سوال:
میں ایک شارٹ ٹرم رینٹل کاروبار ایئر بی این بی کے ذریعے چلاتا ہوں۔ ضروری اجازت نامے حاصل کرنے کے لیے، میں نے ایک مخصوص دستاویز میں جعل سازی کی۔ یہ یہاں ایک عام عمل ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ پلیٹ فارم اور حکومت اس پر نظر انداز کرتی ہیں کیونکہ شہر میں سیاحتی رہائش کی بہت زیادہ مانگ ہے۔' 'میں پوری طرح سے واقف ہوں کہ جعل سازی حرام (ممنوع) ہے۔ تاہم، میں ان پراپرٹیز کے انتظام میں بہت زیادہ جسمانی محنت اور کام کرتا ہوں—صفائی، دیکھ بھال، مہمانوں کی پذیرائی، اور گھروں کو سجانے کا کام کرتا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے: کیا میں جو آمدنی کماتا ہوں اس کا پورا حصہ 'حرام' سمجھا جاتا ہے، حالانکہ میں اصل محنت اور تھکاوٹ برداشت کرتا ہوں؟ کیا کاغذات کی غیر قانونی نوعیت میری محنت سے پیدا ہونے والے تمام منافع کو باطل کر دیتی ہے؟' 'میں ایک مشکل صورتحال میں ہوں۔ یہ پراپرٹیز فی الحال میرے لیے کافی آمدنی پیدا کرتی ہیں، لیکن میرا ضمیر پریشان ہے۔ میں اس صورتحال میں کیا کروں؟ کیا مجھے منافع کے باوجود یہ کاروبار مکمل طور پر بند کرنا پڑے گا، یا کیا اسے درست کرنے اور ایک جائز راستہ تلاش کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟'
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے اپنے سوال میں ایک اہم مسئلہ اٹھایا ہے۔ جہاں آپ جانتے ہیں کہ جعل سازی حرام ہے، وہیں آپ اپنی محنت اور تھکاوٹ کی وجہ سے پریشان ہیں کہ کیا آپ کی ساری کمائی حرام ہے؟ اس کا جواب شریعت کی روشنی میں یہ ہے کہ جعل سازی ایک حرام فعل ہے، اور اس کے ذریعے حاصل کردہ اجازت نامہ بھی ناجائز ہے۔ لہٰذا اس ناجائز ذریعے سے کمائی گئی آمدنی میں حرام کا عنصر شامل ہے۔
کیا ساری آمدنی حرام ہے؟
عام طور پر جب کوئی کاروبار کسی حرام چیز پر مبنی ہو (جیسے جعل سازی)، تو اس کاروبار سے حاصل ہونے والی پوری آمدنی ناپاک (حرام) سمجھی جاتی ہے، چاہے اس میں محنت بھی شامل ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بنیاد ہی ناجائز ہے۔ تاہم، اگر آپ نے جعل سازی کے علاوہ دیگر تمام کام جائز طریقے سے کیے ہیں، تو آپ کی محنت کی اجرت الگ سے متعین کی جا سکتی ہے، لیکن مجموعی آمدنی کو حلال نہیں کہا جا سکتا۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
فوری طور پر جعل سازی سے باز آئیں
سب سے پہلے آپ کو اس گناہ سے توبہ کرنی چاہیے اور جعل سازی کا عمل فوری طور پر بند کر دینا چاہیے۔ توبہ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس فعل پر نادم ہوں، اسے چھوڑ دیں، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کریں۔
کاروبار کو جائز بنانے کی کوشش کریں
آپ کو قانونی اور شرعی طریقے سے اجازت نامے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو اصل دستاویزات درست کروائیں اور حکام سے معاملہ حل کریں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو اس کاروبار کو ختم کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔
گزشتہ آمدنی کا کیا کریں؟
گزشتہ آمدنی کے بارے میں علماء کا کہنا ہے کہ جتنی رقم جعل سازی کی وجہ سے حاصل ہوئی، اسے صدقہ کرنا چاہیے، لیکن اس کا ثواب نیت نہ کریں بلکہ اسے اپنے اوپر سے بوجھ اتارنے کے لیے دیں۔ البتہ اگر آپ کو یقین ہو کہ آپ کی محنت کی اجرت اس رقم سے الگ کی جا سکتی ہے، تو اس بارے میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
نتیجہ
آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ فوری طور پر توبہ کریں، کاروبار کو جائز بنانے کی کوشش کریں، اور اگر ممکن نہ ہو تو اسے چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور حلال روزی میں برکت عطا فرماتا ہے۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 188 (مال کو ناحق طریقے سے کھانے کی ممانعت)
- صحیح بخاری: حدیث نمبر 2052 (حلال و حرام کا بیان)
- فتاویٰ ہندیہ: کتاب الکراہیہ (جعل سازی اور دھوکہ دہی کا حکم)
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ