سوال:
السلام علیکم صاحب میں مسلمان ہوں اور اللہ پر میرا اچھا ایمان تھا لیکن اب اس نے مجھے ایسی حالت میں ڈال دیا ہے کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ میرا خالق ہے وہ میرا کام آسان کیوں نہیں کرتا مجھے لگتا ہے آپ کہیں گے یہ اللہ کی طرف سے امتحان کا حصہ ہے لیکن مجھے منطق چاہیے اور حل اور جس دن میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج نماز پڑھوں گا اور آج اللہ کی پوری عبادت کروں گا اسی دن میرے صحیح کام خراب ہو جاتے ہیں اور غلط اور سب سے بڑا سوال یہ کہ میں اس اللہ یعنی خدا پر کیسے یقین کروں جسے میں نے ابھی تک نہیں دیکھا اور اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جسے میں نے ابھی تک نہیں دیکھا یعنی میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں گا اگر آپ نے میرا یہ مسئلہ حل کر دیا اور آپ نے مجھے جلد جواب دیا
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے جو سوالات اٹھائے ہیں، یہ بہت اہم اور گہرے ہیں۔ یہ احساس کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق کمزور ہو رہا ہے، بہت سے لوگوں کو ہوتا ہے، لیکن اس کا حل موجود ہے۔ آئیے آپ کے سوالات کا منطقی اور شرعی جائزہ لیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ پر ایمان کیوں رکھیں جبکہ ہم نے اسے نہیں دیکھا؟
اللہ تعالیٰ کو دیکھنا اس دنیا میں ممکن نہیں، لیکن اس کے وجود اور صفات کو سمجھنے کے لیے ہمارے پاس بے شمار دلائل ہیں:
- کائناتی دلائل: یہ کائنات اپنے نظام، ترتیب اور حسن سے ایک خالق کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جیسے ایک گھڑی بنانے والے کے بغیر نہیں بن سکتی، ویسے ہی یہ کائنات بغیر خالق کے نہیں ہو سکتی۔
- فطری دلیل: ہر انسان کی فطرت میں اللہ کو ماننے کا جذبہ موجود ہے۔ مصیبت کے وقت لوگ بے اختیار اللہ کو پکارتے ہیں۔
- قرآنی دلیل: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں بیان کی ہیں، جیسے آسمان و زمین کی تخلیق، رات دن کا آنا جانا، اور انسانی پیدائش کا نظام۔
جہاں تک نبی کریم ﷺ پر ایمان کا تعلق ہے، تو آپ ﷺ کی سیرت، تعلیمات اور پیش کردہ نظام زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ﷺ سچے نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بارے میں تاریخی شہادتیں اور آپ کی امت کی موجودگی بھی ایک دلیل ہے۔
مشکلات اور آزمائشیں کیوں آتی ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو امتحان کی جگہ بنایا ہے۔ مشکلات اور پریشانیاں اس امتحان کا حصہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (البقرہ: 155)
ترجمہ: اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف، بھوک، مال، جان اور پھلوں کی کمی سے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔
مشکلات کا مقصد ہمارے ایمان کو مضبوط کرنا، گناہوں سے پاک کرنا، اور صبر و شکر سکھانا ہے۔ جب آپ نیکی کا ارادہ کرتے ہیں اور پھر رکاوٹ آتی ہے، تو یہ شیطان کی طرف سے ہو سکتا ہے جو آپ کو عبادت سے روکنا چاہتا ہے۔ لیکن آپ کو ثابت قدم رہنا چاہیے۔
جب میں عبادت کا وعدہ کرتا ہوں تو کام خراب کیوں ہو جاتے ہیں؟
یہ شیطان کا ایک عام حربہ ہے کہ جب بندہ نیکی کا ارادہ کرتا ہے، تو وہ اسے روکنے کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں: اللہ تعالیٰ آپ کی نیت کو دیکھتا ہے اور آپ کی کوشش کو قبول کرتا ہے۔ اگر آپ سچے دل سے عبادت کا ارادہ کریں اور پھر کوئی رکاوٹ آئے، تو اللہ آپ کو اس کا اجر دے گا۔
حل یہ ہے کہ آپ عبادت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، نہ کہ صرف ایک دن کا وعدہ۔ روزانہ تھوڑی تھوڑی عبادت کریں، اور شیطان کے وسوسوں سے اللہ کی پناہ مانگیں۔
عملی حل
- توبہ اور استغفار: اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ سے معافی مانگیں۔ استغفار سے دل کو سکون ملتا ہے۔
- نماز کو پابندی سے پڑھیں: نماز ایمان کو مضبوط کرتی ہے اور شیطان سے بچاتی ہے۔
- قرآن مجید کی تلاوت کریں: قرآن پڑھنے سے دل کو نور ملتا ہے اور یقین بڑھتا ہے۔
- اللہ کی نشانیوں پر غور کریں: کائنات، اپنے جسم، اور اپنے ارد گرد کی چیزوں پر غور کریں۔
- صبر اور دعا: مشکلات پر صبر کریں اور اللہ سے مدد مانگیں۔
یاد رکھیں، ایمان ایک سفر ہے، منزل نہیں۔ اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کے لیے مسلسل کوشش کرنی ہوتی ہے۔ اگر آپ کو مزید مدد کی ضرورت ہو تو کسی عالم یا معتبر شیخ سے رجوع کریں۔
حوالہ جات
- قرآن مجید: سورہ البقرہ، آیت 155
- صحیح بخاری: کتاب الایمان
- تفسیر ابن کثیر: سورہ البقرہ کی تفسیر
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ