذریعے منافع کمانا شامل ہے۔ شریعت کی روشنی میں اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
آربیٹریج ٹریڈنگ کا شرعی حکم
آربیٹریج (Arbitrage) کا مطلب ہے ایک پلیٹ فارم سے سستا خرید کر دوسرے پلیٹ فارم پر مہنگا بیچنا۔ یہ ایک جائز تجارتی عمل ہے، بشرطیکہ خرید و فروخت حقیقی اور فوری طور پر ہو، اور سود یا جوا (Gambling) کے عناصر شامل نہ ہوں۔ اگر کمپنی واقعی اس طرح کرتی ہے تو یہ حلال ہو سکتا ہے۔
کمیشن اور ریفرل سسٹم کا حکم
کمپنی دوسرے لوگوں کو شامل کرنے پر کمیشن دیتی ہے۔ یہ ایک قسم کی ملٹی لیول مارکیٹنگ (MLM) ہے۔ اگر کمیشن صرف حقیقی سیلز یا سروس پر مبنی ہو تو جائز ہے، لیکن اگر اس میں درجہ بندی (Hierarchy) اور بغیر کسی حقیقی کام کے کمیشن ملے تو یہ سود اور جوا کے قریب ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر جب کمیشن صرف لوگوں کو شامل کرنے پر ملے، تو یہ دھوکہ دہی اور حرام ہو سکتا ہے۔
روزانہ 2 ڈالر کمانے کا وعدہ
روزانہ 2 ڈالر کمانے کا وعدہ ایک مقررہ منافع ہے، جو سود (Riba) کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اسلامی معاشیات میں منافع کا تناسب پہلے سے طے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ حقیقی کاروبار میں ہونے والے نفع و نقصان پر مبنی ہونا چاہیے۔ اگر کمپنی منافع کی ضمانت دیتی ہے تو یہ سود کے مشابہ ہے۔
خلاصہ اور احتیاط
اس طرح کے پلیٹ فارمز میں اکثر دھوکہ دہی اور غیر یقینی صورتحال ہوتی ہے۔ شریعت میں واضح حکم دینے کے لیے کمپنی کے معاہدے اور طریقہ کار کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہے۔ تاہم، عمومی اصولوں کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ:
- اگر حقیقی خرید و فروخت ہو رہی ہے اور منافع کا تناسب طے نہیں ہے تو یہ جائز ہو سکتا ہے۔
- اگر کمیشن صرف لوگوں کو شامل کرنے پر ملتا ہے تو یہ حرام ہے۔
- روزانہ مقررہ منافع کا وعدہ سود کی طرف لے جاتا ہے۔
بہتر یہ ہے کہ اس طرح کے مشتبہ معاملات سے بچا جائے اور حلال ذرائع سے کمائی کی جائے۔ مزید تفصیل کے لیے کسی مستند مفتی سے رجوع کریں۔
حوالہ جات
- قرآن مجید: سورہ البقرہ، آیت 275 (سود کی حرمت)
- حدیث: "البيع عن تراض” (تجارت باہمی رضامندی سے جائز ہے)
- کتاب: فقہ البیوع، مفتی محمد تقی عثمانی
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ