سوال:
السلام علیکم مفتی صاحب۔ کیا زکٰوۃ کا نصاب صرف سونے کی بنیاد پر حساب کیا جا سکتا ہے؟ میری بہن کے پاس تقریباً 45 گرام سونا اور تھوڑی سی رقم ہے۔ کیا میں اپنی بہن کو زکٰوۃ دے سکتا ہوں؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے۔
زکٰوۃ کے نصاب کا حساب
زکٰوۃ کے نصاب کا تعین سونے اور چاندی دونوں کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، موجودہ دور میں چاندی کا نصاب (تقریباً 612.36 گرام چاندی) زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس سے زیادہ لوگ زکٰوۃ کے دائرے میں آتے ہیں اور غریبوں کی مدد ہوتی ہے۔ اگر آپ صرف سونے کا نصاب (85 گرام سونا) لیں گے تو بہت سے لوگ زکٰوۃ سے محروم رہ جائیں گے۔
آپ کی بہن کے پاس 45 گرام سونا ہے، جو سونے کے نصاب (85 گرام) سے کم ہے، لیکن اگر اس کے پاس تھوڑی سی رقم بھی ہے تو اسے ملا کر دیکھیں کہ کیا وہ چاندی کے نصاب کی مالیت کو پہنچتی ہے؟ اگر چاندی کے نصاب کی مالیت (مثلاً موجودہ قیمت کے مطابق) پوری ہو جائے تو اس پر زکٰوۃ فرض ہے۔ ورنہ نہیں۔
بہن کو زکٰوۃ دینے کا حکم
بہن کو زکٰوۃ دینا جائز ہے، بشرطیکہ وہ زکٰوۃ کی مستحق ہو (یعنی غریب یا مسکین ہو) اور اس کا شوہر اس کی کفالت نہ کرتا ہو۔ اگر آپ کی بہن غریب ہے اور اس کے پاس نصاب سے کم مال ہے تو آپ اسے زکٰوۃ دے سکتے ہیں۔ تاہم، اگر وہ خود صاحب نصاب ہے تو اسے زکٰوۃ دینا جائز نہیں۔
نوٹ: یہ جواب عمومی معلومات پر مبنی ہے، حتمی فتویٰ کے لیے کسی مستند مفتی سے رجوع کریں۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ التوبہ، آیت 60 (مصارف زکٰوۃ)
- صحیح البخاری، کتاب الزکٰوۃ
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الزکٰوۃ
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ