سوال:
السلام علیکم، میں ایک شادی کے پیغام کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔ میرا خاندان مجھ سے جلدی "ہاں یا نہیں” کا جواب مانگ رہا ہے، لیکن مجھے ممکنہ دلہن سے ملنے یا بات کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا ہے۔ میں غیر یقینی اور دباؤ محسوس کر رہا ہوں۔ میں فی الحال اپنے خاندانی کاروبار میں شامل ہوں، جسے میں نے ذاتی طور پر منتخب نہیں کیا تھا، اور میں مالی استحکام کے لیے الگ آمدنی کا ذریعہ بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس وجہ سے، مجھے یقین نہیں ہے کہ میں شادی کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔
میرے سوالات یہ ہیں:
1) کیا فیصلہ کرنے سے پہلے ممکنہ شریک حیات سے ملنا اور بات کرنا جائز ہے؟
2) اگر میں تیار محسوس نہیں کرتا تو کیا پیغام کو ملتوی کرنا یا مسترد کرنا قابل قبول ہے؟
3) میں خاندانی دباؤ کو اسلامی طور پر مناسب طریقے سے کیسے سنبھالوں؟ جزاکم اللہ خیرا۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کا سوال بہت اہم ہے اور اس میں شادی کے عمل کے تین بنیادی پہلوؤں پر رہنمائی طلب کی گئی ہے: ممکنہ شریک حیات سے ملاقات، ذاتی تیاری، اور خاندانی دباؤ کا سامنا۔ اسلام نے ان تمام معاملات میں واضح رہنمائی فراہم کی ہے۔
1) کیا فیصلہ کرنے سے پہلے ممکنہ شریک حیات سے ملنا اور بات کرنا جائز ہے؟
جی ہاں، اسلام میں شادی سے پہلے ممکنہ شریک حیات سے ملنا اور اس سے بات کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ مستحب (پسندیدہ) ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ، فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا، فَلْيَفْعَلْ” (سنن ابو داود، حدیث: 2082) ترجمہ: "جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو پیغام دے، تو اگر وہ اسے دیکھ سکتا ہے جو اسے اس سے نکاح کی طرف راغب کرے، تو اسے ایسا کرنا چاہیے۔”
لیکن یہ ملاقات شریعت کے حدود میں ہونی چاہیے، یعنی کسی محرم کی موجودگی میں اور بے تکلفی سے گریز کرتے ہوئے۔ اس کا مقصد ایک دوسرے کو سمجھنا اور یہ دیکھنا ہے کہ کیا دونوں ایک دوسرے کے لیے مناسب ہیں۔ نہ کہ مروجہ طریقہ سے لمبی لمبی ملاقاتیں اور باتیں کرنا، البتہ کوئی ضروری بات ہوتو اس کی گنجائش ہوسکتی ہے، آپ کو اپنے خاندان سے واضح طور پر کہنا چاہیے کہ آپ شریعت کے مطابق اس عورت سے ملنا چاہتے ہیں تاکہ آپ باخبر فیصلہ کر سکیں۔
2) اگر میں تیار محسوس نہیں کرتا تو کیا پیغام کو ملتوی کرنا یا مسترد کرنا قابل قبول ہے؟
ہاں، اگر آپ مالی، جذباتی یا کسی اور وجہ سے شادی کے لیے تیار نہیں ہیں، تو پیغام کو ملتوی کرنا یا مسترد کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں ضروری بھی ہو سکتا ہے۔ اسلام نے شادی کو آسان بنانے کی تلقین کی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَلَا یُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا” (البقرہ: 286) ترجمہ: "اللہ کسی جان کو اس کی گنجائش سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔”
اگر آپ مالی طور پر مستحکم نہیں ہیں یا آپ واقعی شادی کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار نہیں ہیں، تو بہتر ہے کہ آپ اس وقت تک انتظار کریں جب تک آپ تیار نہ ہو جائیں۔ تاہم، اس میں بلاوجہ تاخیر مناسب نہیں اور شریعت کے مزاج کے خلاف ہے خصوصًا آج کے پرفتن دور میں جتنا جلدی ہوسکے نکاح اور شادی کرلینی چاہیئے کیونکہ خاتم الانبیاء رسولِ کبریاء ﷺ کا فرمان کا مفہوم ہے کہ نکاح نگاہوں کو حرام دیکھنے اور شرم گاہوں کو زناء سے بچانے والا ہے۔
3) میں خاندانی دباؤ کو اسلامی طور پر مناسب طریقے سے کیسے سنبھالوں؟
خاندانی دباؤ کو سنبھالنے کے لیے درج ذیل نکات پر عمل کریں:
- عزت اور احترام سے بات کریں: اپنے والدین اور خاندان کے ساتھ نرمی اور احترام سے پیش آئیں۔ انہیں سمجھائیں کہ آپ ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں، لیکن آپ کو اپنی زندگی کے اس اہم فیصلے کے لیے وقت اور غور و فکر کی ضرورت ہے۔
- اپنی تشویشات واضح کریں: انہیں بتائیں کہ آپ مالی طور پر مستحکم ہونے کے لیے کام کر رہے ہیں اور آپ شادی کی ذمہ داریاں اٹھانے سے پہلے اپنی صورتحال بہتر کرنا چاہتے ہیں۔
- شریعت کا حوالہ دیں: انہیں بتائیں کہ اسلام میں شادی سے پہلے ممکنہ شریک حیات سے ملنا جائز ہے، اور آپ اس موقع کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ آپ باخبر فیصلہ کر سکیں۔
- دعا کریں: اللہ تعالیٰ سے اپنے معاملات میں آسانی اور بہتری کی دعا کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَسَلَهُ” (مسند احمد) ترجمہ: "جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے (نیک کاموں کی) توفیق دیتا ہے۔”
یاد رکھیں، شادی ایک اہم عہد ہے اور اسے جلد بازی میں نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اسے بلاوجہ موخر کرنا بھی درست نہیں۔ اپنے خاندان کے ساتھ کھلی اور ایماندارانہ گفتگو کریں، اور اللہ سے مدد مانگیں۔
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ