سوال:
یں اس وقت مسلمان ہوں، لیکن میں یہ سوال کرنا چاہتا/چاہتی ہوں کہ اگر میں تکلیف، خطرات، اور دین سے جڑے صدموں کی وجہ سے اسلام چھوڑ دوں، اس لیے کہ مجھے ذہنی الجھن ہے، دنیا میں بہت سے مذاہب ہیں اور مجھے سکون محسوس نہیں ہو رہا، اور میں غیر مسلم بن جاؤں، پھر کبھی اسلام کی طرف واپس نہ آؤں، اور غیر مسلم ہی حالت میں میری موت ہو جائے — تو کیا میں سیدھا جہنم میں جاؤں گا/جاؤں گی؟
یا یہ معاملہ میرے اور اللہ کے درمیان ہوگا، اور اللہ میری حالت کو سمجھ سکتا ہے، مجھے معاف کر سکتا ہے، اور اگر اسلام حق ہے تو میری کیفیت، بچپن سے محرومی اور تکلیف کو جانتے ہوئے مجھے جنت میں بھی داخل کر سکتا ہے؟
میں جہنم سے بہت ڈرا ہوا/ہوئی ہوں، اس لیے براہِ کرم میری رہنمائی کریں۔ میں نے ایک مفتی، مفتی زید سے پوچھا تھا، انہوں نے کہا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا، مجھے معافی مل سکتی ہے۔ میں اسی بات کی دوبارہ تصدیق چاہتا/چاہتی ہوں۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے جو سوال کیا ہے، یہ بہت اہم اور حساس ہے۔ آپ کی تکلیف اور الجھن کو سمجھا جا سکتا ہے، لیکن دین اسلام میں کفر و ارتداد کے بارے میں واضح احکام ہیں۔
ارتداد کا حکم
اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اور دلی رضا مندی سے اسلام چھوڑ دیتا ہے اور پھر توبہ نہیں کرتا، تو قرآن و حدیث میں اسے سخت وعید سنائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَنْ يَرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (البقرہ: 217)
ترجمہ: ”اور تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے اور کافر ہو کر مرے، تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت ہو جائیں گے اور وہ جہنمی ہیں، ہمیشہ اس میں رہیں گے۔“
کیا اللہ آپ کی مجبوری کو سمجھے گا؟
اللہ تعالیٰ بے حد رحیم اور عادل ہے۔ وہ ہر شخص کی نیت، مجبوری، اور حالات کو جانتا ہے۔ لیکن ارتداد کا گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتا جب تک بندہ توبہ کر کے اسلام میں واپس نہ آئے۔ اگر کوئی شخص اسلام چھوڑ کر مر جائے، تو اس کی مغفرت کا امکان نہیں ہے، کیونکہ اس نے حق کو جان بوجھ کر رد کیا۔
مفتی زید کے جواب کی وضاحت
مفتی زید نے جو کہا کہ ”سب ٹھیک ہو جائے گا“، شاید ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر آپ سچے دل سے توبہ کریں اور اسلام میں واپس آ جائیں، تو اللہ معاف کر دے گا۔ لیکن اگر آپ بغیر توبہ کے مر گئے، تو معافی کی کوئی ضمانت نہیں۔
آپ کے لیے مشورہ
آپ جہنم سے ڈرتے ہیں، تو یہ ڈر آپ کے لیے رحمت ہے۔ اسے اپنے لیے واپسی کا ذریعہ بنائیں۔ اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو سکون اور ہدایت عطا فرمائے۔ اسلام چھوڑنے کے بجائے، اپنے مسائل کا حل قرآن و سنت میں تلاش کریں۔ کسی مستند عالم یا مفتی سے اپنی پریشانیاں شیئر کریں۔
نتیجہ
اگر آپ اسلام چھوڑ کر غیر مسلم مریں گے، تو قرآن کے مطابق آپ جہنم میں جائیں گے۔ لیکن اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ ابھی وقت ہے، توبہ کریں اور اسلام پر ثابت قدم رہیں۔ اللہ آپ کی مجبوریوں کو جانتا ہے، لیکن اس کا حکم یہی ہے کہ ارتداد پر موت تک اصرار کرنے والے کے لیے جنت نہیں۔
حوالہ جات
- قرآن مجید: سورۃ البقرہ، آیت 217
- صحیح بخاری، کتاب الردۃ
- تفسیر ابن کثیر، زیر آیت 217
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ