Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
متفرق مسائل

دلوں کا حال جاننے کا عقیدہ

  • جون 22, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • جون 22, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاتہ۔ میں ایک بات جاننا چاہتا ہوں۔ میں بچپن سے یہ جانتا اور مانتا تھا کہ صرف اللہ ہی لوگوں کے دلوں کا حال جانتا ہے۔ لیکن ایک بار میں نے کفر کیا۔ میں نے یقین کر لیا کہ اللہ نے کچھ لوگوں کو ایسی طاقت دی ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کے دلوں کا حال جان سکتے ہیں۔ مجھے اس وقت یہ احساس نہیں ہوا کہ یہ جھوٹا عقیدہ ہے اور میرا خیال مکمل طور پر غلط تھا۔ میں نے کفر کی نیت سے ایسا نہیں کیا۔ کیا یہ میری جہالت ہے؟ کیا مجھے اس کا حساب دینا ہوگا اور کیا اس وقت میری نمازیں اور دعائیں درست اور قبول ہیں؟ میں نے کچھ شیوخ سے پوچھا اور انہوں نے کہا کہ یہ میری جہالت تھی اور میرے پچھلے نماز اور دعائیں درست اور قبول ہیں۔ شیخ نے کہا کہ تمہارے ذہن میں ایک غلط عقیدہ پیدا ہوا تھا۔ یہ قرآن کا جان بوجھ کر انکار نہیں ہے۔


الجواب باسمہ تعالیٰ:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ دلوں کے پوشیدہ حالات، سینوں کے راز، اور حقیقی علمِ غیب کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ کسی انسان، جن، فرشتے، ولی یا بزرگ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ بذاتِ خود، مستقل طور پر، ہر شخص کے دل کا حال جانتا ہے، درست عقیدہ نہیں ہے؛ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص صفت میں غیر اللہ کو شریک سمجھنے کے خطرناک معنی تک پہنچ سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

﴿قُلْ إِنْ تُخْفُوا مَا فِي صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ اللّٰهُ﴾

ترجمہ: آپ کہہ دیجئے کہ تم اپنے سینوں کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ اسے جانتا ہے۔ سورۃ آل عمران: 29

اور فرمایا:

﴿وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ﴾

ترجمہ: تم اپنی بات آہستہ کہو یا بلند آواز سے کہو، بے شک اللہ سینوں کے بھیدوں کو خوب جاننے والا ہے۔ سورۃ الملک: 13

اسی طرح علمِ غیب کے بارے میں ارشاد ہے:

﴿قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللّٰهُ﴾

ترجمہ: آپ کہہ دیجئے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ سورۃ النمل: 65

علمِ غیب کا صحیح عقیدہ

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے فتویٰ میں علمِ غیب کی تعریف یوں نقل کی گئی ہے:

“علم غیب اس علم کو کہا جاتاہے جو کسی واسطے کے بغیر، اور بنا کسی کے بتائے حاصل ہو، اور ایسا علم صرف اللہ رب العزت کا ہے، اس کے علاوہ کوئی عالم الغیب نہیں ہے۔”

اسی فتویٰ میں کفایت المفتی کے حوالہ سے ہے:

“علمِ غیب حضرت حق تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ آں حضرت ﷺ کو حق تعالیٰ نے اس قدر مغیبات کا علم عطا فرمادیا تھا کہ ہم اس کا احصار نہیں کرسکتے۔ اور ہمارا عقیدہ ہے کہ آں حضرت ﷺ کا علم حضرت حق تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ ہے، مگر باوجود اس کے حضور ﷺ عالم الغیب نہ تھے؛ کیوں کہ علمِ غیب کے معنی یہ ہیں کہ وہ بغیر واسطہ حواس اور بغیر کسی کے بتائے ہوئے حاصل ہو اور حضور ﷺ کا تمام علم حضرت حق تعالیٰ کے بتانے سے حاصل ہوا ہے۔”

اس سے معلوم ہوا کہ اصل عقیدہ یہ ہے کہ حقیقی، ذاتی، مستقل اور بلاواسطہ علمِ غیب صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ بعض غیبی خبریں بتا دیتے ہیں، مگر وہ اللہ کے بتانے سے ہوتی ہیں، ذاتی علمِ غیب نہیں کہلاتیں۔ اولیاء یا صالحین کے بارے میں بھی اگر کبھی کوئی کشف یا الہام کی بات بیان کی جائے تو وہ یقینی شرعی حجت نہیں، اور نہ اس سے یہ عقیدہ بنانا درست ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں کا حال مستقل طور پر جانتے ہیں۔

آپ کے سوال کا حکم

آپ نے اپنی سوال میں یہ وضاحت کی ہے کہ:

  1. پہلے آپ کا صحیح عقیدہ تھا کہ دلوں کا حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔
  2. بعد میں آپ کے ذہن میں ایک غلط عقیدہ پیدا ہوا۔
  3. آپ نے قرآن کریم کا جان بوجھ کر انکار نہیں کیا۔
  4. اس وقت آپ کو مسئلہ کی حقیقت معلوم نہیں تھی۔
  5. آپ کی کفر کی نیت نہیں تھی۔
  6. بعد میں آپ کو ندامت ہوئی اور آپ نے اہلِ علم سے رجوع کیا۔

اس تفصیل کی بنا پر آپ پر فوراً کفر کا حکم لگانا درست نہیں؛ بلکہ یہ جہالت، غلط فہمی اور عقیدے کی غلط تعبیر کی صورت معلوم ہوتی ہے۔ البتہ یہ عقیدہ غلط تھا، اس لیے آپ کو اس سے توبہ و استغفار کرنی چاہیے اور آئندہ کے لیے صحیح عقیدہ مضبوط کرنا چاہیے۔

بنوری ٹاؤن کے ایک فتویٰ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے “عالم الغیب” کا عقیدہ رکھنے والے کے بارے میں مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا گیا ہے:

“عالم الغیب اور حاضر و ناظر ہونا اللہ تعالیٰ کی صفاتِ خاصہ میں سے ہے، صفاتِ خاصہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ صفات کسی دوسری ہستی میں نہیں پائی جاسکتیں، البتہ رسول اللہ ﷺ کو جو لوگ ’’عالم الغیب‘‘ کہتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں ان کا یہ عقیدہ قرآن و حدیث کی نصوصِ صریحہ کے خلاف ہے، اور ایسا عقیدہ رکھنے والے کو "گم راہ” کہاجاسکتاہے، لیکن کافر نہیں کہا جائے گا؛ کیوں کہ ان کے اس عقیدہ میں تاویل کی گنجائش ہے، اور کفر کے باب میں نہایت احتیاط و حزم کی ضرورت ہے۔”

اسی اصول سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی بات میں تاویل، جہالت یا غلط فہمی کا احتمال موجود ہو، اور آدمی قرآن کا جان بوجھ کر انکار نہ کر رہا ہو، تو اسے فوراً کافر قرار نہیں دیا جاتا۔

کیا یہ محض وسوسہ تھا یا غلط عقیدہ؟

اگر صرف آپ کے دل میں کوئی خیال آیا تھا، اور آپ نے اسے پختہ عقیدہ بنا کر اختیار نہیں کیا تھا، تو ایسے خیالات کے بارے میں حدیث شریف میں بڑی بشارت ہے:

«إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ»

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے میری امت کو ان خیالات پر معاف فرمایا ہے جو ان کے دلوں میں آتے ہیں، جب تک وہ ان پر عمل نہ کریں یا انہیں زبان سے نہ کہیں۔ (صحیح البخاری، حدیث: 5269)

لیکن اگر آپ نے کچھ عرصہ اس غلط بات کو واقعی درست سمجھا تھا تو یہ محض وسوسہ نہیں، بلکہ غلط عقیدہ یا جہالت کی صورت تھی۔ ایسی صورت میں توبہ، استغفار اور صحیح عقیدہ کی تجدید ضروری ہے۔ تاہم آپ کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق چونکہ یہ قرآن کا جان بوجھ کر انکار نہیں تھا، کفر کی نیت نہیں تھی، اور جہالت و غلط فہمی کی وجہ سے تھا، اس لیے آپ پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔

نمازوں اور دعاؤں کا حکم

آپ کی بیان کردہ صورت کے مطابق جب آپ پر کفر کا حکم نہیں لگایا جا رہا، بلکہ اسے جہالت اور غلط فہمی کی صورت قرار دیا جا رہا ہے، تو اس عرصے کی آپ کی نمازیں اصولاً درست ہیں، انہیں دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

دعاؤں کے بارے میں بھی یہی حکم ہے کہ آپ کی دعائیں درست تھیں۔ البتہ ان کی قبولیت کا قطعی فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ بندہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ فلاں دعا یقینی طور پر قبول ہوئی یا نہیں ہوئی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے اور اس سے مغفرت طلب کرتے رہنا چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ»

ترجمہ: اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 2564)

لہٰذا جب آپ کو اپنی غلطی پر ندامت ہے، آپ صحیح عقیدہ اختیار کرچکے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ رہے ہیں، تو آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہرگز ناامید نہیں ہونا چاہیے۔

احتیاطاً آپ کیا کریں؟

آپ کے لیے بہتر ہے کہ:

  1. سچے دل سے توبہ و استغفار کریں۔
  2. یہ عقیدہ مضبوطی سے اختیار کریں کہ دلوں کا حقیقی اور یقینی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
  3. احتیاطاً کلمۂ شہادت پڑھ کر ایمان کی تجدید کرلیں۔
  4. اگر آپ شادی شدہ ہیں تو مزید اطمینان کے لیے کسی مستند دارالافتاء سے اپنی مکمل صورت بیان کرکے نکاح کے بارے میں بھی رہنمائی حاصل کرلیں، اگرچہ مذکورہ تفصیل کے مطابق آپ پر کفر کا حکم نہیں لگایا جا رہا۔
  5. آئندہ عقائد کے نازک مسائل مستند علماء سے سیکھیں اور غیر مستند ذرائع پر اعتماد نہ کریں۔

صحیح عقیدہ مختصراً

صحیح عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی دلوں کے راز، نیتیں، چھپی ہوئی باتیں اور غیب کو حقیقی طور پر جانتا ہے۔ کسی نبی، ولی، بزرگ، جن یا فرشتے کو اللہ تعالیٰ کے برابر یا مستقل طور پر دلوں کا حال جاننے والا سمجھنا درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ جس نبی کو جو غیبی خبر بتا دے، وہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے ہوتی ہے، ذاتی علمِ غیب نہیں ہوتی۔

خلاصہ حکم

  1. دلوں کا حال حقیقی طور پر صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔
  2. بعض لوگوں کو مستقل طور پر دلوں کا حال جاننے کی طاقت حاصل ہے، یہ عقیدہ درست نہیں۔
  3. آپ کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق یہ قرآن کا جان بوجھ کر انکار نہیں تھا، بلکہ جہالت اور غلط فہمی تھی، اس لیے آپ پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔
  4. اس عرصے کی آپ کی نمازیں درست ہیں، دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔
  5. آپ کی دعائیں بھی درست تھیں، البتہ قبولیت اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔
  6. آپ توبہ و استغفار کریں، صحیح عقیدہ مضبوط کریں، اور وسوسوں میں مبتلا نہ ہوں۔
  7. احتیاطاً ایمان کی تجدید کر لینا بہتر ہے۔

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینے اور نس بندی کا حکم

دلوں کا حال جاننے کا عقیدہ

بار بار چوٹ لگنا اور والدین کی توجہ نہ ملنا: اسلامی رہنمائی

ایک 18 سالہ مسلمان کے لیے فقہ الاولویات کی روشنی میں ترجیحات کا تعین

حج کے بعد بھورے مادے کی حالت میں طواف وداع کا حکم

والد کا درگاہ سے لائے گئے پھول موٹر سائیکل پر رکھنا اور بیٹے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینے اور نس بندی کا حکم
جون 22, 2026
Read More »
دلوں کا حال جاننے کا عقیدہ
جون 22, 2026
Read More »
بار بار چوٹ لگنا اور والدین کی توجہ نہ ملنا: اسلامی رہنمائی
جون 22, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.