سوال:
کیا اسٹیمر، انہیلر نیبولائزر، پف مشین کا استعمال روزہ باطل کرتا ہے یا نہیں۔ کیا کچھ پیٹ تک پہنچتا اور داخل ہوتا ہے؟ استفتا سوالنامہ جب روزہ دار شخص دمہ یا سائنس یا کسی اور قسم کی سانس کی نالی کے انفیکشن وغیرہ میں مبتلا ہو کر ان میں سے کسی طریقہ کار کو استعمال کرتا ہے، تو کیا کوئی پانی، بھاپ کی دھند، دوائیں، ذرات وغیرہ اندر داخل ہوتے ہیں اور اس کے پیٹ تک پہنچتے ہیں یا نہیں؟ 1- اسٹیمر مشین سے یا ابلتے ہوئے پانی کے برتن/ہانڈی سے بھاپ لینا۔ 2- پف کا استعمال۔ 3- انہیلر کا استعمال۔ 4- نیبولائزر مشین کا استعمال۔ براہ کرم بتائیں کہ اگر روزہ دار شخص یہ چیزیں کرتا ہے تو کیا اس کا روزہ اب بھی درست رہے گا یا فوراً باطل ہو جائے گا؟ ان طریقوں سے پیٹ میں کچھ داخل ہونے کے بارے میں سائنسدانوں، پلمونولوجسٹ ماہر ڈاکٹروں اور بڑے شریعت کے علماء کا اتفاق رائے کیا ہے؟ +923230511895 aulahsan@gmail.com
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
روزہ کی حالت میں دمہ، سانس کی نالی کے انفیکشن یا دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے بھاپ لینا، پف، انہیلر یا نیبولائزر کا استعمال ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا ان طریقوں سے کوئی چیز پیٹ تک پہنچتی ہے یا نہیں۔
بھاپ (Steam) لینا
بھاپ لینے میں پانی کے بخارات منہ اور ناک کے ذریعے اندر جاتے ہیں، لیکن یہ بخارات پیٹ تک نہیں پہنچتے بلکہ سانس کی نالی میں جذب ہو جاتے ہیں۔ اس لیے بھاپ لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
پف (Puff) کا استعمال
پف میں دوا کے ذرات منہ میں چھوڑے جاتے ہیں، جو زیادہ تر منہ اور گلے میں جذب ہو جاتے ہیں اور پیٹ تک نہیں پہنچتے۔ اس لیے پف استعمال کرنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔
انہیلر (Inhaler) کا استعمال
انہیلر سے دوا کی باریک بوندیں یا پاؤڈر پھیپھڑوں تک پہنچتا ہے، معدے میں نہیں۔ جدید طبی تحقیق کے مطابق انہیلر کی دوا کا کوئی قابل ذکر حصہ معدے میں نہیں جاتا، اس لیے اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔
نیبولائزر (Nebulizer) کا استعمال
نیبولائزر مشین سے دوا کی باریک دھند بنتی ہے جو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں جاتی ہے۔ یہ دھند معدے میں نہیں جاتی، اس لیے اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔
علماء اور ڈاکٹروں کا اتفاق رائے
جمہور علماء اور ماہرین طب کے مطابق ان تمام طریقوں میں کوئی چیز پیٹ تک نہیں پہنچتی، بلکہ یہ سانس کی نالی میں جذب ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ان کے استعمال سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔ تاہم، اگر کوئی شخص ان میں سے کسی طریقے سے دوا نگل لے (مثلاً پانی پینے کی غلطی) تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
بہتر یہ ہے کہ احتیاطاً رات میں ان ادویات کا استعمال کیا جائے، لیکن اگر دن میں استعمال ضروری ہو تو روزہ برقرار رہے گا۔
حوالہ جات
- الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد الصوم
- بحوث فقهیہ فی قضایا طبیہ معاصرہ، ڈاکٹر محمد سعید رمضان البوطی
- مجمع الفقہ الاسلامی کے فتویٰ نمبر 185 (2009) میں انہیلر اور نیبولائزر کو روزہ کے لیے جائز قرار دیا گیا ہے۔
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ