Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
میرا خاندان مجھ سے جلدی "ہاں یا نہیں” کا جواب مانگ رہا ہے، لیکن مجھے ممکنہ دلہن سے ملنے یا بات کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا ہے۔ میں غیر یقینی اور دباؤ محسوس کر رہا ہوں۔ میں فی الحال اپنے خاندانی کاروبار میں شامل ہوں، جسے میں نے ذاتی طور پر منتخب نہیں کیا تھا، اور میں مالی استحکام کے لیے الگ آمدنی کا ذریعہ بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس وجہ سے، مجھے یقین نہیں ہے کہ میں شادی کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔ میرے سوالات یہ ہیں: 1) کیا فیصلہ کرنے سے پہلے ممکنہ شریک حیات سے ملنا اور بات کرنا جائز ہے؟ 2) اگر میں تیار محسوس نہیں کرتا تو کیا پیغام کو ملتوی کرنا یا مسترد کرنا قابل قبول ہے؟ 3) میں خاندانی دباؤ کو اسلامی طور پر مناسب طریقے سے کیسے سنبھالوں؟ جزاکم اللہ خیرا۔

سوال:

السلام علیکم، میں ایک شادی کے پیغام کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔ میرا خاندان مجھ سے جلدی "ہاں یا نہیں” کا جواب مانگ رہا ہے، لیکن مجھے ممکنہ دلہن سے ملنے یا بات کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا ہے۔ میں غیر یقینی اور دباؤ محسوس کر رہا ہوں۔ میں فی الحال اپنے خاندانی کاروبار میں شامل ہوں، جسے میں نے ذاتی طور پر منتخب نہیں کیا تھا، اور میں مالی استحکام کے لیے الگ آمدنی کا ذریعہ بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس وجہ سے، مجھے یقین نہیں ہے کہ میں شادی کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔
میرے سوالات یہ ہیں:
1) کیا فیصلہ کرنے سے پہلے ممکنہ شریک حیات سے ملنا اور بات کرنا جائز ہے؟
2) اگر میں تیار محسوس نہیں کرتا تو کیا پیغام کو ملتوی کرنا یا مسترد کرنا قابل قبول ہے؟
3) میں خاندانی دباؤ کو اسلامی طور پر مناسب طریقے سے کیسے سنبھالوں؟ جزاکم اللہ خیرا۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کا سوال بہت اہم ہے اور اس میں شادی کے عمل کے تین بنیادی پہلوؤں پر رہنمائی طلب کی گئی ہے: ممکنہ شریک حیات سے ملاقات، ذاتی تیاری، اور خاندانی دباؤ کا سامنا۔ اسلام نے ان تمام معاملات میں واضح رہنمائی فراہم کی ہے۔

1) کیا فیصلہ کرنے سے پہلے ممکنہ شریک حیات سے ملنا اور بات کرنا جائز ہے؟

جی ہاں، اسلام میں شادی سے پہلے ممکنہ شریک حیات سے ملنا اور اس سے بات کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ مستحب (پسندیدہ) ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ، فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا، فَلْيَفْعَلْ” (سنن ابو داود، حدیث: 2082) ترجمہ: "جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو پیغام دے، تو اگر وہ اسے دیکھ سکتا ہے جو اسے اس سے نکاح کی طرف راغب کرے، تو اسے ایسا کرنا چاہیے۔”

لیکن یہ ملاقات شریعت کے حدود میں ہونی چاہیے، یعنی کسی محرم کی موجودگی میں اور بے تکلفی سے گریز کرتے ہوئے۔ اس کا مقصد ایک دوسرے کو سمجھنا اور یہ دیکھنا ہے کہ کیا دونوں ایک دوسرے کے لیے مناسب ہیں۔ نہ کہ مروجہ طریقہ سے لمبی لمبی ملاقاتیں اور باتیں کرنا، البتہ کوئی ضروری بات ہوتو اس کی گنجائش ہوسکتی ہے، آپ کو اپنے خاندان سے واضح طور پر کہنا چاہیے کہ آپ شریعت کے مطابق اس عورت سے ملنا چاہتے ہیں تاکہ آپ باخبر فیصلہ کر سکیں۔

2) اگر میں تیار محسوس نہیں کرتا تو کیا پیغام کو ملتوی کرنا یا مسترد کرنا قابل قبول ہے؟

ہاں، اگر آپ مالی، جذباتی یا کسی اور وجہ سے شادی کے لیے تیار نہیں ہیں، تو پیغام کو ملتوی کرنا یا مسترد کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں ضروری بھی ہو سکتا ہے۔ اسلام نے شادی کو آسان بنانے کی تلقین کی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَلَا یُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا” (البقرہ: 286) ترجمہ: "اللہ کسی جان کو اس کی گنجائش سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔”

اگر آپ مالی طور پر مستحکم نہیں ہیں یا آپ واقعی شادی کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار نہیں ہیں، تو بہتر ہے کہ آپ اس وقت تک انتظار کریں جب تک آپ تیار نہ ہو جائیں۔ تاہم، اس میں بلاوجہ تاخیر مناسب نہیں اور شریعت کے مزاج کے خلاف ہے خصوصًا آج کے پرفتن دور میں جتنا جلدی ہوسکے نکاح اور شادی کرلینی چاہیئے کیونکہ خاتم الانبیاء رسولِ کبریاء ﷺ کا فرمان کا مفہوم ہے کہ نکاح نگاہوں کو حرام دیکھنے اور شرم گاہوں کو زناء سے بچانے والا ہے۔

3) میں خاندانی دباؤ کو اسلامی طور پر مناسب طریقے سے کیسے سنبھالوں؟

خاندانی دباؤ کو سنبھالنے کے لیے درج ذیل نکات پر عمل کریں:

  • عزت اور احترام سے بات کریں: اپنے والدین اور خاندان کے ساتھ نرمی اور احترام سے پیش آئیں۔ انہیں سمجھائیں کہ آپ ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں، لیکن آپ کو اپنی زندگی کے اس اہم فیصلے کے لیے وقت اور غور و فکر کی ضرورت ہے۔
  • اپنی تشویشات واضح کریں: انہیں بتائیں کہ آپ مالی طور پر مستحکم ہونے کے لیے کام کر رہے ہیں اور آپ شادی کی ذمہ داریاں اٹھانے سے پہلے اپنی صورتحال بہتر کرنا چاہتے ہیں۔
  • شریعت کا حوالہ دیں: انہیں بتائیں کہ اسلام میں شادی سے پہلے ممکنہ شریک حیات سے ملنا جائز ہے، اور آپ اس موقع کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ آپ باخبر فیصلہ کر سکیں۔
  • دعا کریں: اللہ تعالیٰ سے اپنے معاملات میں آسانی اور بہتری کی دعا کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَسَلَهُ” (مسند احمد) ترجمہ: "جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے (نیک کاموں کی) توفیق دیتا ہے۔”

یاد رکھیں، شادی ایک اہم عہد ہے اور اسے جلد بازی میں نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اسے بلاوجہ موخر کرنا بھی درست نہیں۔ اپنے خاندان کے ساتھ کھلی اور ایماندارانہ گفتگو کریں، اور اللہ سے مدد مانگیں۔

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

Share it :
Muhammad Yaseen
Muhammad Yaseen

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

اپریل 29, 2026
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
اپریل 29, 2026
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
اپریل 29, 2026
عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔
اپریل 29, 2026
اپریل 29, 2026
اپریل 29, 2026

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.