سوال:
میں ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن بعد میں انہوں نے مجھے بتایا کہ اس کی ماں نے آپ کو ایک بار دودھ پلایا تھا جب آپ ایک سال سے کم تھے۔ میں نے اس کے بارے میں تحقیق کی اور میرے علم کے مطابق قرآن میں اس سے شادی کرنا حرام ہے لیکن دودھ پلانے کی کتنی بار ضرورت ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ حدیث سے مجھے پتہ چلا کہ حضرت عائشہ سے ایک حدیث ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حرام ہونے کے لیے پانچ بار دودھ پلانا ضروری ہے۔ براہ کرم اس مسئلے کے بارے میں میری رہنمائی کریں۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے جو مسئلہ پیش کیا ہے، اس میں رضاعت (دودھ پلانے) کے ذریعے حرمتِ نکاح کا تعلق ہے۔ شریعت میں رضاعت کے کچھ اصول ہیں جن کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ آیا رضاعت سے نکاح حرام ہوا یا نہیں۔
رضاعت سے حرمت کے شرائط
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے رضاعی رشتوں کو محرم قرار دیا ہے، جیسا کہ سورہ نساء میں فرمایا: وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ (النساء: 23) یعنی "اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا، اور تمہاری رضاعی بہنیں”۔ اس آیت میں رضاعت سے حرمت ثابت ہوتی ہے، لیکن اس میں مقدار یا تعداد کا ذکر نہیں۔
رضاعت کی مقدار: کتنی بار دودھ پلانا ضروری ہے؟
اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ (صحیح مسلم) یعنی "ایک یا دو بار چوسنا (دودھ پینا) حرمت پیدا نہیں کرتا”۔ ایک اور روایت میں ہے: خَمْسُ رَضَعَاتٍ مُحَرِّمَاتٌ (صحیح مسلم) یعنی "پانچ بار دودھ پلانا حرمت پیدا کرتا ہے”۔
تاہم، جمہور فقہاء (حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ، حنابلہ) کے نزدیک رضاعت کی مقدار یہ ہے کہ بچہ پیٹ بھر کر دودھ پی لے، خواہ ایک بار ہو یا کئی بار۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی بنیاد پر بعض علماء کہتے ہیں کہ کم از کم پانچ بار دودھ پلانا ضروری ہے۔
آپ کے مسئلے کا حکم
آپ کے مطابق آپ کو اس لڑکی کی ماں نے ایک بار دودھ پلایا تھا جب آپ ایک سال سے کم تھے۔ اس صورت میں:
- اگر آپ نے اس دودھ کو پیٹ بھر کر پیا (یعنی بھوک مٹانے کے لیے کافی مقدار میں)، تو جمہور فقہاء کے نزدیک یہ رضاعت حرمت کے لیے کافی ہے اور آپ کے لیے اس لڑکی سے شادی حرام ہوگی۔
- اگر آپ نے صرف ایک دو بار چوسا اور پیٹ نہیں بھرا، تو جمہور کے نزدیک بھی یہ حرمت کے لیے کافی نہیں، اور حضرت عائشہ کی حدیث کے مطابق بھی پانچ بار ضروری ہیں۔
چونکہ آپ نے بتایا کہ آپ ایک سال سے کم تھے، اس لیے رضاعت کا زمانہ تھا۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ آپ نے کتنی مقدار میں دودھ پیا۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مستند عالم یا مفتی سے رجوع کریں جو آپ کی تفصیلات سن کر صحیح فیصلہ دے سکیں۔
احتیاط کا اصول
اسلام میں نکاح کے معاملے میں احتیاط برتی جاتی ہے۔ اگر رضاعت کے بارے میں شک ہو تو اس سے بچنا چاہیے۔ لہٰذا، اگر آپ کو یقین نہیں کہ آپ نے پیٹ بھر کر دودھ پیا تھا، تو بہتر ہے کہ اس لڑکی سے شادی نہ کریں، کیونکہ بعض علماء کے نزدیک ایک بار بھی کافی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورہ النساء (4:23)
- صحیح مسلم: کتاب الرضاع، حدیث نمبر 1451، 1452
- سنن الترمذی: کتاب الرضاع، حدیث نمبر 1150
- الہدایہ (فقہ حنفی): کتاب النکاح، باب الرضاع
- المغنی (ابن قدامہ): کتاب النکاح، مسألة الرضاع
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ