سوال:
سلام، میرے شوہر اور میرے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ وہ بہت ناراض تھا اور میں نے اسے اور غصہ دلایا کہ اس سے کہا کہ مجھے طلاق دے دے اور مجھے میرے والدین کے گھر بھیج دے۔ اس نے مجھے جانے کو کہا اور تین بار طلاق کہا۔ اب وہ کہہ رہا ہے کہ وہ اسے ایک بار کہہ رہا تھا اور یہ بھی یاد نہیں رہے گا کہ اس نے یہ کہا تھا۔ سچ کہوں تو مجھے بھی اسے یاد رکھنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ جب وہ غصے میں ہوتا ہے تو وہ کبھی بھی نہیں یاد رکھتا کہ اس نے کیا کہا تھا اور اکثر مجھ سے کہتا ہے کہ میں نے یہ نہیں کہا تھا۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اسے یاد نہیں رہتا۔ ہم کیا کریں؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کے سوال میں دو اہم پہلو ہیں: ایک یہ کہ شوہر نے غصے کی حالت میں تین بار طلاق کہا، اور دوسرا یہ کہ اسے یاد نہیں کہ اس نے کتنی بار کہا۔ شریعت میں طلاق کے احکام بہت سنجیدہ ہیں، لہٰذا اس معاملے کو احتیاط اور مکمل تحقیق کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
غصے کی حالت میں طلاق کا حکم
عام طور پر غصے کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے، بشرطیکہ شوہر ہوش میں ہو اور اسے معلوم ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اگر غصہ اتنا شدید ہو کہ عقل و ہوش پر اثر پڑ جائے اور انسان کو اپنی بات کا علم نہ رہے، تو ایسی طلاق کا حکم مختلف ہے۔ تاہم، آپ کے شوہر کو بعد میں یاد نہ رہنا اس بات کی دلیل نہیں کہ اس وقت وہ بے ہوش تھا۔
تین طلاق کا حکم
اگر شوہر نے ایک ہی مجلس میں تین بار طلاق کہی، تو جمہور فقہا کے نزدیک یہ تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اور نکاح ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم، بعض فقہا (خاص طور پر حنفی مسلک میں) اسے ایک ہی طلاق شمار کرتے ہیں اگر تینوں ایک ساتھ کہی گئی ہوں۔ لیکن موجودہ دور میں زیادہ تر علماء تین طلاق کو تین ہی مانتے ہیں۔
یادداشت کا مسئلہ
آپ دونوں کو یاد نہیں کہ کتنی بار طلاق کہی گئی، تو اس صورت میں اصل بات یہ ہے کہ شوہر نے کیا کہا۔ اگر اسے یقین ہے کہ اس نے صرف ایک بار کہا، تو اس کا اعتبار کیا جائے گا، بشرطیکہ اس کی عادت نہ ہو کہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔ لیکن اگر اسے بالکل یاد نہیں، تو پھر احتیاط کا تقاضا ہے کہ اسے ایک طلاق شمار کیا جائے، کیونکہ یقین کے ساتھ تین طلاق ثابت نہیں ہو سکتیں۔
عملی حل
اس معاملے میں کسی مستند مفتی یا عالم سے رجوع کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہاں تفصیلات اور گواہیوں کی ضرورت ہے۔ آپ دونوں کو چاہیے کہ کسی مقامی مفتی صاحب سے مل کر پوری صورت حال بیان کریں۔ وہ آپ کے شوہر کی عادت اور غصے کی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے صحیح فیصلہ دیں گے۔
اگر ممکن ہو تو اس واقعے کے وقت جو کچھ ہوا، اسے لکھ کر رکھیں اور کسی تیسرے شخص کی گواہی بھی لے سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، طلاق کا معاملہ بہت سنگین ہے، اسے ہلکے سے نہ لیں۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 229-230
- صحیح بخاری، کتاب الطلاق
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الطلاق
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ