سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم شیخ، میرے پاس درج ذیل سوال ہے: 1۔ میں نے اللہ کی قسم کھائی تھی کہ اگر میں کبھی بدتمیزی کی زبان استعمال کروں یا ایک بار بھی غصہ ہو جاؤں تو ہر واقعے کے لیے میں 1000 دن کے روزے رکھوں گا۔ 2۔ اب ایسا ہو گیا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ میرے لیے 1000 روزے رکھنا ممکن نہیں ہے۔ اس صورت میں، کیا قسم کا کفارہ—10 غریب لوگوں کو کھانا کھلانا—میرے اوپر واجب ہے؟ 3۔ نیز، میرے پاس کافی پیسے نہیں ہیں، کیونکہ میں ابھی بالغ نہیں ہوں، میں طالب علم ہوں اور جو بھی پیسے میرے پاس ہیں وہ میری والدہ کے پاس ہیں، اور وہ مجھے ایسی رقم نہیں دیں گی۔ اس صورت میں، کیا میں کفارہ ادا کرنے کے لیے 3 روزے رکھ سکتا ہوں؟ براہ کرم اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے جو قسم کھائی تھی کہ غصہ کرنے یا بدزبانی کرنے پر 1000 روزے رکھوں گا، یہ قسم اللہ کے نام پر تھی، اس لیے اس کا حکم شرعی قسم کا ہے۔ جب آپ نے یہ قسم توڑ دی (یعنی غصہ کیا یا بدزبانی کی) تو اب آپ پر قسم کا کفارہ واجب ہو گیا ہے۔
قسم توڑنے کا کفارہ کیا ہے؟
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ ۖ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(سورۃ المائدہ: 89)
اس آیت کی روشنی میں قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے:
- دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا، یا
- دس مسکینوں کو کپڑے دینا، یا
- ایک غلام آزاد کرنا
اور اگر ان میں سے کوئی بھی ممکن نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھے۔
آپ کی صورتِ حال میں کیا حکم ہے؟
آپ نے قسم میں 1000 روزوں کا ذکر کیا تھا، لیکن شرعی طور پر قسم توڑنے کا کفارہ وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے، نہ کہ 1000 روزے۔ آپ کی قسم میں 1000 روزوں کا ذکر ایک قسم کے اندر ایک اضافی شرط تھی، لیکن جب آپ نے قسم توڑی تو صرف شرعی کفارہ واجب ہوتا ہے، نہ کہ وہ تعداد جو آپ نے خود مقرر کی تھی۔ لہٰذا آپ پر 1000 روزے رکھنا واجب نہیں ہے۔
کیا آپ تین روزے رکھ سکتے ہیں؟
کفارہ میں تین روزے اس وقت رکھے جا سکتے ہیں جب آپ کے پاس دس مسکینوں کو کھانا کھلانے یا کپڑے دینے کی استطاعت نہ ہو۔ آپ نے بتایا کہ آپ طالب علم ہیں اور آپ کے پاس اتنی رقم نہیں ہے، اور آپ کی والدہ بھی رقم نہیں دیں گی۔ اس صورت میں آپ تین روزے رکھ سکتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ یہ تین روزے لگاتار ہونے چاہئیں، جیسا کہ جمہور فقہاء کے نزدیک راجح ہے۔
اہم نکتہ: آپ کی عمر اور بالغ ہونے کا مسئلہ
آپ نے ذکر کیا کہ آپ بالغ نہیں ہیں۔ اگر آپ نابالغ ہیں تو آپ پر قسم کا کفارہ واجب نہیں ہوتا، کیونکہ نابالغ پر شرعی احکام لازم نہیں ہوتے۔ لیکن اگر آپ بالغ ہیں (یعنی آپ کو احتلام ہو چکا ہے یا عمر 15 سال سے زیادہ ہے) تو پھر کفارہ واجب ہے۔ براہ کرم اس بات کو یقینی بنائیں۔
خلاصہ
- آپ پر 1000 روزے رکھنا واجب نہیں ہے۔
- قسم توڑنے کا شرعی کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑے دینا ہے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو تین روزے رکھے۔
- اگر آپ بالغ ہیں اور آپ کے پاس کھانا کھلانے کی استطاعت نہیں تو تین روزے رکھیں۔
- اگر آپ نابالغ ہیں تو آپ پر کچھ بھی واجب نہیں، لیکن بہتر ہے کہ آئندہ قسم نہ کھائیں۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات
- سورۃ المائدہ: 89
- صحیح بخاری، کتاب الأیمان والنذور
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الأیمان
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ