سوال:
میں نے ایک بج جمع کرائی اور ایک معاہدہ جیت لیا۔ معاہدہ جاری ہونے کے بعد، مجھے احساس ہوا کہ میں نے مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پیش کی تھی اور اس قیمت پر مطلوبہ سرگرمیاں انجام نہیں دے سکتا تھا۔ جب مجھے یہ معلوم ہوا، تو میں نے معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا اور معاہدہ جاری کرنے والی تنظیم کے پروجیکٹ انجینئر کو مطلع کیا۔ انجینئر نے مجھے بتایا کہ ایک اور تنظیم نے پہلے ہی معاہدے کی کچھ سرگرمیاں انجام دے دی ہیں، اس لیے ان اشیاء کو میرے معاہدے سے کٹوتی کر دی جائے گی۔ ایک سرکاری افسر اور معاہدہ جاری کرنے والی تنظیم کے ایک نمائندے نے اس کٹوتی پر اتفاق کیا، اور ہم نے کم کردہ دائرہ کار کی بنیاد پر عمل درآمد جاری رکھا۔ کام شروع ہونے کے بعد، ایک سرکاری افسر نے رشوت کا مطالبہ کیا: اس نے کہا کہ مجھے اب اسے نقد میں کنویں کا پمپ (مساوی قیمت) دینا ہوگا کیونکہ کنویں کا پمپ نصب ہو چکا ہے۔ میں نے انکار کر دیا۔ افسر نے اصرار کیا کہ اگر میں پمپ (یا نقد) فراہم نہیں کرتا، تو مجھے کام نافذ کرنے سے روک دیا جائے گا۔ افسر نے دلیل دی کہ اسلامی قانون کے تحت پمپ یا نقد دینا جائز ہے، اور اس نے ہم پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالا۔ میں نے مزاحمت کی اور اب شریعت کے مطابق ایک واضح حکم چاہتا ہوں: کیا ان حالات میں رشوت دینا یا پمپ/نقد حوالے کرنا جائز ہے؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے جو صورتحال بیان کی ہے، اس میں ایک سرکاری افسر آپ سے رشوت کا مطالبہ کر رہا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ یہ شرعاً جائز ہے۔ یہ بات سراسر غلط ہے۔ اسلام میں رشوت دینا اور لینا دونوں سخت حرام ہیں۔
رشوت کی حرمت
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرہ: 188) ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس اس غرض سے پیش کرو کہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناحق کھا جاؤ، حالانکہ تم جانتے ہو۔
حدیث شریف میں ہے: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ وَالرَّائِشَ (سنن ابی داود) یعنی رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے، لینے والے اور اس میں درمیانی کرنے والے پر لعنت فرمائی۔
کیا رشوت دینا جائز ہو سکتا ہے؟
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر رشوت دے کر اپنا حق حاصل کیا جا رہا ہو یا ظلم سے بچا جا رہا ہو تو جائز ہے، لیکن یہ بات درست نہیں۔ رشوت ہر صورت میں حرام ہے، خواہ اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے۔
مجبوری کی صورت میں
اگر آپ کو شدید مجبوری ہو، مثلاً جان کا خطرہ ہو، تو اس صورت میں بھی رشوت دینے کی گنجائش نہیں ہے، البتہ اگر کوئی اور راستہ نہ ہو تو صرف اتنی رقم دے سکتے ہیں جس سے جان بچ سکے، لیکن یہ بھی انتہائی مجبوری کی صورت میں ہے۔ آپ کی صورت میں ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے۔
آپ کے لیے شرعی حکم
آپ پر رشوت دینا حرام ہے، چاہے افسر کتنا بھی دباؤ ڈالے۔ آپ کو سختی سے انکار کرنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اگر آپ رشوت دیں گے تو گناہ کے مرتکب ہوں گے اور اللہ کی لعنت کے مستحق ہوں گے۔
عملی مشورے
- افسر کو واضح طور پر بتا دیں کہ آپ شرعی طور پر رشوت نہیں دے سکتے۔
- اگر ممکن ہو تو اس کی شکایت اعلیٰ افسران یا محکمہ انسداد بدعنوانی میں کریں۔
- اگر کام روک دیا جائے تو قانونی چارہ جوئی کریں۔
- اللہ سے دعا کریں اور صبر کریں، اللہ بندے کی مدد کرتا ہے۔
یاد رکھیں، رشوت دینے والا بھی گناہ گار ہے اور لینے والا بھی۔ آپ کو اپنے دین اور آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 188
- سنن ابی داود، کتاب الأقضیۃ، باب فی الرشوة
- صحیح مسلم، کتاب المساقاة، باب تحريم الرشوة
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ