سوال:
اگر کوئی شخص قسم کھاتا ہے کہ اب سے ہر معاملے میں حنفی مسلک کی پیروی کرے گا، اور پھر اسے ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں ضرورت کے تحت بعض مسائل میں دوسرے مسلک کی پیروی کرنی پڑتی ہے، تو کیا اسے ہر ایک ایسے واقعے کے لیے کفارہ ادا کرنے کی ضرورت ہے جہاں وہ پابندی نہیں کرتا؟ اگر کوئی شخص قسم کھاتا ہے کہ اب سے ہر معاملے میں حنفی مسلک کی پیروی کرے گا، تو کیا یہ قسم پہلے ہی تمام مسائل کا احاطہ نہیں کرتی؟ تو اگر وہ ایک معاملے میں اس کی پیروی کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ قسم ٹوٹ گئی ہے؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ وہ ہر معاملے میں حنفی مسلک پر عمل کرے گا، اور پھر کسی مجبوری یا ضرورت کی بنا پر دوسرے مسلک پر عمل کرنا پڑے، تو اس صورت میں قسم کے ٹوٹنے اور کفارہ کے بارے میں تفصیل درج ذیل ہے۔
قسم کا حکم
قسم ایک سنجیدہ معاہدہ ہے، اور اسے توڑنا عام طور پر کفارہ کا موجب بنتا ہے۔ لیکن اس کا انحصار قسم کی نیت اور الفاظ پر ہے۔
کیا ایک بار قسم توڑنے سے تمام معاملات میں قسم ٹوٹ جاتی ہے؟
نہیں، عام طور پر ایک قسم جس میں "ہر معاملے” کا ذکر ہو، وہ ایک جامع قسم ہوتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک بار خلاف ورزی کرنے سے پوری قسم ایک ہی بار ٹوٹ جائے گی۔ بلکہ ہر بار جب کوئی ایسا عمل کیا جائے جو قسم کے خلاف ہو، تو وہ ایک علیحدہ خلاف ورزی شمار ہوگی، اور ہر خلاف ورزی پر الگ کفارہ واجب ہوگا۔
ضرورت کی صورت میں استثنا
اگر کسی مسئلے میں شرعی ضرورت یا مجبوری ہو، جیسے کہ حنفی مسلک میں کسی مسئلے کا حل نہ مل سکے یا شدید تنگی ہو، تو دوسرے مسلک پر عمل کرنا جائز ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں اگر نیت یہ ہو کہ قسم صرف عام حالات کے لیے تھی، ضرورت کے وقت نہیں، تو شاید قسم نہ ٹوٹے۔ لیکن اگر قسم میں کوئی شرط نہیں لگائی گئی، تو پھر بھی خلاف ورزی شمار ہوگی۔
کفارہ کا حکم
اگر قسم ٹوٹ جائے تو کفارہ ادا کرنا ضروری ہے۔ کفارہ یہ ہے: دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑے پہنانا، یا ایک غلام آزاد کرنا۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھنے۔
ہر بار جب قسم کی خلاف ورزی ہو، الگ کفارہ واجب ہوگا۔ لہٰذا اگر کئی مواقع پر دوسرے مسلک پر عمل کیا گیا، تو ہر ایک کے لیے علیحدہ کفارہ دینا ہوگا۔
نتیجہ
بہتر یہ ہے کہ ایسی قسم سے گریز کیا جائے، کیونکہ مسلک کی پابندی پر قسم کھانا ضروری نہیں۔ اگر پہلے ہی قسم کھا لی ہے تو جہاں ممکن ہو حنفی مسلک پر عمل کریں، اور جہاں مجبوری ہو وہاں دوسرے مسلک پر عمل کرنے کے بعد کفارہ ادا کریں۔ تاہم، اس مسئلے میں تفصیلات کے لیے کسی مستند مفتی سے رجوع کرنا بہتر ہوگا۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ المائدہ، آیت 89 (کفارہ یمین کا بیان)
- صحیح البخاری، کتاب الأیمان والنذور
- فتاوی ہندیہ، کتاب الأیمان
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ